نا ول
Episode # 7
”صا لحہ“ ”صا لحہ بیٹا کہا ں ہو“۔وہیل چیئر کو د ھکیلتی عنا نے ا سے آواز لگا ئی با ہر زور سے با د ل گر جے تھے عنا جا نتی تھی وہ ڈر گئی ہو گی اور وہ جو سٹو رمیں چھپی ہو ئی تھی ا س گر ج کی آ وا ز سے و ہا ں پڑ ے میز کے اور نیچے ہو گئی تھی اس کو ڈ ھو نڈ تی ہو ئی عنا و ہا ں بمشکل ہی پہنچی تھی ابر ا ہیم کسی کا م کی و جہ سے شہر سے با ہر تھا اور ملا ز م سا رے مو سم کی خر ا بی کی و جہ سے جلد ی کا م ختم کر کے جا چکے تھے اس لیے عنا ا کیلی کو ہی اسے سنبھا لنا تھا۔
”صا لحہ بیٹا کیا ہو ا ا د ھر اس طر ح کیو ں بیٹھی ہو ا د ھر آ ؤ میر ے پا س“۔ ا نہو ں وہیل چیئر پر بیٹھی نے اس کی طر ف ہا تھ بڑ ھا یا تھا سا تھ ہی با ہر پھر سے با دل گر جا تھا با رہ سا لہ صا لحہ جو کے گھٹنو ں کے گر د با زو لیپٹے
بیٹھی تھی
اس نے اپنے گھٹنو ں کے گر د گر فت اور مضبو ط کی تھی۔
”صا لحہ بیٹا ا د ھر د یکھو میر ی طر ف“ اس کی حا لت د یکھ کر عنا نے ا پنے ہا تھ کو مز ید اس کی طر ف بڑ ھا یا تھا
”صا لحہ بیٹا کیا ہو ا ہو مجھے بتا ؤ“ اس کو خا مو شی سے ا پنی طر ف تکتا د یکھ کر وہ مز ید بو لی تھی۔
ؔ”وہ آ سما ن...پا نی“ وہ بمشکل ہی ا تنا بو لی تھی شا ید ا سے ا تنی ہی سمجھ آ ئی تھی۔
”ا چھا تو آ پ اس سے ڈر کے یہا ں بیٹھی ہیں“۔ انہو ں نے ا پنا بڑ ھا یا ہو ا ہا تھ نیچا کیا جا نتی تھی وہ ا یسے نہیں سمجھنے وا لی تھی۔”آ پکو معلو م ہے اس کو با رش کہتے ہیں اور پتہ ہے وہ کیو ں آ تی ہے“۔صا لحہ نے ا نکا ر میں سر ہلا یا تھا۔
”آ پکو جا ننا ہے وہ کیو ں آ تی ہے“۔ اس کو خو د کی طر ف د لچسپی سے د یکھتے ہو ئے د یکھ کر ا نہو ں نے با تک کو مز ید بڑ ھا یا اس با ر اس نے ا ثبا ت میں سر ہلا یا تھا۔
”تو پھر آ پ کو با ہر آ نا پڑ ے گا میر ے سا تھ“ عنا ا پنا ہا تھ دو با رہ اس کی طر ف بڑ ھا یا تھا اور اس با ر اس نے ا نہیں ما یو س نہیں کیا تھا اور آ را م سے ان کا ہا تھ تھا م لیا تھا وہ اسے سا تھ لیے با ہر آ گئی اور اس کے ہا تھو ں کو ا پنے ہا تھو ں میں لیا تھا۔
”آ پکو پتہ ہے یہ جو آ سما ن سے پا نی آ تا ہے اسے با رش کہتے ہیں اور ا سے اللہ تب بھیجتا ہے جب وہ خوش ہو تا ہے جیسے سا جدہ آ نٹی آپکو چیزیں د یتی ہیں جب وہ آ پ سے خو ش ہو تی ہیں“اس کے ہا تھو ں کو ا پنے ہا تھو ں میں تھا مے ہو ئے وہ بو لی۔”یاپھرجیسے اللہ نے آ پکو بھیجا میر ے پا س جب وہ مجھ سے خو ش ہوا تھا“ یہ بات انہو ں نے خود سو چی تھی اسے نہیں کہہ پا ئی تھی جا نتی تھی وہ نہیں سمجھ سکتی تھی جس کے چہر ے پر اب ڈر تھو ڑا کم تھا۔
”تو اب آ پکو پتہ چل گیا نہ تو اب اس سے ڈر نا نہیں ہے“ ا نہو ں اس کے ہا تھو ں کو پکڑ کر تھو ڑا سا با ہر کو کیا
جن پر زور سے پڑ تی با رش کی بو ند یں آ گری تھی تو وہ ڈر تی اور ان کے پا س ہو گئی تھی۔
”ڈرو نہیں د یکھویہ کچھ نہیں کہتی“ ا نہو ں نے خو د سے لگی صا لحہ کو حو صلہ دیا تھا با ر ش کی بو ند یں دو نو ں کے ہا تھو ں کو مکمل طو ر پر بھگو چکی تھی صا لحہ نے ڈر تی نے عنا کے کند ھو ں سے سر کو ا ٹھا یا تھا تھو ڑی د یر بعد وہ اس ڈرنا چھو ڑ چکی تھی اور پو ری کی پو ری با ہر نکل کر اب با رش میں بھیگ چکی تھی اور عنا اب بھی لا ن میں بیٹھی اسے د یکھ رہی تھی۔
