Guman e Zanjeer episode # 5 - Urdu Novel

 

Guman e Zanjeer

Episode # 5

ہاسپٹل سے واپسی پر جب وہ گھر پہنچی تو ثانیہ بیگم نے اسے کمرے میں بلایا۔

"تمھارے بھائی نے مجھ سے تمھارے ایڈمیشن کی بات کی ہے۔ کہتا ہے اس نے تمھیں اجازت دے دی ہے، لیکن ساتھ ایک شرط بھی رکھی ہے۔"

"شرط؟" یہ لفظ سن کر اسے حیرانی ہوئی۔ "کیسی شرط...؟"

"یہی کہ تمھارا نکاح سراج علی سے ہوگا۔" اس کی ماں نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور ساتھ ہی اپنی دوا ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئیں۔

"نکاح... کیا...؟ امی، میں ابو کے بغیر نکاح کیسے کر سکتی ہوں؟ نہیں، بالکل نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا!" پریشانی سے اس کے سر میں ہلکا درد شروع ہو گیا۔

"اور ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟" ماں نے گولی منہ میں رکھ کر پانی سے نگلی۔ انھیں دل کا عارضہ تھا۔ 
"لوگ کیا کہیں گے؟ کہ ایسی کون سی آگ لگی تھی کہ باپ کومے میں ہے اور لڑکی نکاح کر رہی ہے؟" اسے جو بہانہ ملا، بنا دیا۔

"تو کیا وہ تمھارے کے سرگودھا یونیورسٹی جانے پر نہیں کہیں گے؟" انھوں نے آنکھیں سکوڑیں۔

"تو آپ کیا چاہتی ہیں کہ میری زندگی کے اس اہم موقع پر وہ شخص موجود نہ ہو، جو خود کھانے سے پہلے اپنا نوالہ ہمارے منہ میں ڈالتے تھے؟"

اس کی بات پر ماں کا دل پسیج گیا۔ وہ بھی چاہتی تھیں کہ نور زہرہ کا نکاح تبھی ہو جب حیدر صاحب کومے سے باہر آ جائیں۔ انھیں یقین تھا کہ وہ جلد ہی کومے سے باہر آ جائیں گے کیونکہ انھیں اللہ پر بھروسہ تھا۔ لیکن ان کا بیٹا... اب وہ اسے کیا کہیں گی؟

------------------


لیکچر لینے کے بعد رضا بغیر اس سے بات کیے نکل گیا تھا، جس پر اسے پریشانی ہوئی تو وہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے نکلا۔  
"رضا، رضا  یار بات تو سنو" وہ اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔  
"اگر تم نہ رکے تو تمہاری وہ حرکت میں نے تمہارے ابو کو بتا دینی ہے" وہ اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔

"ادریس کی بات سنتا وہ ٹھہر گیا۔ وہ جلدی سے پلٹا۔  
"کون سی بات ادریس؟" وہ اپنے باپ سے بہت ڈرتا تھا۔ اگر شکایت لگ گئی تو اس کی پاکٹ منی بند ہو جانی تھی، پھر وہ کیا کرتا؟

"پہلے تم بتاؤ، ناراض تو نہیں ہو؟" ادریس پاس ہی بینچ پر بیٹھ گیا۔  
"نہیں نہیں میں کیوں ناراض ہونے لگا؟ تم مجھے بتاؤ نا" وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ 
حالانکہ وہ ہلکا سا خفا تھا اس سے، لیکن پھر بھی شکایت کے ڈر سے اس نے
 کہا، "میں ناراض نہیں ہوں۔"
وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ دونوں کی نگاہیں سامنے فوارے پر تھیں، جہاں سے پانی خوبصورت انداز میں ایک خاص پیٹرن سے نکل رہا تھا۔

"یعنی تمہیں ابھی تک اسی بات کی پڑی ہوئی ہے؟ بجائے اس کے کہ تم مجھے مناؤ، تمہیں یہی فکر ہے کہ میں نے اس لڑکی کو گھورا تھا" رضا نے کہا۔
رضا ابھی بول ہی رہا تھا کہ ادریس کی گھوری پر فوراً لائن پر آ گیا۔  
"اچھا اچھا، میں نے گھورا نہیں تھا، بس ویسے ہی دیکھا تھا۔ پلیز پاپا کو نہ بتانا۔ آئندہ احتیاط کروں گا" رضا نے منتی لہجے میں کہا ۔
"مجھے پتہ ہے رضا، تم نے اسے دیکھا تھا۔ تمہارا مقصد غلط نہیں تھا۔ لیکن یہ لوگ کسی لڑکے کا لڑکی کو دیکھنے کا مطلب اور ہی لیتے ہیں۔ تمہارا تو کچھ نہیں جائے گا، لیکن وہ  یہی کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت کیا ہے؟"

ادریس نے یہ کہتے ہوئے اس کا کندھا تھپکا۔
 کوئی ادریس جواد کو بتائے کہ وہ کتنا پیارا بولتا تھا۔ 
اس کے الفاظ  پاس سے گزرتی لڑکی کے  دل پر نقش ہو گئے تھے۔
رضا بھی اس کی بات سمجھ گیا تھا۔
"ہاں ہاں سمجھ گیا بابا" رضا  نے ہاتھ جوڑے۔ 
"اب  پاپا کو مت بتانا۔ ورنہ میری پاکٹ منی گئی اور تمہارا دوست بھی گیا۔"  
ادریس ہنس پڑا۔"چل شاباش۔ لیٹ ہو رہے ہیں۔ "
اور دونوں مسکراتے ہوئے کلاس کی طرف بھاگے۔
---------------

جا ری ہے

Episode # 1 Link                                                           Previous Episode Link

Guman e Zanjeer episode # 5 - Urdu Novel


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.