نا ول
Episode # 6
”ا برا ہیم آپ کو معلو م بھی ہے آپ کیا کہہ ر ہے ہیں“ وہ ا س کے ہا تھو ں کو جھٹکتی ہو ئی کھڑی ہو ئی تھی
”عنا میر ی با ت کو سمجھنے کی کو شش کر و یہ ہی بہتر ہے ہم سب کے لیے تم ٹھیک ہو جا ؤ گی تو ا للہ ہمیں دو با رہ اس نعمت سے نو ا ز دے گا مگر اس و قت تمہا را ٹھیک ہو نا ضر وری ہے میر ی با ت کو“ اس کی با ت بیچ میں ہی رہ گئی تھی عنا و ہا ں سے بھا گی اور سیڑ ھیاں چڑھ کر ا پنے کمر ے میں آ کر دم لیا تھا ابرا ہیم بھی اس کے پیچھے
بھا گا تھاپر وہ پہلے ہی د ر وا زہ بند کر چکی تھی۔
”عنا پلیز دروازہ کھو لو میر ے سا تھ ا یسا مت کر و وہ میر ی بھی ا و لا د ہے تمہا رے جتنا نہ سہی پر مجھے بھی د کھ ہے“وہ د ر وا زہ کو بجا تے ہو ئے بو لا تھا تھک گیا تھا وہ اس درد کو سہتے سہتے جبکہ د ر وا زہ کے دو سر ی طر ف کھڑ ی عنا منہ پر ہا تھا رکھ ا پنی ہچکیو ں کی آواز کورو کنے کی کو شش کر رہی تھی۔
”عنا تمہا ر ی خا مو شی مجھے مجر م بنا رہی ہے ا یسا مت کر و“ وہ د ر وازہ کے سا تھ لگ کر بیٹھ گیا تھا جب ڈا کڑ نے ا سے یہ خو شخبر ی سنا ئی تب ا سے سمجھ نہیں آ ئی تھی کیا ر ی ا یکٹ کر تا با قی سب خو ش تھے بس ا یک وہ تھا جسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا کہتا کس طر ح ا ظہا ر کر تا لیکن جب ڈا کڑ ا سے ختم کر نے کا کہا تھا تو ا یک پل کے لیے وہ پتھر سا ہو گیا تھا اسے سمجھ آیا تھا وہ ا س کی ا و لا د تھی اسے کھو نے کی تکلیف ا سے بھی ہو ئی تھی۔
دو سر ی طر ف اب بھی خا مو شی تھی عنا کی ہچکیا ں ر ک چکی تھی پر آ نسو تھے کے رو کنے کا نا م نہیں لے ر ہے تھے وہ د ر و ا زہ کے سا تھ لگ کر بیٹھ گئی تھی ا یسا کیسے ہو سکتا تھا ا بھی تو ا س نے ا سے محسو س کر نا شر و ع کیا تھا رات د ھیر ے د ھیر ے گز ر رہی تھی پر دو نو ں د ر وا زے کی ا طر اف میں بیٹھے تھے۔
ا گلے کچھ د نو ں میں ا بر ا ہیم نے ہر طر ح سے کوشش کی تھی کہ وہ ما ن جا ئے پر وہ نہیں ما نی تھی و قت کم تھاابھی چھ ما ہ پو رے ہو نے میں کچھ و قت تھا ا گر وہ پو ر ے ہو جا تے توآپر یشن میں عنا کو بھی خطر ہ ہو سکتا تھا اس کے لیے عنا ہر چیز سے بڑ ھ کر تھی آ خر عنا کی ہٹ د ھر می د یکھ کر ا سے ا یک ہی ر ستہ نظر آ رہا تھا وہ تھا ا س کے ما ں با پ ا ب وہ ہی اسے منا سکتے تھے جن کو اس نے ا بھی تک کچھ نہیں بتا یا تھا اور اس نے یہ با ت عنا کے سا منے رکھی تھی جہا ں وہ بے بس ہو گئی تھی جا نتی تھی وہ نہیں بر دا شت کر پا ئے گے۔