”د یکھے میں نے آ پکو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ بچی نا ر مل نہیں ہو سکتی“ صا لحہ کی پید ا ئش کو تقر یباً پند رہ دن گزرے تھے جب اس کا فل با ڈی چیک اپ ہو ا تھا وہ اور مد یحہ ڈا کڑ کے سا منے بیٹھے تھے ا بر ا ہیم تھو ڑا پیچھے کر سی پر بیٹھا تھا جو کہ صر ف عنا اور آ پی کی و جہ سے آ یا تھا اس بچی میں اسے نہ تو پہلے د لچسپی تھی نہ اب۔
”جا نتی ہوں میں“ عنا کے لہجہ میں ہلکی سی نمی تھی ”میں یہ جا ننا چا ہتی ہو ں کہ وہ کس طر ح سے ا بنا ر مل ہے“
وہ خو د کو مضبوط کر تے ہو ئے بو لی تھی۔
” ا یک بچہ د نیا میں آ نے کے بعد جتنا کچھ ا پنی ما ں سے سیکھتا ہے اس سے کہیں ز یا دہ وہ ا پنے ا ردگر د سے سیکھتا ہے اور ا نسا ن کے د ما غ کا ا یک حصہ ہو تا ہے جو ا سے ما حو ل کے مطا بق پلنے میں بڑ ھنے میں مدد کر تا ہے اردگر د سے چیز یں ا پنا ننے میں مدد کر تا ہے اور آ پ کی بچی میں وہ حصہ ا تنا کمز ور ہے کہ وہ نہ ہو نے کے بر ا بر ہے تو خو د سے کچھ سکھنا تو دور کی با ت ہے وہ جو آ پ سکھا ئیں اس کو سمجھ لے وہ بھی بہت بڑ ی بات ہو گی“۔ڈا کڑ اس با ربنا ر کے بو لتا چلا گیا تھا اس و قت ان دو نو ں کو ہی لگا تھا کہ یہ کتنا ہی مشکل ہو گا بچے اس سے بھی زیا دہ ا بنا ر مل ہو تے ہیں ا ور تھو ڑی مشکل سے ہی سہی پر ا چھی خا صی ز ند گی گز ا رتے ہیں مگر اس کا ا ندا زہ انہیں آ نے وا لے چند د نو ں میں ہی ہو گیا تھا۔
پچھلے با رہ سا لو ں میں عنا نے کیا کچھ نہ کیا تھا ا یک سے ا یک بڑ ھ کر سا ئیکا لو جسٹ کو ر کھا ا س کے لیے جو اس کے د ما غ کی حا لت کو سمجھ کر اس کو چیز یں سمجھا نے کی کو شش کر تے ایک سے بڑ ھ کر ا یک ڈاکڑ کو
د یکھا یا تھا صر ف اس کی و جہ سے خطر ہ ہو نے کے با وجو د عنا نے ا بر ا ہیم کو ا پنی سر جر ی کے لیے ر ضا مند کیا تھا اور دن رات اللہ سے د عا ما نگی تھی سر جر ی کی کا میا بی کی کہ اور نہ صیح تو ا سے اتنا وقت دے دے کہ وہ ا پنی بچی کو اس د نیا میں جینا سکھا سکے۔
وقت کے سا تھ سا تھ ہر کو ئی ہا ر ما نتا گیا پر اس نے نہیں ما نی تھی اس کی ز ند گی کا تو جیسے مقصد ہی وہ تھی ابراہیم تو جیسے کہیں پیچھے رہ گیا تھا اتنے سا لو ں کی محنت کے بعدبھی صرف وہ ٹو ٹے پھو ٹے ا لفا ظ بو لیتی تھی ہر نئی چیز اور ہر نئے شخص خا ص طور پر ا بر ا ہیم کو تو د یکھ کر کو نے کھدروں میں چپ جا تی تھی اتنے سا ل گز رنے کے بعد بھی ا بر ا ہیم نے اسے کبھی ا پنا یا ہی نہیں تھا نہ ہی عنا کے کہنے پر اور نہ ہی آ پی کے کہنے پر۔
بادل کی زور دا ر گر ج عنا کو ما ضی سے نکا ل کر حا ل میں لا ئی تھی اس نے گھبر ا کر صا لحہ کی طرف د یکھا تھا کہ وہ پھر سے نہ ڈر جا ئے مگر وہ اسی طر ح کھڑ ی بھیگ ر ہی تھی ا یک دم چپ چا پ بنا کسی تا ثرات کے اس کو کچھ بھی سکھا تے وقت کتنی ہی با ر عنا کو لگتا تھا کہ شا ید وہ کسی پتھر سے ا پنا سر ما ر رہی تھی۔
Read More: Episode 1..................................
