نا ول
Episode # 8
”کیا ہو ا مل گئے کا غذ یا نہیں“۔ا نا بیہ کی آ وا ز پر ا س نے کا غذ سے نظر یں ا ٹھا کر ا سے د یکھا تھا جو کے اسے مصر و ف د یکھ بیڈ پر بیٹھی مو با ئل ا ستعما ل کر رہی تھی اور اب اسے د یکھ رہی تھی وہ شا ید بو ر ہو رہی تھی۔
”ہا ں بس دو منٹ اور“۔حورین خو د کو نا ر مل ہی ر کھا تھا کسی حد تک جب تک کسی با ت کا ا تے خو د یقین نہ ہو جا ئے وہ اسے نہ ہی بتا تی تو ا چھا تھاکا غذ و ں کو فا ئل میں ر کھنے کے بعد اس نے سب کچھ پہلے کی طر ح ر کھا
اور ا لما ری کو لا ک لگا کر ا نا بیہ کے سا تھ دا دو کے پا س چلی آ ئی ا دھر تھو ڑی د یر بیٹھنے کے بعد وہ ا پنے کمر ے میں آ گئی تھی اب تو وہ یہ بھی بھو ل گئی تھی ا سے تو ا نا بیہ کو منا نا تھا د ما غ با ر با ر اسی طر ف جا ر ہا تھا۔
”ا گر ا بو کی پہلے شا دی ہو ئی تھی تو کبھی اس بات کا ذ کر گھر میں کیو ں نہیں ہوا تھا اور ان کی وہ بیو ی اب کہا ں تھا ا گر طلا ق د یا ہو تا تو و ہا ں کوئی طلا ق نا مہ کیو ں نہیں؟کیا ما ما کو پتہ ہے اس با ت کا؟ ا یک کے بعد ا یک سو ا ل سر ا ٹھا ر ہے تھے اور ا سے سمجھ نہیں آ ر ہی تھی کہ کس سے پو چھے اگر گھر میں کسی سے پو چھتی تو کہیں کو ئی طو فان نہ کھڑا ہو جا ئے۔
ا چا نک اس کے د ما غ میں عا بد ا نکل کی آ وا ز آ ئی تھی جنہیں وہ تب ٹھیک سے تو نہ سن پا ئی تھی مگر زور د یا تو یا دآیا جب دا دا ا بو کی دو سر ی شا دی کی با ت ا نا بیہ نے کی تھی تب ا نہو ں نے اس کے و ا لد کے متعلق کو ئی
بات کی تھی اور اب بھی اس کی ا لجھن کو وہ ہی د ور کر سکتے تھے اور بہت سو چنے کے بعد اس نے ان سے ہی ساری با ت جا ننے کا سو چا تھا یہ سو چے بغیر کہ ما ضی کے ا یسے بھدے ر ا زو ں سے پر دہ ا ٹھنے والا تھا کہ جس کے بعد شا ید ہی کو ئی نا ر مل رہ سکتا تھا ا س ا بر ا ہیم ولامیں۔
........................
