نا ول
Episode # 5
شا دی کے ا یک سا ل بعد ا سے یہ خو شخبر ی ملی کہ وہ ما ں بننے و ا لی تھی اس کے لیے یہ ا حسا س ہی بڑا خو شگوار
تھا کہ جنت اس کے قد مو ں تلے آ نے و ا لی تھی ا سے اب ا پنی ما ں کی ا پنے لیے جو فکر یں تھی وہ سب ٹھیک لگ ر ہی تھی پہلے ا سے لگتا تھا کہ ا می کو بس و ہم ہے آج جب وہ خو د ا س مر تبے پر فا ئز ہو نے وا لی تھی تو ا سے پتہ چلا تھا کہ ما ں کا فکر کر نا کیسا تھا ا س کے بر عکس ا بر ا ہیم کا رو یہ بس نا ر مل تھا وہ بس عنا د ل کی خو شی میں خو ش تھا اس کی ز ند گی کا د ا ئر ہ کا ر تو صر ف وہ ہی تھی اور کسی چیز کی تو جیسے ا سے کو ئی پر و ا ہ ہی نہیں تھی
جبکہ ا بر ا ہیم کی بہن مد یحہ اور عنا دل کے ما ں با پ کی خو شی کا کو ئی ٹھکا نہ نہ تھااس ما ں ا سے کہہ ر ہی تھی مگر ان خو شیو ں کا خا تمہ اس دن ہو ا تھا جب ڈا کڑ نے ا نہیں یہ کہا تھا۔
”ا بر ا ہیم صا حب آپ کی بیو ی کو بر ین ٹیو مر ہے“۔
اور ا بر ا ہیم کو لگا تھا جیسے ہسپتا ل کی چھت اس کے سر پر گر پڑی ہو۔ عنا دل کے ما ں بننے کی خو شخبر ی کے تین ما ہ بعد ہی اس سر درد کی شکا یت ر ہنے لگی تھی جو کہ شر و ع میں تو عا م پین کلر سے ختم ہو جا تا تھا لیکن آ ہستہ آ ہستہ د رد بڑ ھنا شر وع ہو گیا تھا اور تین مہینو ں میں اس کی حا لت بگڑ نے لگی تھی جس کی و جہ آج ان کے سا منے تھی۔
”کیا کہہ ر ہی ہیں آپ ڈا کڑ صا حبہ وہ چھ ما ہ پہلے تو بلکل ٹھیک تھی اور ان چھ ما ہ میں تھو ڑا بہت سر درد تھا اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بر ین ٹیو مر“اس کی سا نس پھو ل چکی تھی اور آنکھیں پا نی سے بھر چکی تھی جب کہ د روا زے پر کھڑ ی عنا د ل کی حا لت بھی ا س سے کچھ کم نہ تھی۔
”آپ کو ضر ور کو ئی غلط فہمی ہو ئی ہو گی ہے نہ آپ پھر سے چیک کر ے“ وہ خو د پر قا بو پا تے ہو ئے بو لا تھا۔
”د یکھیں آپ خو د پر قا بو ر کھے مجھے کو ئی غلط فہمی نہیں ہو ئی ہے آپ چا ہے تو ا ور جگہو ں سے کنفر م کر سکتے ہیں لیکن آپ حو صلہ رکھے ا بھی ان کی ا بتد ا ئی سٹیج ہے اس پر قا بو پا نا مشکل نہیں ہے لیکن“۔ ڈ ا کڑ اس کو حو صلہ د یتے ہو ئے بو لی تھی لیکن ا بر ا ہیم کو تو جیسے کچھ سمجھ نہیں آ ر ہا تھا۔
” لیکن کیا ڈا کڑ صا حبہ“وہ جو خو د کو سنبھا لنے کی نا کا م کو شش کر ر ہا تھا ڈ ا کڑ کی ا گلی با ت پر جیسا پھر سے ہل کر رہ گیا تھا۔