”حو رین تمہیں کچھ تو ہوا ہے“۔وہ دو نو ں سیڑ ھیا ں ا تر رہی تھی جب ا پنے سے تھو ڑی آ گے مو جودحو رین کو اس نے کہا تھا اس دن عا بد ا نکل کے گھر سے آ نے کے بعد سے وہ اور بھی چپ ہو گئی تھی اور اس دن عا بد ا نکل نے جو راز فا ش کیے تھے اس کے بعد اب تو ا نا بیہ کا تجسس بھی اس معا ملے میں بڑ ھ گیا تھا۔
”کچھ نہیں ہو ا تمہا را وہم ہے“۔حورین نے اس کی طر ف مڑ ے بغیر جو اب دیا تھا آ ج دادو نے ا نہیں خو د ا لما ری کی چا بیا ں دی تھی حو رین کے وا لد کے کچھ کا غذ نہیں مل ر ہے تھے وہ ڈھو نڈ نے کے لیے۔
”نہیں و ہم تو نہیں ہے تم پہلے کی طر ح شر ا رتو ں میں میرا سا تھ نہیں د یتی میں کو ئی بات کر وں تو اس کا بھی ہاں ہوں میں جو ا ب د یتی ہو اور وہ صا لحہ کا بھو ت تمہا رے سر پر سو ار تھا وہ تو جیسے ا تر ہی گیا ہے آ خر کو ئی وجہ تو ہو گی ان سب کی“۔اب کی ا نا بیہ نے اس سا منے آ کر کھل کر با ت کی تھی ا یک ہفتہ ہو گیا تھا اسے اس
طرح کر تے اب صا ف بات کر نا بنتی تھی۔
دو سری طر ف حورین اس ہی سو ا ل سے بچنا چا ہتی تھی ”کچھ بھی نہیں ہوا بس اب مجھے لگتا ہے کہ دا دو صیح کہتی تھی جو با تیں ہم سے چھپا ئی گئی ہو سکتا اسی میں ہما ری بھلا ئی ہو“ وہ اسے پیچھے ہٹا تی ہو ئی بو لی تھی۔
”سیر یسلی یہ تم کہہ ر ہی ہو“۔وہ دو نو ں سیڑ ھیا ں ا تر چکی تھی اور ا ن کا رخ کچن کے آ گے مو جود دادو کے کمر ے کی طر ف تھا ”یا ر میں صر ف کہہ ر ہی ہو ں کہ د یکھو پہلے ہم اس ہی چا بی کی خا طر کتنی محنت کر رہے تھے اور آ ج ہمیں یہ و یسے ہی مل گئی تو کیو ں نہ مو قعہ کا فا ئد ہ ا ٹھا یا جا ئے اور کچھ اور تلا شی لی جا ئے کیا پتہ کچھ مل ہی جا ئے تو پھر کیا کہتی ہو“۔وہ پر جو ش ہو کر بو لی تھی۔
”نہیں“۔ حورین نے ا یک پل کی مہلت نہیں لی تھی اور فو راً جو ا ب دیا تھا۔
”ٹھیک ہے جیسا تمہیں ٹھیک لگے پھر نہ کہنا میں نے کہا نہیں تھا“۔اس کا مو ڈ اب آ ف ہو چکا تھا اور چپ چاپ دو نو ں دا دو کے کمر ے میں آ ئے تو انا بیہ چپ چا پ دادو کے بیڈ پر بیٹھ گئی اور وہ ا لما ری کھو ل کر کا غذات ڈھو نڈ نے لگی اس کے بعد ا سے معلو م تھا ا نا بیہ کو بھی منا نا تھا جو کہ کا فی مشکل کا م تھا۔
کچھ فا ئلیں گھنگا لنے کے بعد آ خر ا سے مطلو بہ کا غذا ت مل ہی گئے وہ با قی کاغذ ات سمیٹ کر وا پس ر کھنے لگی تو اس کی نظر نیچے پڑ ی ا یک پر ا نی فا ئل پر گئی تجسس کے ہا تھو ں اس نے وہ فا ئل ا ٹھا لی اسے ا ٹھا کر د یکھا تو ا س میں کچھ نکا ح نا مے پڑ ے تھے وہ ا نہیں د یکھنے لگی ا پنے ما ں با پ کا نکا ح نا مہ د یکھ کر وہ جیسے چو نک پڑ ی تھی ا س میں پہلی بیو ی وا لے خا نے میں کسی کا ا نگو ٹھا لگا تھا۔
..........................