اس دن کے بعد سے عنا کی حا لت دن بہ دن بگڑ تی جا رہی تھی کا فی د ن ہسپتا ل ر ہنے کے بعد آ ج وہ گھر آ ئی تھی ڈا کڑ اس کا مکمل جو ا ب د ے چکے تھے اس لیے وہ ا پنی زند گی کی آ خر ی سا نسیں ا پنے گھر میں لینا چا ہتی تھی صا لحہ کو د یکھنا چا ہتی تھی ہسپتا ل سے آ ئی کو چند گھنٹے ہی گز ر ے تھے کہ اس کی حا لت بگڑنے لگی تھی وہ بیڈ پر لیٹی ہو ئی تھی اور ا بر ا ہیم اس کے پا س بیٹھا ہوا تھا۔
”ا بر ا ہیم آ پ کو مجھ سے کیا و عد ہ یا د ہے ہیں نا ں“۔ اس و قت بھی اس کو ا پنے جسم میں ا ٹھتے درد کی کو ئی پر واہ نہیں تھی۔
”ہا ں یا د ہے“۔مجھے وہ اس کا ہا تھ تھا متا ہو ا بو لا ا سے ا پنے سا منے اس طر ح د یکھ وہ ا سے ما یو س نہیں کر پا یا تھا۔
”ہا ں پھر ٹھیک ہے اب میں سکو ن سے جا سکتی ہو ں“۔ عنا کے چہر ے پر ا ب بھی تکلیف کے ا ثا ر تھے لیکن ا ب اس پر ا یک طر ح کا سکو ن سا بھی تھا وہ نہ کتنی با ر مد یحہ سے بھی یہ و عد ہ لے چکی تھی مگر جا نتی تھی اس کے حا لا ت کے سا تھ مشکل تھا ہر و قت صا لحہ پر نظر ر کھنا۔
”تمہیں پتہ ہے تم بلکل بھی ا چھی نہیں ہو تم نے و عد ہ کیا تھا تم ہمیشہ میر ا سا تھ نبھا ؤ گی اور اب مجھے یو ں در میا ن میں ا کیلا چھو ڑ کر جا رہی ہواور مجھ سے وعد ے لے رہی ہو“۔ اس کی ز با ن پر شکو ہ تھا وہ ا س کے با ر ے کیو ں نہیں سو چ ر ہی اس نے کب سیکھا تھا ا س کے بغیر جینا۔
”جا نتی ہو ں میں بر ی ہو ں پر میں نے تو کبھی کو ئی بھی بات نہیں ما نی آ پ کی ہمیشہ ا پنی مر ضی ہی کی ہے
ہے نا ں“۔ وہ درد کے با و جو د مسکر ا ئی تھی۔
”لیکن ا بر اہیم اس با ر میں نے کو شش کی تھی پر اب ا ور نہیں کر پا رہی اس کے لیے ہو سکے تو مجھے معا ف کر د ینا اور میں تمہیں ا کیلا نہیں چھو ڑ ر ہی تمہیں ا پنی سب سے قیمتی چیز د ے رہی ہو ں ہما ر ی بیٹی“۔ اس کی سا نسیں ا یک د م سے ا کھڑ نا شر و ع ہو گئی تھی۔
”ا چھا تم بو لو نہیں ا بھی آ را م کر و ہم پھر بات کر ے گے“۔ وہ اس کی حا لت د یکھ کر گھبر ا گیا تھا۔
”نہیں ا بر ا ہیم مجھے لگتا ہے میر ا و قت آ گیا“۔وہ بمشکل ہی بو ل پا ئی تھی۔
”نہیں نہیں تم... تم ر کو میں ڈا کڑ کو بلا تا ہو ں وہ پا س ہی ہے تمہیں ا تنی جلد ی کچھ نہیں ہو گا“۔ وہ اس کا تھا ما ہا تھ چھو ڑتا نیچے کی طر ف بھا گا تھا اس کی حا لت کے پیش نظر وہ ا یک ڈا کڑ کو سا تھ لا یا تھا۔
”ا بر.... ا بر ا ہیم مت جا ؤ“۔ وہ پکا ر تی رہ گئی پر وہ پہلے ہی جا چکا تھا ا س کی سا نسیں ٹو ٹ ر ہی تھی ا ور نظر یں د ر وا ز یں کی طر ف کی تھی اور و ہا ں ا سے وہ چہر ہ نظر آ یا تھا جسے د یکھ کر ا س کے دل میں تڑ پ مز ید بڑ ھ گئی تھی و ہا ں صا لحہ کھڑ ی تھی ا پنی ڈو ل لیے جس کو ا س نے مضبو طی سے تھا م ر کھا تھا اور ڈ ری سہمی سی ا سی کو د یکھ ر ہی تھی ا پنی ٹو ٹتی بکھر تی سا نسو ں کے بیچ عنا نے ا پنا ہا تھ اس کی طر ف بڑ ھا یا تھا اور ا پنے پا س آ نے کا ا شا رہ کیا تھا۔
وہ ڈری سہمی کچھ د یر د یکھنے کے بعد د ھیر ے د ھیر ے قد م بڑ ھا تی اس کے پا س آ ئی تھی ا ور پھر آ گے بڑ ھ کر ا پنا ہا تھ ا سکے ہا تھ پر ر کھ دیا جسے عنا پیا ر سے پر مضبو طی سے تھا ما تھا اور ا یک نم سی مسکر ا ہٹ سے مسکر ا دی تھی جیسے اسے یقین د لا یا ہو کہ وہ ا س کے بعد بھی ٹھیک ر ہے گی اور اس کے سا تھ ہی آ نکھیں بند کر لی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
Read More: Episode 1 ............................