”لیکن آپ کو بچے کو گیو آپ کر نا ہو گا اس کے بعد ہی ان کا علا ج شر و ع ہو سکتا ہے آدر و ا ئز مشکل ہو جا ئے گا“ اور عنا د ل کو لگا تھا جیسے اس کا د ل کسی نے مٹھی لے کر زور سے د با د یا ہو وہ د ھیر ے سے چلتی با ہر پڑ ے بینچ پر آ کر بیٹھ گئی تھی ا یسا کیسے ہو سکتا تھا ا بھی تو اس نے ا ن خو شیو ں کو محسو س کر نا شر و ع ہی کیا تھا جو اس
ا تنی جلدی چھین بھی گئی تھی۔
اس د ن کے ا بر ا ہیم پا گلو ں کی طر ح ہر ہو سپیٹل پھر ا تھا ا س کا با ر با ر چیک ا پ کر وا یا تھا ہر جگہ ا یک ہی ر ز لٹ تھا ا سے یقین نہیں آ رہا تھا اسے تو ابھی عنا د ل کے سا تھ پو ری د نیا کو د یکھنا تھا اس کے سا تھ بو ڑھا ہو نا تھا اور نہ جا نے ا بھی ا ور کتنے اور خو ا ب تھے جو ا سے پو ر ے کر نے تھے ا س نے تو ا بھی اس کے سا تھ جینا ہی شر و ع کیا تھا ڈا کڑ اس کو حو صلہ د ے ر ہے کہ وہ ا بھی قا بل علا ج ہے پر ا سے تو جیسے یہ سا ر ی با تیں کھو کھلی لگ ر ہی تھی ا سے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عنا د ل کا سا منا کیسے کر ے ا سے یہ سب کیسے بتا ئے آج ا یک ہسپتا ل سے بات کر کے گھر لو ٹا تو سا منے عنا د ل بیٹھی اس کاا نتظا ر کر ر ہی تھی یہ ا تنے د نو ں میں پہلی با ر ہو ا تھا نہیں جس د ن سے بیما ر ی کا پتہ چلا تھا د و نو ں ہی ا یک د و سر ے سے نظر یں چر ا ر ہے تھے شا ید سچ سے بھا گنا چا ہ ر ہے تھے مگر کبھی نہ کبھی تو اس کا سا منا کر نا ہی تھاتو عنا د ل نے با ت کر نے کا فیصلہ کیا۔
”آ گئے آپ“ وہ خو شگو ا ر لہجے میں بو لی تھی۔
”ہمم“ وہ بجھے سے لہجے میں بو لا ا ور تھکے ا ندا ز میں صو فے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”کھا نا لگو ا ؤ ں آپ کے لیے وہ اس کے تھکے ہو ئے چہر ے کو د یکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”نہیں بھو ک نہیں ہے“ وہ آ نکھو ں پر با زو ر کھتے ہو ئے بو لا اس کی حا لت د یکھ کر عنا نے دو ٹو ک با ت کر نے کا سو چا۔
”ا بر ا ہیم ا یسا کب تک چلے گا جس د ن سے ہم ہو سپیٹل سے آئے ہیں آپ ٹھیک سے نہ بات کر تے ہیں نہ کھا نا کھا تے ہیں کچھ ہے جو آ پ کو پر یشا ن کر ر ہا ہے آپ مجھ سے با ت کر ے ہم مل کر کو ئی نہ کو ئی حل
نکا ل لے گے“ وہ اس کا با زو پکڑ کر اس کی آ نکھو ں سے ہٹا تی ہو ئی بو لی وہ چا ہتی تھی وہ خو د اس سے با ت کر تا جو اس کے د ل و د ما غ میں چل رہا تھا ا س سے ڈ سکس کر تا۔