ا نہو ں نے ڈا کڑ سے با ت کر کے اس کے آپر یشن کی تا ر یخ لی تھی اور ا س سے پہلے عنا کا ا لڑ ا سا ؤ نڈ ہو ا تھا جس میں ڈا کڑ نے آج ا سے بچے کی د ھڑ کنے سنا ئی تھی ا ور بتا یا تھا کہ وہ صحت مند ہے پر عنا ا س کے لیے صر ف رو ہی سکتی تھی ا ور وہ ا بر ا ہیم کے گلے لگ کر رو ئی بھی تھی ز ند گی میں پہلی با ر ا س نے خو د کو ا تنا بے بس
محسو س کیا تھا وہ چا ہ کر بھی کچھ نہیں کر پا ئی تھی سب کچھ طے ہو چکا تھا ا بر ا ہیم کو بھی اب ا مید کی کر ن نظر آ ئی تھی مگر قد رت کو کچھ ا ور ہی منظو ر تھا جس د ن سر جر ی تھی اس روزوہ عنا کی فا ئل لے کر کمر ے سے با ہر آ یا تھا تو بیل بجی کسی ملا ز م کو کہنے کی بجا ئے وہ فا ئل میز پر ر کھتا خود د روازہ کھو لنے چلا گیا د ر وا زہ کھو لا تو سا منے عنا کے و ا لد ین کھڑ ے تھے۔
”ا رے ا نکل آ نٹی آپ آج صبح صبح کیسے آ نا ہوا“ وہ ا ن سے مل کر ا نہیں ا ندر لا تا ہو بو لا تھا۔
”ہا ں بیٹا میں آ فس کے لیے نکل ر ہا تھا تو تمہا ر ی آنٹی بو لی کے ا سے عنا کے پا س لے چلو ں“ وہ کر سی پر بیٹھتے ہو ئے بو لے تھے جبکہ ا بر ا ہیم کو سمجھ نہیں آ ر ہا تھا کہ ا نہیں کیا بتا ئے۔
”کیا ہوا بیٹا کو ئی پر یشا نی ہے کیا“ وہ ا سے چپ کھڑ ا د یکھ کر بو لے تھے۔
”کچھ نہیں ا نکل وہ آ ج میں ا ور عنا تو آ پی کے گھر جا ر ہے تھے ا گر آپ پہلے بتا د یتے تو ہم آپی کو منع کر د یتے“ اسے بر وقت یہ ہی سو جھا تھا۔
”کیا سب خیر یت تو ہے“ اب کی با ر ثر یا بو لی تھی۔
”کچھ نہیں آ نٹی آ پی کا فی د نو ں سے کہہ رہی تھی آ نے کا بس ٹا ئم نہیں لگا آج ا س لیے میں نے آف لیا تھا پر آپ آ گئے تو آ پی کو فو ن کر کے منع کر د یتا ہو ں“وہ فون ا ٹھا تے ہو ئے بو لا تھا۔
”ا رے نہیں بیٹا ر ہنے دو ہم بس عنا سے ملنے آ ئے تھے ا س سے مل کر چلے جا ئے گے و یسے بھی مجھے کچھ کام ہے بس تم ا سے بلا دو“ ان کو ما نتے د یکھ کر ا بر اہیم نے سکو ن کا سا نس لیا تھا ا ور عنا کو لینے چلا گیا۔
اس کے جا نے کے بعد سلیم کی نظر میز پر ر کھی فا ئل پر گئی اور ا س پر عنا کا نا م د یکھ کر ا نہو ں نے ا ٹھا کر ا سے پڑھنا شر و ع کر د یا ا ور پھر تو وہ جیسے سا نس لینا بھو ل چکے تھے۔
جب کو عنا کو نیچے لا تا ا بر ا ہیم بھی ان کے ہا تھ میں وہ فا ئل د یکھ چکا تھا اور عنا کو چھو ڑ کر ان کی طر ف لپکا تھا
اور فا ئل لینے کی کو شش کی تھی جو کے ا نہو ں نے پیچھے کر لی تھی ا ن کا چہر ہ بتا ر ہا تھا کہ وہ سب جا ن چکے تھے
”ا نکل میں آپ کو بتا نے و ا لا تھا کچھ دن تک“ وہ سر جھکا تے ہو ئے بو لا تھا جبکہ سیڑ ھیو ں پر کھڑ ی عنا بھی سمجھ چکی تھی کہ جو د ن کچھ د یر بعد آ نا وہ آ ج ہی آ چکا تھا بس وہ تیا ر نہیں تھے جبکہ ثر یا حیرت سے د یکھ رہی تھی ان اب وہ ہی تھی جو ا س معا ملے سے ا نجا ن تھی۔