ا نا بیہ کی طبیعت خر ا ب ہو نے کی و جہ سے وہ آ ج یو نیو ر سٹی نہیں آ ئی تھی تو حورین ا کیلی ہی تھی اور اس سے
بہتر مو قعہ کو ئی ا وراس لگ نہیں ر ہا تھا وہ اس سا ر ے معا ملے میں ا بھی انا بیہ کو شا مل نہیں کر سکتی تھی اس خو د کی ا لجھینں کچھ کم ہو تی تو وہ اسے کچھ سمجھا پا تی و یسے بھی ا بھی ان کی بو ل چال بند تھی تو آ د ھے ا د ھو رے سو ا ل اس کو منا نے کے لیے کم تھے تو بہتر تھا ا بھی کے لیے وہ چپ چا پ جو کر سکتی تھی وہ کر تی آ خر ی کے لیکچر چھو ڑ کر وہ لو کل ہی عا بد ا نکل کے گھر کی طر ف چل پڑ ی تھی آ ج ڈ را ئیو ر بھی کسی کا م کی و جہ سے جلد ی چلا گیا تھا اب وہ ان کے لا ؤ نج میں بیٹھی ان کا و یٹ کر ر ہی تھی جب سے ز ین نے کا م سنبھا لا تھا تب سے ا نکل خو د تو جیسے ر یٹا ئر ڈ ہی ہو گئے تھے بس کبھی کبھی چکر لگا لیتے تھے اس کی و جہ بھی ز ین ہی تھا اس نے انہیں خو د ہی منع کیا تھا ا س عمر میں محنت کر نے سے۔
”ارے و اہ بھئی کیا با ت ہے اس ما ہ میں دو سر ی با ر میں ا پنی بیٹی کو د یکھ رہا ہو ں“۔حو رین کو ا نتظا ر کر تے بمشکل آ د ھا گھنٹہ ہو ا تھا کہ ا نکل عا بدلا ن میں د ا خل ہو ئے تھے وہ ا ٹھ کر ا نہیں سلا م کر نے لگی تھی لیکن ان کے پیچھے زین کو د یکھ کر ر ک گئی جس کاا اس و قت ہو نا حو ر ین کے لیے حیر ت کی بات تھی عا م طو ر پر وہ کم ہی گھر پا یا جا تا تھا اسے و ہی کھڑ ا د یکھ کر عا بد ا نکل نے خو د ہی آ گے بڑ ھ کر اس کے سر پر ہا تھ ر کھا تھا اور پا س پڑ ے ہو ئے صو فے پر بیٹھتے ہو ئے بو لے تھے۔
”جی ا نکل وہ بس ا د ھر سے گز ر رہی تھی تو سو چا آ پکا حا ل چا ل پو چھ لو ں“۔وہ دو با رہ سے بیٹھتے ہو ئے بو لی تھی وہ ز ین کی مو جو دگی میں عجیب سا محسو س کر ر ہی تھی ا یک تو پہلی با ر وہ ا نا بیہ کے بغیر یہا ں آ ئی تھی اور ا و پر سے ز ین کا یہا ں ہو نا۔
”با با آ پ با ت کر یں میں تھو ڑی د یر میں آ کر آ پ کو د وا ئی دیتا ہو ں“وہ شا ید حو ر ین کا آ کو رڈ ہو نا محسوس کر چکا تھا اس لیے وہا ں سے چلا گیا۔
”ا نکل دوا ئی کس لیے آ پ ٹھیک تو ہیں“ ا سے ا پنے ر و یے پر شر مند گی ہو ئی تھی۔
”ہا ں بیٹا سب ٹھیک ہے بس اس عمر میں تھو ڑا ہو جا تا ہے بس ز ین کی عا د ت ہے چھو ٹی چھو ٹی با ت پر پر