”کچھ بھی نہیں یا ر بس تھو ڑا تھک گیا ہو ا چھا یہ بتا ؤ تم نے کھا نا کھا یا“ وہ ا سے پر یشا ن د یکھ خو د کو سنبھا ل کر
ہلکا سا مسکر ا تا ہو بو لا تھا جب کے اس مسکر ا ہٹ کے پیچھے کا د رد صا ف نظر آ ر ہا تھا۔
”نہیں میں آپ کا ا نتظا ر کر ر ہی تھی کہ سا تھ کھا ئے گے“ د و نو ں ہی ا پنے ا ندر کا درد چھپا نے کی نا کا م کو شش کر ر ہے تھے۔
”پا گل ہو تم یا ر تمہا ر ی حا لت ا یسی ہے ا و پر سے کھا نا بھی کھا ر ہی ٹھیک سے چلو کھا تے ہیں چل کے“ وہ اٹھتے ہو ئے بو لا تھا۔
”کھانے کی میز پر خا مو شی تھی عا م طو ر پر اس و قت عنا ا سے ا پنے د ن بھر کی سا ری مصر و فیت اسے بتا ر ہی ہو تی تھی کھا نا کھا تے ا بر ا ہیم کے کا نو ں میں ڈ ا کڑ کی آ وا زیں گو نج ر ہی تھی
”آپ کی و ا ئف کا ٹیو مر کا فی نا ز ک جگہ پر ہے ا و پر یٹ بہت مشکل ہے جا ن کا خطر ہ بھی ہو سکتا ہے جتنا ڈیلے کر ے گے خطر ہ بڑ ھتا جا ئے گا آ پ کو جلد ی کو ئی فیصلہ کر نا چا ہیے“اس کے لیے عنا دل کو کھو دینا کا سو چنا ہی ا تنا تکلیف دہ تھا اس آ نکھیں بھر گئی تھی حلق سے ا تر نے وا لا ا یک ا یک نو ا لا ا سے بھا ر ی ہو ر ہا تھا۔
”آ ئی ا یم سو ری میں تمہا را خیا ل نہیں ر کھ پا یا“ وہ چمچ ر کھ جھکے ہو ئے سر کے سا تھ بو لا تھا۔
”ا یسا کیو ں کہہ ر ہے ہو“ وہ بھی اب کھا نا چھو ڑ کراس کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”میں تمہا رے ما ں با پ سے و عد ہ کیا تھا کے کبھی تمہیں کچھ نہیں ہو نے د و ں گا پر میں ا پنا و عد ہ د و سا ل بھی نہیں نبھا پا یا“ اس سے ز یا د ہ وہ نہیں بو ل پا یا تھا ا س کو اس طر ح د یکھ عنا کو تکلیف ہو ر ہی تھی اس لیے خو د ہی بو ل پڑ ی۔
”اس میں تمہا را کو ئی قصو ر نہیں شا ید خد ا کو یہ ہی منظو ر تھا“ وہ د ھیمے لہجے میں اس کے میز پر ر کھے ہا تھ پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی جب کے ا بر ا ہیم نے حیر ت سے سر ا ٹھا یا تھا تو یعنی وہ پہلے سے سب جا نتی تھی اس نے پو ری کو شش کی تھی کہ وہ ا سے نہ پتہ چلنے د یتا ا گر بچے کا مصلہ نہ ہو تا تو شا ید وہ پو ری کو شش کر تا کہ
جب تک چھپا سکتا تھا تب تک اس سے اس تکلیف د ہ سچ سے د ور ر کھتا۔
”تمہیں کب سے پتہ تھا“ وہ اس کے چہر ے کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لا جو کے سپا ٹ تھا۔