کچھ دن کی با ر شو ں بعد آ ج مو سم صا ف تھا خز ا ں کا مو سم شر و ع ہو گیا تھا اور د ر ختو ں کے بھی چھڑ نا شر وع ہو گئے تھے ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی سی بھی آ ج کا فی د نو ں بعد سورج نکلا د یکھ کر عنا بھی با ہر موجو د چھو ٹے سے گا رڈن میں آ کر بیٹھ گئی تھی آج اس نے و ہیل چیئر نہیں ا ستعما ل کی تھی تقر یباً با رہ سا ل پہلے ہو نے وا لی سر جر
کو کھو نے جب سے اس کا ٹیو مر دو با رہ ا بھرا تھا تب سے نا جا نے کتنی ہی ر ا تیں وہ اس خو ف سے سو نہیں پا یا تھا اور اب بھی ر ات کو دو تین با ر وہ ا ٹھ کر اس کو چیک کر تا تھاکہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں آ فس جا تا تو بھی جلدی آ نے کی کو شش کر تا تھا۔
”ابر ا ہیم“۔کچھ د یر کی خا مو شی کے بعد عنا نے ا سے پکا را تھا کتنے عر صے اس نے ا سے ا یسے پکا را تھا صا لحہ کے بعد سے ان میں با ت چیت کم ہو گئی تھی اس کا ز یا دہ و قت صا لحہ کے سا تھ گز ر تا اور ا بر ا ہیم کا آ فس میں دو با رہ ٹیو مر کی خبر کے بعد وہ کو شش کر تا تھا ز یا دہ سے زیا دہ ٹا ئم اس کے سا تھ گز ا رنے کی مگر ز یا دہ تر با ت نہیں کر تا تھا جا نتا تھا یا تو صا لحہ کی با تیں کر ے گی یا پھر ا پنے جا نے کی ا ور یہ دو نو ں ہی سچ ا سے قبو ل نہ تھے اس لیے وہ نظر ا ندا ز کر نے کی کو شش کر تا۔
”ہا ں“۔ اس نے سا منے سے نظر یں ہٹا کر اس کی طر ف د یکھا گز ر تے سا لو ں میں وہ کتنی بد ل چکی تھی پہلے و ا لی عنا تو کہیں سے بھی نہیں لگتی تھی سر کے با ل جھڑ چکے تھے چہر ہ مر جھا چکا تھا آ نکھو ں کے گر د حلقے گہر ے تھے ا ور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا ر ہا تھا اس کے بس ہو تا تو اس کی سا ر ی تکلیفیں خو د لے لیتا اور ا سے کہتا کہ وہ خو ش ر ہے بس۔
”ڈو بتے سو رج کا منظر کتنا خو بصو ر ت ہے ہیں نہ“۔ اب عنا نے اس کی آ نکھو ں میں غو ر سے د یکھا تھا۔
”ہا ں وہ تو ہے“۔ وہ نظر یں چر ا گیا تھا اس سے ز یا دہ د یر نہیں د یکھ پا یا تھا۔
”آ پکو معلو م ہے جب میر ا نا م آ پ سے جڑا تھا تب میں نے کتنی ہی با ر سو چا تھا کہ جب ہم بو ڑھے ہو جا ئے گے نہ تب اسی طر ح کی شا م میں یہ منظر د یکھیں گے اور بیتی ز ند گی کو سو چ کر مسکر ا ئے گے مگر اب لگتا ہے شا ید ہی کبھی یہ منظر د یکھ پا ؤ ں“۔ عنا کی نظر یں اب بھی اس کے چہر ے پر جمی تھی جس کے تا ثر ات بتا ر ہے تھے کہ اس کی با تیں ا سے کتنا تو ڑ ر ہی تھی وہ بو ل بھی نہیں پا ر ہا تھا۔