یشا ن ہو جا تا ہے دو ا ئی کی ضر و ت بھی نہیں تھی بس تھو ڑا سا بی پی ہی ہا ئی ہوا تھا “ وہ صو فے کی پشت سے ٹیک لگا تے ہو ئے بو لے تھے حو رین نے ا نہیں غو ر سے د یکھا تو اسے ز ین کے یہا ں ہو نے کی و جہ سمجھ آ ئی تھی وہ چہر ے سے ہی کمز ور لگ ر ہے تھے۔
”تو ا نکل صیح ہے نہ آ پ ا یک با ر د یکھے تو سہی کتنے کمز ور لگ ر ہے ہیں“ وہ فکر مند ہو کر بو لی تھی ا سے عا بد ا نکل دادو کے با ر ہا سمجھا نے کے بعد بھی کبھی بر ے نہیں لگے تھے بلکہ ہمیشہ ا پنا یت سی محسو س ہو ئی تھی۔
”تم بچے بھی نہ چھو ٹی چھو ٹی با تو ں پر پر یشا ن ہو جا تے ہو“ وہ ہلکا سا مسکر ا تے ہو ئے بو لے تھے پھر تھو ڑی د یر وہ ا د ھر ا دھر کی با تیں کر نے لگے جب کے حو ر ین صر ف سن ر ہی تھی اور ہا ں ہو ں میں سر ہلا ر ہی تھی وہ ہمت کر کے آ تو گئی تھی مگر اب پو چھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی جو بھی سو ا ل تھے وہ اس کے با پ کا ما ضی تھا جو کہ اس کے لیے کم ا ز کم آ سا ن نہ تھا تھو ڑی د یر بعد ملا ز مہ کھا نے پینے کا سا ما ن ر کھ کر گئی تھی جن میں سے وہ ا ب چائے کا کپ ا ٹھا کر پی ر ہی تھی تو عا بد ا نکل نے ا پنی آ نکھیں بند کر لی تھی وہ ا ب تھک گئے تھے۔
اب پو رے لا ن میں خا مو شی چھا چکی تھی وہ چا ئے ختم کر کے کپ کو وا پس ر کھ چکی تھی اور اب گو د میں ر کھے ر جسڑ کے کو نے کو کھر چ ر ہی تھی عا بد نے آ نکھیں کھو ل کر د یکھا تو وہ سر جھکا ئے ر جسڑ سے لگی ہو ئی تھی ا نہیں وہ پہلے ہی ا لجھی ہو ئی سی لگی تھی عجیب تو ا نہیں اس کا اس طر ح آ نا لگا تھا پہلے وہ کبھی ان کے کہنے پر بھی نہ آ ئی تھی تو آ ج کیسے کو ئی با ت تو تھی آ خر ا نہو ں نے خو د ہی پو چھ لیا۔
”کیا با ت ہے بیٹا کچھ کہنا چا ہتی ہو“ ا نہو ں نے صو فے کی پشت چھو ڑ ی اور مکمل نا ر مل سے لہجے میں پو چھا تھا۔
”جج....جی ا نکل“ کمر ے ا چا نک ٹو ٹنے و ا لی خا مو شی ا سے چو نکا گئی تھی۔
”آ پ کچھ پر یشا ن لگ ر ہی ہو ا گر کو ئی مسئلہ ہے تو آ پ مجھ سے کہہ سکتی ہیں بنا کسی جھجک کے میں آ پ
کی مر ضی کے بغیر کسی سے نہیں کہو ں گا“ ا نہو ں نے اس کی ہمت بڑ ھا نے کے لیے مز ید بو لا تھا اور حو ر ین کو شا ید یہ ہی چا ہیے تھا کہ اس سے وہ خو د پو چھے تب ہی وہ ہمت کر پا ئے۔
”ا نکل ا س دن میں ا ور ا نا بیہ آ ئے تھے تب آ پ نے میر ے و الد کی شا دی کے متعلق کو ئی بات کی تھی“ وہ ان کا ر د عمل د یکھنے کے لیے ر کی تھی۔