”اس ہی دن پتہ چل گیا تھا جس د ن ہم پہلی با ر چیک اپ کے لیے گئے تھے“ ا بر ا ہیم ا یک لمحے کے لیے سنا ٹے میں آ گیا تھا وہ ا س دن سے اس عذ ا ب سے ا کیلی گز ر ر ہی تھی ا سے شا ید پہلے ہی ڈ سکس کر لینا چا ہیے تھا وہ ا پنی کر سی ا ٹھا ا ور عنا کے سا منے و ا لی کر سی پر بیٹھ کر ا س کے د و نو ں ہا تھو ں کو ا پنے ہا تھو ں میں لیتے ہو ئے بو لا۔
”تمہیں کچھ نہیں ہو گا عنا میں تمہیں د نیا کے ا چھے سے ا چھے ڈا کڑ کے پا س نہیں ہو گا د یکھنا تم بہت جلد ٹھیک ہو جا ؤ گی بس تم ما یو س نہ ہو نا“ وہ اسے ا مید کی ا یک کر ن د ینا چا ہتا تھاکم ا ز کم وہ ز ند ہ ر ہنے کی کو شش تو کر تی۔
”ہا ں مجھے پتہ ہے تم مجھے کچھ نہیں ہو نے دو گے ا بھی تو مجھے بہت جینا ہے آپ کے لیے اور ا پنے بچے کے لیے بھی“ وہ خو دپر قا بو پا کر بو لی تھی دو نو ں ا یک د و سر ے کو حو صلہ د ینے کی کو شش کر ر ہے تھے پر اس کی آ خر ی بات ا بر ا ہیم کو پھر سے ا دا س کر چکی تھی۔
”عنا میر ی ا یک بات ما نو گی“ وہ خو د کو مضبو ط کر تے ہو ئے بو لا تھا۔
”کیا“ وہ اس کی طر ف د یکھ ر ہی تھی۔
”ہمیں ا س بچے پر گیو ا پ کر د ینا چا ہیے“ اس کی بات عنا کے لیے کسی د ھما کے سے کم نہ تھی جا نتی تھی یہ د ن بھی آ ئے گا پرشا ید ا سے ا بر ا ہیم سے اس با ت کی ا مید نہ تھی ا بھی تو ا تنا لمبا سفر طے کر نا تھا اور وہ ا بھی سے ہا ر ما ن گیا تھا۔
Read More: Episode 1.....................................
گر د اتنی بڑ ھ چکی تھی کہ پھر سے ا ند ھیر ا چھا چکا تھا حو ر ین کو سا نس لینے میں د شو ا ری ہو ر ہی تھی ا نا بیہ نے حورین کی طر ف د یکھا تو اس کی حا لت د یکھ کر حیر ا ن رہ گئی وہ نیند میں بڑ بڑا ر ہی تھی ا ور اس کی سا نسیں ا تھل پتھل ہو رہی تھی۔
”حو ر ین حو ر ین ا ٹھو کیا ہو ر ہا تمہیں“ وہ حو ر ین کو ہلا تے ہو ئے بو لی ا نا بیہ کے ہلا نے پر حو ر ین کی آنکھ کھو لی اور اس نے اٹھ کر گہر ی گہری سا نسیں لینا شر و ع کی تھو ڑی د یر بعد اس کی حا لت سنبھل گئی تھی۔
”کیا ہو ا تھا تمہیں حو ر ین پتہ ہے میں تو ڈر ہی گئی تھی“ا نا بیہ اس کی حا لت سنبھلتے د یکھ کر کہا تھا۔
”کچھ نہیں بس ا یک ڈر اؤ نا خو اب د یکھ لیا تھا“ وہ د و با رہ سے لیٹتے ہو ئے بو لی ”سو جا ؤ یا ر کچھ نہیں ہو ا ہے“ وہ ا نا بیہ کو ا بھی بھی پر یشا ن بیٹھا د یکھ کر بو لی۔