”اور کب تک ا را دہ تھا تمہا را جب تک خدا نخو ا نستہ کچھ ہو جا تا“ وہ ا پنے آ نسو کو بمشکل رو ک پا ئے تھے۔
”کیا کہہ ر ہے ہیں آپ کیا ہو ا ہے“ ثر یا دل پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی ا نہیں پہلے ہی پر یشا نی ہو ر ہی تھی ا س لیے وہ صبح صبح سلیم سے ضد کر کے آ ئی تھی جبکہ اب عنا بھی ا بر ا ہیم کے سا تھ آ کر کھڑ ی ہو گئی تھی۔
پھر ا بر ا ہیم ا نہیں ا یک ا یک کر کے سب کچھ بتا با گیا ا ور اس با تیں سن کر سلیم صا حب کرسی پر تھکے سے ا ندا ز میں بیٹھ گئے تھے اور ثر یا بیگم کو تو جیسے سا نپ سو نگھ گیا تھا۔
”ا نکل آ نٹی آپ فکر نہ کر یں اس آپر یشن کے بعد عنا کا علا ج شر و ع ہو جا ئے گا ڈا کڑ کا کہنا ہے ا بھی ا تنا مسئلہ نہیں ہے وہ ٹھیک ہو جا ئے گی آپ ہمت ر کھیں پلیز“ وہ ان کو بے حا ل د یکھ کر ان کو حو صلہ د یتے ہو ئے بو لا تھا۔
”ایسا کیسے ہو گیا میں نے ا پنی بچی کو آج تک ہر مصیبت سے بچا کر ر کھا تھا ہمیشہ کو شش کی کہ اس کو ا یک کھرونچ بھی نہ آئے اب وہ یہ سب کیسے سہے گی“ کہتے کہتے ان کا گلا ر ند ھ گیا تھا جبکہ ثر یا تو عنا کے گلے لگ کر رو ہی پڑ ی تھی ان کو حو صلہ د یتی وہ خو د بھی ٹو ٹ ر ہی تھی ا بر ا ہیم نے ا ن سب کو بڑی مشکل سے سنبھا لا تھا کچھ د یر بعد وہ عنا کو د عا د یتے و ا پسی کے لیے نکل پڑ ے تھے ا بر ا ہیم نے ا نہیں سا تھ چلنے کا کہا تھا پر وہ اس حا لت میں نہیں تھے کہ یہ سب دیکھ پا تے انہیں آج بھی یا د تھا کیسے وہ ا نجکشن کے د رد سے بچتی کو نو ں میں چھپ جا تی تھی اب پتہ نہیں کیسے ان سب سے گز رے گی ا بر ا ہیم نے بھی ز یا دہ زور نہیں د یا تھا جا نتا تھا کہ ان کو یہ سب اپنا ننے میں و قت لگے گا۔
وہ گا ڑی میں بیٹھ کر و ا پس گھر چل پڑ ے تھے وہ تو یہ بھی بھو ل چکے تھے کہ ا نہیں آ فس جا نا تھا گا ڑی
ڈرائیوکر تے سلیم کی آ نکھو ں میں عنا کا بچپن ا ور جو ا نی سب گھو م ر ہا تھا کتنا ا چھا تھا یہ سب ا یسا کیسا ہو گیاجبکہ سا تھ بیٹھی ثر یا کی حا لت بھی ان سے کم نہ تھی وہ اس غم میں ا تنا کھو ئے تھے کہ سا منے تیز سپیڈ میں آ تے ٹر یک کو د یکھ سکے اور نہ ہی ان کی ہا رن کی آ وا ز سن سکے تھے جبکہ وہ تیز ر فتا ر ٹر یک ان کی گا ڑی کو کچلتا خو د بھی ا لٹ چکا تھا۔
وہ جو بیٹی کو د رد میں نہیں د یکھ سکتے تھے اس کو نا ختم ہو نے و الا د رد دے کر جا چکے تھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
Read More: Episode 1 ..............................