”جی یا د ہے مجھے“ انہو ں نے یا د کر تے ہو ئے بو لا تھا جب کے چہر ے پر تھو ڑی حیر ا نی تھی۔
”آ پ نے کہا تھا ان کی میر ی ا می سے پہلے بھی کسی شا د ی ہو ئی تھی کیا ان کی پہلی وا ئف کا نا م صا لحہ تھا“ اس سو ا ل کا جو ا ب پہلے سے ہی جا نتی تھی پر پھر بھی چا ہتی تھی کہ کا ش کسی طر ح اس کا غذ پر لگا وہ ا نگھو ٹھا جھو ٹ ہو جا ئے۔
”ہا ں اس کا نا م صا لحہ تھا وہ تمہا ر ے دا دا کی بیٹی تھی ا ن کی پہلی و ا ئف سے“ ایک ہی پل اس کی ر ہی سہی ا مید بھی ختم ہو گئی تھی۔
”پر کیسے ا گر وہ دادا کی بیٹی تھی تو میر ے وا لد بھی تو ان کے... ا یسے کیسے ہو سکتا تھا“۔ وہ بے ر بط سا بو لی تھی سمجھ نہیں آ ر ہی تھی کیا ر ی ا یکٹ کر تی۔
”بیٹا آ پکو کسی نے یہ بھی بتا یا“ اب کے وہ پو ری کی پو ری طر ح حیر ا ن ہو ئے تھے۔
”نہیں“ حو رین نے ا یک لفظی جو ا ب د یا تھا وہ ز یا دہ بو ل ہی نہیں پا ر ہی تھی ہا تھ ا ب بھی ر جیسڑ پر تھے۔
”آ پ کے و ا لد ر ضا آ پکی د ا دو کے پہلے شو ہر کے بیٹے تھے وہ بیو ہ تھی جب ا ن کی شا دی ا بر ا ہیم ما مو ں سے ہو ئی تھی ان کی پہلی و ا ئیف کی ڈیتھ کے بعد“ وہ ا یک لمبی سا نس لینے کے بعد ا یک ہی سا نس میں بو لے تھے۔
یہ سب حو ر ین کے لیے کسی ز لز لے سے کم نہ تھا ا سے پہلی با ر لگ ر ہا تھا جیسے وہ ا پنے سے جڑ ے لو گو ں کو پہلی با ر جا ننے لگی تھی۔
”ا گر میر ے با با پہلے سے شا دی شد ہ تھے تو ا نہو ں نے میر ی ا می سے شا دی کیو ں کی تھی؟اور ا گر کی بھی تھی تو صا لحہ کو اس طر ح کیو ں چھو ڑا گیا تھا؟ ا س گھر میں جو کے اس کے با پ اور شو ہر کا تھا ا سے کو ئی بھی جا نتا کیو ں نہیں ا س گھر میں“ ا پنے ذ ہن سرا ٹھا تے سا ر ے سو ا ل وہ ا یک ہی با ر میں ا ن کے آ گے ر کھ چکی تھی
”سچ کہو ں تو ز یا د ہ کچھ میں بھی نہیں جا تنا ا ور جو جا نتا ہو ں وہ آ د ھا ا د ھو ر ا بتا کر آ پ کو یا کسی اور کو ہر ٹ نہیں کر نا چا ہتا“اور ا ب کی با ر سنجید گی سے بو لے تھے اور حو ر ین وہ تو جیسے لا جو ا ب ہو چکی تھی کہتی بھی تو کیا کہ ا سے ا پنے با پ ا ور دا دا کے با ر ے میں ان سے پو چھنا پڑ ر ہا ہے جو سب ا سے خودپتہ ہو نا چا ہیے تھا۔
”تو چلے یہ تو بتا د ے وہ اب کہا ں ہے“ آ خر اس نے شر و ع دن ا سے خو د کو ا ذ یت د یتا سو ا ل پو چھا تھا۔