تو وہ سب ا یک خو اب تھا ا س کے لیے تو ما ننا مشکل ہو ر ہا تھا وہ پل اسے ا تنا سچ لگا تھا کہ وہ خو د کو ہی
بھو ل گئی تھی کتنی د یر بعد وہ ا س ٹر یما سے با ہر ہی نہ آ سکی تھی اس خو ا ب نے ا سے ا تنا ڈرا د یا تھا کہ جو دادو کی ڈا نٹ نہ کر وا سکی تھی وہ ا س نے کر وا د یا تھا اس نے اس کی تلا ش نہ کر نے کا فیصلہ کیا تھا اس کا سچ جا ننے کا جنو ن ا یک خو ا ب نے ختم کر و یا تھا وہ ا پنو ں کو نہیں کھو سکتی تھی ا نا بیہ نے اس رات کے بعد بہت کو شش کی تھی کہ ا سے کیا ہو ا ہے کیا تو ہر و قت اس زبا ن پر اس کا ذکر رہتا تھا کیا اب وہ اس کا نا م بھی نہیں سننا چا ہتی تھی دو نو ں کی سمیسڑ بر یک ختم ہو چکی تھی ا ور ر یگو لر یو نیو ر سٹی جا ر ہی تھی سر د یا ں اب شر و ع ہو چکی تھی۔
”عنا آج ا نکل عا بد کے پاس جا نا ہے ہمیں“حو ر ین جو کے لیکچر لے کر گر ا ؤ نڈ میں آ کر بیٹھی تھی تو ا نا بیہ اس کے پاس آ تے ہو ئے بو لی تھی۔
”کیو ں جا نا ہے و ہا ں“ وہ چو نکتے ہو ئے بو لی تھی وہ اب کھو ئی کھو ئی سی تھی ا سے لگتا تھا اس ر ات و ا لی
صا لحہ اس کو ا پنے آس پا س محسو س ہو تی تھی جیسے اس پر طنز کر ر ہی ہو کہ بس ا پنو ں پر بات آئی تو وہ ڈر پوک ثا بت ہو ئی تھی اسے لگتا تھاجیسے وہ پا گل ہو جا ئے گی۔
”بھو ل گئی کیا د ا دا ا بو نے ہمیں بو لا تھا کچھ کا غذ ا ت ہیں ان کے پا س وہ لینے تھے“وہ ا س کے پاس بیٹھتے
ہو ئے بو لی۔
”ہا ں یا د آگیاکیا میر ا جا نا ضر و ری ہے ا یک کا م کر نا میں گا ڑی میں بیٹھی ر ہو ں گی تم ا ند ر جا کر لے آنا“ وہ عا بد ا نکل کے گھر جا نے سے کتر ا تی تھی۔
”حو ر ین ا یسے ا چھا نہیں لگتاا نکل ہم سے کتنا پیا ر کر تے ہیں ا نہیں پتہ چلے گا کہ تم آ کر ان سے ملی نہیں تو ا نہیں کتنا بر ا لگے گا“وہ حو ر ین کو سمجھا تے ہو ئے بو لی جب کے وہ چپ تھی کچھ نہیں بو لی تھی۔
”ا گر تم زین بھا ئی کی و جہ سے نہیں جا نا چا ہتی تو وہ کسی کا م سے شہر سے با ہر گئے ہیں وہ و ہا ں نہیں ہو گے پر یشا ن نہ ہو“وہ ا س کے کند ھے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی۔
”ہمم“ وہ چپ ہو گئی کو ئی ا ور و جہ نہیں تھی ا نکا ر کی و جہ ز ین نہیں تھا بس دا دو کو ان کا انکل عا بد کے گھر جا نا ا چھا نہیں لگتاخاص طو ر پر حو ر ین کا صبح بھی وہ دا دا ا بو کی و جہ چپ ہو گئی تھی نہیں تو وہ ا نہیں نہ جا نے د یتی۔