”بلکہ حو ر ین کے و ا لد نے خو د دو شا د یا ں کی تھی“ ان کی آ وا ز ٹر ا لی ا ندر لا تی ملا ز مہ کی ٹر ا لی گھیسٹنے کی آ وا ز میں کہیں د ب سی گئی تھی۔
”کیا کہا ا نکل آ پ نے دا دو کی پہلی و ا ئف کا کیا نا م تھا“ حو ر ین نے پو چھا تھا ٹر ا لی کی آ وا ز کی و جہ سے وہ انکل کی آ خر ی با ت نہیں سن پا ئی تھی نہیں تو ا س کا سو ا ل یہ نہ ہو تا۔
”عنا د ل تھا ا ن کا نا م جہا ں تک مجھے یا د ہے“ وہ بو لے تھے ا نہیں حیر ت ہو ئی تھی کے حو ر ین نے ا پنے و ا لد کی بجا ئے دادا کا پو چھا تھا مگر کچھ سو چ کر ا نہو ں نے با ت کو مز ید نہیں بڑ ھا یا تھا اور ا س کے سا دہ سے سوال کا سا دہ سا جو ا ب د یا تھا۔
”تو کیا ا نکل ا ن کی کو ئی او لا د بھی تھی کیا“ اب کی با ر سو ا ل پو چھنے کی با ری ا نا بیہ کی تھی۔ان کے لیے یہ ہی حیرت کی با ت تھی کے اس ہی گھر میں ر ہتے ہو ئے وہ خود ا تنی بڑ ی با ت سے ا ب تک نا و ا قف تھی۔
”ہا ں ان کی ا یک ہی بیٹی تھی بلکہ ا ن کی دو سر ی شا دی کی و جہ وہ ہی تھی“
”اور ان کی بیٹی کا نا م صا لحہ تھا کیا“ اب بھی ا نا بیہ ہی بو لی جبکہ حو ر ین چپ تھی اس کے لیے تویہ سب ما ننا و یسے ہی مشکل تھا۔
”ہا ں پر آپ کو یہ کیسے پتہ ہے“وہ بو لے ا نہیں حیر ت ہو ئی تھی جو دادا کی شا دی کا نہیں جا نتی تھی وہ ان کی
بیٹی کا نا م کیسے جا ن سکتی تھی۔
”بس ا نکل حو ر ین کو یا د ہے وہ بچپن میں ان کے سا تھ رہی ا س و جہ سے شا ید“ ا نا بیہ بو لی اس کے بعد د و نو ں طر ف سے خا مو شی چھا گئی سو ا ل بہت تھے پر حو ر ین میں پو چھنے کی ہمت نہیں تھی جبکہ ا نا بیہ ا سے چپ د یکھ کر چپ ہو گئی تھی۔
..........................................
”بابا مجھے ا نجکشن نہیں لگو ا نا آپ ما ما کو سمجھا ئے نہ“ وہ سلیم صا حب کے با زو سے لگی بیٹھی تھی اسے تین سے بخا ر تھا جو کہ کم ہو نے کا نا م نہیں لے رہا تھا مجبو ر ا سے نہ چا ہتے ہو ئے بھی ا نجکشن لگو ا نا پڑ رہا تھا۔
”ا ٹھا رہ سا ل کی ہو گئی ہو کو ئی بچی تھو ڑی ہو جو ا نجکشن سے ڈر رہی ہو“ ثر یا اس کی ہٹ د ھر می د یکھ کر تنگ آ گئی تھی ا س لیے غصہ میں بو لی تھی۔
”مجھے نہیں پتہ میں نہیں لگو ا ؤ گی با با آپ کچھ بو لے نہ“ وہ ان کے با زو کو ہلا تے ہو ئے بو لی تھی۔
”ا چھا بھئی ٹھیک ہے جیسے تم چا ہو و یسے ہو گا“
”کیا کہہ ر ہے ہیں آپ ہر با ت میں اس کا سا تھ د ینا ضر ور ی ہے کیا“ ثر یا کا ر خ اب سلیم کی طر ف ہو چکا تھا۔
”چلو تمہا رے روم میں چلتے ہیں“ وہ ثر یا کی طر ف ا شا رہ کر تے اسے لے کر اس کے روم میں آ گئے۔
”چلو آرا م کر و آپ“ وہ اس پر کمبل ڈا لتے ہو ئے بو لے تھے۔
”آپ نا را ض ہیں کیا“ وہ ان کو ا س طر ح د یکھ کر سمجھ گئی تھی۔
”نہیں بیٹا نا را ض نہیں ہو ں آپکو معلو م ہیں نہ آپکو تکلیف میں د یکھ کر ہمیں تکلیف ہو تی ہے“وہ اس کے سر پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لے تھے تو عنا نے ا ثبا ت میں سر ہلا یا تھا۔