”کو ن‘‘ عا بد ا نکل نے نا سمجھی سے پو چھا تھا۔
”صا لحہ ا نکل صا لحہ ا ور کو ن وہ اب کہا ں ہے اور کس حا ل میں ہے“ ا یک با ر پھر وہ تھو ڑی ا مید سے بو لی تھی ا گر وہ جا نتے تھے کہ وہ کہا ں ہے تو با قی سو ا لو ں کے جو ا ب بھی مل سکتے تھے۔
”بیٹا اس سو ا ل کا جو ا ب تو میں خو د بھی نہیں جا نتا“ وہ ا یک لمحے کے لیے ر کے ا ور پھر سے گو یا ہو ئے ”بلکہ اس کے با ر ے میں کو ئی بھی کچھ نہیں جا نتا اس کے غا ئب ہو نے کے جب ہمیں پتہ چلا تھا تب میں نے بہت کو شش کی تھی ا س کو ڈ ھو نڈ نے کی پر پتہ نہیں ا سے ز مین کھا گئی تھی یا آ سما ن اس کا کو ئی نشا ن نہیں ملا“ وہ د و با رہ صو فے سے ٹیک لگا چکے تھے ان کے لہجے میں ا یک پچھتا و ا سا تھا جو کہ حو ر ین نہیں نو ٹ کر پا ئی تھی کیو نکہ ان کے ا لفا ظ اس کی تھو ڑی د یر پہلے و الی ا مید بھی ختم کر چکی تھی وہ جو یہا ں ا لجھنیں سلجھا نے آ ئی تھی ا ور ز یا د ہ ا لجھ چکی تھی اور سمجھ نہیں آ ر ہی تھی اب کس کے پا س جا کر ا ن ا لجھنو ں کا حل تلا ش کر تی۔
......................................
عنا کو گئے ا یک مہینے سے ا و پر ہو گیا تھاا س رات جب وہ ڈ ا کڑ کو لے کر لو ٹا تو عنا پہلے ہی جا چکی تھی اس کے پا س بت بنی صا لحہ کھڑ ی تھی ا س کا ہا تھ مظبو طی سے تھا مے ہو ئے ا بر ا ہیم تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا کتنی د یر وہ ا سے و ہیں کھڑ ا تکتا ر ہا تھا سا جد ہ جو کہ ا ب ا د ھر کو ا ر ٹر میں ہی ر ہتی تھی اس نے فو ن کر کے مد یحہ کو ا طلا ع دی تھی وہ ر ویا نہیں تھا پر سنبھل بھی نہ پا یا تھا ز یا د ہ تر ا پنے کمر ے میں ہی بند ر ہتا تھا مد یحہ کے بہت ا صر ا ر پر تھو ڑا بہت کھا لیتا تھا بہت کم بو لتا تھا آ ج آ نے جا نے و ا لو ں کا ر ش کم ہو ا تو مد یحہ اس کے پا س آ کر بیٹھ گئی وہ ا پنے رو م میں صو فے پر سر جھکا ئے بیٹھا تھا۔
”ابر ا ہیم“ کچھ د یر کے بعد مد یحہ نے ا سے پکا ر ا تھا وہ سر چکا ئے ا پنی سو چو ں میں گم تھا مد یحہ کے پکا ر نے پر اس کی طر ف د یکھا بو لا کچھ نہیں تھا۔
”ا بر ا ہیم جا نتے ہو نہ پر سو ں عنا کا چا لیسو ا ں ہے جا نتے ہو نا“ وہ اس کی طر ف د یکھتے ہو ئے پر نم لہجے میں بو لی تھی عنا اس کے لیے بہنو ں سے بڑ ھ کر تھی پر کیا کر تی ز ند گی بھی تو گز ا ر نی تھی جس کے لیے ا نہیں ا بر ا ہیم کو ا س خول سے نکا لنا ضر و ری تھا۔