عا بد ا نکل دادا ا بو کی بہن مد یحہ کے بیٹے تھے ان کے دو بچے تھے ا یک بیٹا اور ا یک بیٹی ان کی بیٹی کی بھری جو ا نی میں مو ت ہو گئی تھی تب سے وہ ا کیلے ہی تھی اور مد یحہ کی مو ت کے بعد ان کے پا س کو ئی اور ر شتہ دا ر نہیں تھا وہ ا نہیں ہی ا پنا سمجھتے تھے ز ین ان کا ا کلو تا بیٹا اور حو ر ین کا بچپن کا منگیتر تھا ا ن کی منگنی مد یحہ اور ا بر ا ہیم کی مر ضی سے ا ن کی ز ند گی میں طے پا ئی تھی جبکہ دا دو اس کے سخت خلا ف تھی پر ا بر ا ہیم کے آ گے ان کی نہ چل سکی تھی اس لیے کچھ سا ل پہلے مد یحہ کے ا نتفا ل کے بعد ان کا آنا جا نا کم ہو تا جا ر ہا تھا اور د ا دو حو ر ین کو تو و ہا ں بھو ل کر بھی نہیں جا نے د ینا چا ہتی تھی اور چا ہتی تھی کہ کسی طر ح یہ ر شتہ ختم ہو جا ئے۔
آخر ی لیکچر لے کر وہ عا بد ا نکل کے پا س پہنچ گئی اس و قت وہ گھر پر تھے ا تفا ق سے انکی و ا ئف کا ا نتفال مد یحہ د ا دو کی ز ند گی میں ہی ہو گیا تھا ا س کے بعد ا نہو ں نے د و با رہ شا د ی نہیں کی تھی جبکہ د ا دو کی پو ری کو شش تھی پر وہ نہیں ما نے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ ز ین کو مکمل ا نسا ن بنا نا چا ہتے ہیں اور سو تیلی ما ں پتہ نہیں وہ کر پا ۂ یا نہیں ا س لیے وہ کسی پر ا عتبا ر نہیں کر سکتے تھے۔
”ا چھا ا نکل اب ہم چلتے ہیں“ان کے فا ئل لا کر د ینے پر ا نا بیہ کھڑا ہو تی ہو ئی بو لی جبکہ حو ر ین چپ ہی تھی اس نے بس سلا م ہی لیا تھا اس کے بعد سے چپ ہی تھی۔
”ا ر ے نہیں بیٹا ا یسے کیسے میر ی بیٹیا ں ا تنے د نو ں بعد آ ئی ہیں ا ور بغیر کچھ کھا ئے پئے ہی چلی جا ئے“
وہ ان کے ا تنے جلد ی جا نے پر ما ننے و ا لے نہیں تھے ا ن کے با ر ہا منع کر نے کے با و جو د انہو ں نے ملا ز مہ کو ر یفر شمنٹ کا سا ما ن لا نے کو کہا تو وہ بھی مجبو ر بیٹھ گئی۔
”ا ور بیٹا سڈی کیسی جا ر ہی ہے آپ د و نو ں کی حو ر ین تو جب سے آ ئی ہے تب سے جپ بیٹھی ہے کچھ ہو ا ہے کیا“ ان سے اس کی خا مو شی نہیں بر د ا شت ہو ئی تھی وہ ان کو ا پنی بیٹی کی طر ح عز یز تھی اس کی گو د پل کر بڑی ہو ئی تھی اور سب سے بڑ ھ کر ان کے ا کلو تے بیٹے کی پسند تھی پر جا نتے تھے کہ سا جدہ آ نٹی ا پنی ز ندگی میں شا ید ہی ا یسا ہونے د یتی وہ ا پنی ضد کی کتنی پکی تھی اس کا ا ندا زہ ان سے بہتر ا ور کسی کو کیسے ہو سکتا تھا۔