”میں چا ہتی ہو ں آ پ مجھ سے ایک و عدہ کر ے میر ے بعد آ پ صا لحہ کا“۔عنا کی آ وا ز میں اب کی با ر نمی
تھی۔
”ا یسا مت بو لو پلیز تمہیں خدا کا و ا سطہ ہے مجھے اور مت آ ز ما ؤ“۔وہ اور نہیں سن پا یا تھا اور بے بسی سے اس کی طر ف د یکھ کر بو لا تھا۔
”نہیں ا بر ا ہیم نہیں آ ج میں بو لو ں گی اور آ پ کو سننا ہو گا“۔وہ اس کا ہا تھ تھا متے ہو ئے بو لی تھی اس کے لہجے میں ا یک ضد سی تھی ایسی ہی ضد جس سے وہ ہر با ر ا پنی با ت منو ا لیا کر تی تھی۔
”تمہیں پتہ ہے تم کو ن ہو تم تو وہ لڑ کی تھی جس نے بھر ے مجمے میں ا ٹھ کر مجھے تب ہمت دی تھی جب میر ے ہر طر ف ا ند ھیر ا تھا اور مجھے تب جینے کی و جہ دی تھی جب میں نے ز ند گی سے ہا ر ما ن لی تھی تم نہ ملتی تو پتہ نہیں میں خو د کے سا تھ کیا کر لیتا“۔ وہ سا نس لینے کے لیے رکا تھا اب کی با ر اس کے ا پنے لہجے میں نمی در آ ئی تھی۔
”تو تم...اس ا پنے آ نسو نگلے تھے ”تم کیسے ہا ر ما ن سکتی ہو عنا میر ے لیے نہ سہی ا پنی بچی کے لیے ہی سہی
ہمت کر و میر ے سا تھ ر ہو تم جا نتی ہو میں اس کا خیا ل نہیں ر کھ پا ؤ ں گا کبھی بھی“۔اس کے ہا تھو ں کو پکڑ کر وہ بو لا تھا اس وقت اس کے لہجے میں ا لتجا تھی ا یک بے بسی سی تھی۔
”جا نتی ہو ں پر ا بر ا ہیم میں تھک گئی ہو ں اس بیما ر ی سے لڑ تے لڑ تے اب ہمت نہیں رہی میں چا ہتی ہو آ پ سچ کو قبو ل کر ے اور مجھ سے و عد ہ کر ے آ پ صا لحہ کا خیا ل ر کھے گے جتنا ہو سکا آ پ سے“۔ وہ رو ہی پڑ ی تھی جب کے وہ خا مو ش تھا۔
”ابر ا ہیم مجھ سے و عد ہ کر ے تا کہ میں بے فکر ر ہو ں کہ میر ے بعد وہ ا کیلی نہیں ہو گی“۔ اس نے ا پنا ہا تھ اس کے سا منے کیا تھا۔
”تمہیں پتہ ہے تم بہت بر ی ہو مجھ ا کیلی چھو ڑ ر ہی ہو میر ی ما ں کی طر ح“۔ و ہ خو د کو سنبھا لنے کی پو ری کو شش کر رہاتھا۔
”ا بر ا ہیم پلیز اسے میر ی آ خر ی خو ا ہش سمجھ کر پو ری کر دو“۔ ا پنے آ نسو پو نچھتی وہ ا لتجا ئی لہجے میں بو لی تھی اس سے آ گے وہ کچھ نہیں بو ل پا یا تھا اور نہ چا ہتے ہو ئے بھی ہا تھ ا س کے ہا تھ پر ر کھ دیا اور ا یک نم سی مسکر ا ہٹ سے مسکر ا دی تھی اسے لگا تھا ا بر ا ہیم اس سے کیا و عد ہ ہر حا ل میں نبھائے گا مگر وہ نہیں جا نتی تھی کہ کچھ و عد ے صر ف کر نے کے لیے ہو تے ہیں نبھا نے کے لیے چا ہے پھر وہ ا بر ا ہیم جیسا ا پنی با ت کا کھر ا ا نسا ن کیو ں نہ ہو۔
..............................
.