”تو بیٹا ز ند گی میں کئی با ر کچھ تکلیفیں بر د ا شت کر نی پڑ تی ہیں اپنے لیے نہیں ا پنے سے جو ڑے لو گو ں کے
لیے“ ان کا ہا تھ اب بھی عنا کے سر پر تھا۔
”بابا“ وہ چلا تے ہو ئے ا ٹھ کر بیٹھی تھی جب کے اس کے چلا نے پر ا بر ا ہیم بھا گ کر آیا تھا۔
”کیا ہو ا عنا“ وہ اس با ز ؤ ں سے پکڑ تے ہو ئے بو لا تھا پند رہ دن گز ر چکے تھے سلیم اور ثر یا کو د نیا سے گئے لیکن عناکی حا لت ا ب بھی و یسے ہی تھی وہ سو تے سو تے ا ٹھ کر بیٹھ جا تی تھی ا چا نک رو نے لگ جا تی تھی کو ئی کچھ کھلا تا تو کھا لیتی نہیں تو بس بیٹھی د یو ا روں کو گھو رتی رہتی تھی ڈکڑ کا کہنا تھا ا گر اس کی یہ ہی حا لت ر ہی تو وہ پا گل ہو جا ئے گی وہ تو اب یہ بھی بھو ل گئی تھی کہ اس کے سا تھ ا یک اور و جو د بھی جڑا تھا۔
”ابر ا ہیم وہ با با ما ما وہ“ رو تے روتے اس کی سا نس پھو ل چکی تھی۔
”ا نہیں کہو نہ کہ اب میں کو ئی ضد نہیں کر و ں گی نہ انجکشن لگو ا تے وقت ا نہیں تنگ کر و ں گی ا نہیں کہو نہ کے وہ و اپس آ جا ئے“ وہ مسلسل رو ئے جا ر ہی تھی اور ا بر ا ہیم کے پا س تو وہ ا لفا ظ ہی نہیں تھے کہ وہ ا سے تسلی دے پا تا وہ خو د اس طر ح کے حا لا ت سے گز را تھا جا نتا تھا کو ئی بھی ا لفا ظ اس کے لیے بے کا ر تھے۔
”بو لو نہ کچھ تم نے تو کہا تھا تم میر ی ہر با ت ما نو گے“ وہ اس کو جھنجھو ڑتے ہو ئے بو لی تھی۔
”آپی آپ کر ے نہ کچھ“وہ اب کمر ے میں د ا خل ہو تی مد یحہ سے مخا طب تھی اور ان کے پا س آنے پر ان کے گلے لگ کر رو ر ہی تھی۔
”آپکو معلو م ہو وہ میر ی و جہ سے چلے گئے نہ ان کو اس دن میر ے ٹیو مر کا پتہ چلتا نہ وہ اس طر ح سے جاتے“ وہ خو د کو کو س ر ہی تھی خو د کو قصو وار سمجھ ر ہی تھی ا بر ا ہیم سے اس کی حا لت نہیں د یکھی جا رہی تھی وہ و ہا ں سے اٹھ کر با ہر آ گیا اور ا پنا سر پکڑ بیٹھ گیا تھا حا لا ت ہا تھو ں سے نکلتے جا رہے تھے چھ ما ہ سے ا وپر ہو چکے تھے اب آپر یشن نہ ممکن ہو گیا تھا فلحا ل جو اس کی حا لت تھی و یسے ہی کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب تو ا سے نیند کے لیے بھی گو لیا ں د ینی پڑ تی تھی علا ج تو دو ر کی با ت تھی۔
وہ رو تے رو تے تھک گئی تو خو د ہی دو با رہ لیٹ گئی تھی مد یحہ اس پر چا در صیح کر کے با ہر آ گئی تھی ا سے بھی عنا
کے وا لد ین کی و فا ت پر ہی پتہ چلا تھا کہ وہ کس عذاب سے گز ر رہی تھی اس کے بھا ئی وہ خو شیا ں جس کے لیے اس نے دن رات د عا ئیں کی تھی ان کو آگ لگ چکی تھی اس دن سے وہ وہی تھی ان کے ا پنے بچے بھی چھو ٹے چھو ٹے تھے بیٹی دو سا ل کی تھی اور بیٹا ا بھی چھ ما ہ کا تھا ان کے لیے کا فی مشکل ہو رہا تھا پر بھا ئی کی حا لت د یکھ کچھ نہیں کہہ پا رہی تھی وہ با ہر آ کر ا بر ا ہیم کے پا س بیٹھ آ گئی اور ا سے تسلی د ینے لگی تھی وہ یہ ہی کر سکتی تھی۔