”کچھ نہیں ا نکل وہ بس یو نیو ر سٹی سے آئے ہیں تو تھکے ہو ئے ہیں ا ور تو کچھ نہیں ہے“حو ر ین ا پنی گھبراہٹ چھپا تے ہو ئے بو لی اسے پر یشا نی ہو ر ہی ا گر دا دو کو پتہ چلتا کے وہ ا تنی د یر ر کی ہیں تو پتہ نہیں کیاہنگا مہ ہو تا۔
”ا چھا چلو تم کہتی ہو تو ما ن لیتے ہیں“ اس کے بعد وہ ا د ھر ا د ھر کی با تیں کر نے لگے کہ ا چا نک ا نا بیہ نے عجیب سا سو ا ل کیا جس ا یک با ر تو ما حو ل میں خا مو شی ہی چھا گئی تھی۔
”ا نکل ا یک با ت پو چھو آپ سے ا گر آ پ بر ا نہ ما نے تو“ وہ بات کر تی ا چا نک بو لی تھی جبکہ حو ر ین اس کے چہر ے کی طر ف د یکھا تھااور آ نکھو ں کے ا شا ر ے سے اسے کو ئی بے و قو فی کر نے سے منع کر نے کی
نا کا م کو شش کی پر وہ جو ٹھا ن لیتی تھی تب کب کسی کی سنتی تھی۔
”ہا ں ہاں بیٹا پو چھو“وہ حیر ان ہو تے ہو ئے بو لے تھے ا یسا پہلی با ر ہو تھا شا ید جو ا نا بیہ کچھ بو لنے سے پہلے ا جا زت لے۔
”ا نکل کیا ہما ر ے خا ند ا ن میں کبھی کسی نے دو سر ی شا دی کی ہے“ اس کے اس بے تکے سو ا ل پر حو ر ین کا د ل چا ہے تھا کہ اس کا گلا د با د یتی ا ور عا بد ا نکل وہ بھی ا یک با ر چپ ہو گئے تھے جبکہ ا نا بیہ یہ سو ا ل کر پو چھ کر پتہ نہیں کو نسے نا لج میں ا ضا فہ کر نا چا ہتی تھی اس لیے اس پر حو ر ین کی گھو ر یا ں بھی کو ئی ا ثر نہیں ڈا ل پا ئی تھی۔
”ا نکل یہ تو پا گل ہے آپ اس کی با تو ں پر نہ غو ر کر ے“ حو ر ین نے با ت کو سنمبھا لنے کی کو شش کی۔
”نہیں بیٹا اس میں کو ئی حر ج نہیں ہے مجھے تو یہ حیر ت ہو ر ہی کہ آپ لو گو ں کو کچھ نہیں پتہ ا یسا کیسا ہو سکتا ہے“۔ وہ چہر ے سے وا قعی ہی حیر ا ن نظر آ رہے تھے۔
”کیا مطلب آپ کا ا نکل“ اب کی حیر ا نی کی با ری ان د و نو ں کی تھی۔
”آپ لو گو ں کو وا قعی ہی کچھ نہیں پتہ آپ کے خا ند ا ن میں تو د و سر ی شا دی عا م بات ہے ز یا د ہ د ور کیو ں جا نا تمہا ری دا دی تمہا رے دا دا کی د و سر ی و ا ئف ہیں ان کی پہلی وا ئف کا نا م عنا دل تھا“ وہ کہتے ہو ئے ہلکا سا مسکر ائے تھے جبکہ اب کی با ر حو ر ین کے سا تھ ا نا بیہ کو بھی حیر ت کا زور دار جھٹکا لگا تھا اور ان کی ا گلی بات تو شا ید ان دو نو ں ہا رٹ ا ٹیک د لا نا وا لا تھا۔
”بلکہ حو ر ین کے وا لد نے خو د د وشا د یا ں کی تھی“ان کی آوا ز ٹر ا لی ا ند ر لا تی ملا ز مہ کی ٹر ا لی گھیسٹنے کی آ واز میں کہیں دب سی گئی تھی۔
......................................