آج وہ مد یحہ اور ا بر ا ہیم کے بہت ز یا د ہ ضد کر نے پر ہسپتا ل آئی تھی نہیں تو وہ تو جینے کی ا مید ہی چھو ڑ چکی تھی آج اس کا منتھلی چیک اپ تھا چیک اپ کے بعد جو ا نہیں پتہ چلا تھا وہ ان کے ز خمو ں کو ا ور گہر ا کر گیا تھا۔
”آپ کو نہیں پتہ تھا کہ چھٹہ مہینہ تھا اور یہ ز یا دہ نا ز ک مر حلہ ہو تا ہے“ ڈا کڑ کر سی پر بیٹھتی ہو ئی بو لی۔
”کیا ہو ا ڈا کڑ صا حبہ“ مد یحہ نے پو چھا تھا کیو ں کے ا بر ا ہیم اور عنا میں تو ہمت ہی نہ تھی اب اور د کھ سہنے کی۔
”ان کی ا یمو شنل ا نسٹیبیلٹی کی و جہ سے بچے کے د ما غ پر گہر ا ا ثر پڑ ا ہے“ کمر ے میں خا مو شی چھا گئی تھی۔
”اب یہ بچے کو کس طر ح ایفیکٹ کر ے گی ا بھی میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن ا تنا کہہ سکتی ہو ں کہ یہ ا بنا ر مل ہو گا“ ڈا کڑ کے ا لفا ظ نہیں ہتھو ڑے تھے جو ان پر لگ رہے تھے اور عنا کو اب ا حسا س ہو ا تھا کہ ا پنی خود غر ضی میں وہ بھو ل گئی تھی کہ اس کے سا تھ ا یک و جو د ا ور جڑ ا تھا جس کے لیے وہ ذ مہ دا ر تھی جس د ن اس کا آپریشن کینسل ہو ا تھا ا س دن سے یہ تو طے تھا کہ ا س بچے کو د نیا میں آنا ہی تھا بس ا پنے غم میں وہ اس کے وجو د کو بھو ل گئی تھی۔
”ڈا کڑ صا حبہ کیا ا س کا کو ئی حل نہیں ہے“ لب کی با ر ا بر ا ہیم بو لا تھا۔
”ا بھی تو کچھ نہیں کہہ سکتے اب تو اس کی پید ا ئش کے بعد ہی پتہ چلے گا“ وہ ا ٹھ کر و ا پس آ گئے تھے کسی کے پا س بھی ا لفا ظ نہیں تھے جو ا یک د و سر ے سے کہہ پا تے مشکلیں ا یک بعد ا یک بڑ ھتی جا ر ہی تھی اور حل
کو ئی نظر نہیں آ رہا تھا۔
اس د ن کے بعد عنا کے رو یے میں کا فی تبد یلی آ چکی تھی وہ خو د کا خیا ل رکھنے لگی تھی وہ جو ا یک با ر تو خو د کو ختم کر نے کا سو چ رہی تھی ا ب جینے کی کو شش کر ر ہی تھی وہ ا پنے بچے کے لیے جینا چا ہتی تھی جونقصا ن اس کی وجہ سے اس کا ہو ا تھاوہ ا سے دور بھی کر نا تھا وہ علا ج بھی کر و ا نے کے لیے تیا ر ہو گئی تھی اس کے بر عکس ا برا ہیم کو اس بچے سے نفر ت سی ہو نے لگی تھی ڈا کڑ نے صا ف صا ف کہہ د یا تھا ا ب بچے کی پید ا ئش سے پہلے کچھ نہیں ہو سکتا تھا اور اس کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ ا س کے ٹیو مر کا علا ج ہو گا یا نہیں اگر عنا کی جا ن کا ڈر نہ ہو تا تو وہ کب کا اس جا ن چھڑ ا چکا ہو تا۔
ٹھیک د و ما ہ بعد عنا نے ا یک بچی کو جنم د یا تھا جس کے لیے اس نے نہ جا نے کتنی مشکلا ت ا ٹھا ئی تھی اس کے سر میں د ر د ا ٹھتا تو وہ ا سے و یسے ہی بر د شت کر تی اور ٹیو مر کی یا کو ئی ا ور پین کلر بھی نہیں لیتی تھی کہ کہیں اسے نہ کچھ ہو جا ئے جبکہ ا بر ا ہیم اس سے ا تنی ہی چڑ چڑ تی تھی مگر عنا کی وجہ سے کچھ نہیں کہتا تھا۔
مد یحہ ا ور عنا نے ہی اس بچی کو نا م د یا تھا جو تھا صا لحہ
.............................
جا ری ہے
For updates and more info join my watsapp channel
.