وہ ا ثبا ت میں سر ہلا گیا بو لا کچھ بھی نہیں تھا اور د و با رہ سر جھکا کر ا پنے ہا تھو ں کو تکنا شر و ع کر د یا۔
”میں جا نتی ہو ں مشکل ہے تمہیں ہمت تو کر نی ہو گی نہ ا یسے تو ز ند گی نہیں گز ر تی“ وہ اس کے کند ھے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی ”تمہیں معلو م ہے جا و ید اور ا ن کے گھر و ا لو ں کو نہیں پسند میر ا روز روز یہا ں ر ہنا“ ان کی با تو ں کا اس نے کو ئی جو ا ب نہیں د یا تھا جا نتا تھا ز ند گی ا ن کے لیے بھی آ سا ن نہ تھی ا ن کے شو ہر جا و ید و یسے تو ا چھے آ د می تھے پر انہیں مد یحہ کا ا پنے بھا ئی کی ا تنی فکر کر نا کو ئی خا ص پسند نہ تھاوہ ا پنے بچو ں کو لے کر کا فی پو ز یسسیو تھے ا ور نہیں چا ہتے تھے کہ کسی بھی و جہ سے ا ن کی ز ند گی یا تر بیت میں کو ئی کمی ر ہے چا ہے وہ مد یحہ ہو یا ا س کا بھا ئی۔
”تو میں چا ہتی ہو ں کہ میر ے سسر ا ل جا نے سے پہلے مجھے یقین ہو کہ تم ا پنا اور صا لحہ کا خیا ل ر کھ سکو تا کہ
میں تمہا ر ی طر ف بے فکر ر ہو ں“ کا فی د یر تک جب وہ نہیں کچھ بو لا تھا تو مد یحہ نے مز ید با ت بڑ ھا ئی تھی
”ا بر ا ہیم خد ا کے لیے کچھ تو بو لو ا پنی بہن پر کچھ تو تر س کھا ؤ اتنا کچھ کھو ہ دینے کے بعد میں تمہیں نہیں کھو سکتی“ وہ رو پڑ ی تھی۔
”آ پ کو معلو م ہے آ پی جب ا می گئی تھی ا س د نیا سے تب مجھے لگا تھا شا ید میں ا ب کسی ا پنے کو کھو د یا تو جی نہیں پا ؤ ں گا پر آ پ کو پتہ ہے ا ب عنا بھی چلی گئی ا ور مجھے.....مجھے د یکھیں کچھ بھی نہیں ہو ا میں ا سے ا پنے ہا تھو ں سے قبر میں ا تا ر آ یا اور پھر بھی بلکل ٹھیک ٹھا ک بیٹھا ہو ں آ پی میں بھی ا س کے سا تھ ہی کیو ں نہیں مر گیا میر ے د ل کر تا میں خو د کو آ گ لگا لو ں“ وہ پھٹ پڑ ا تھا اس کے ا ند ر کا سا ر ا غبا ر ا یک ہی با ر با ہر آ یا تھا جیسے ا ور اس کی با تیں مد یحہ کو ا ند ر تک ہلا گئی تھی۔
”ا یسے مت کہو ا بر ا ہیم میر ے حا ل پر تر س کھا ؤ میں کیا کر و ں گی ا گر تمہیں کچھ ہو گیا تھا“ ان کی با تیں ا بر ا ہیم کو ا پنے ا و پر سے گز ر تی محسو س ہو ر ہی تھی وہ پتھر سا ہو گیا تھا جیسے۔
”ا بر ا ہیم تمہیں پتہ ہے عنا ا گر تمہیں ا س طر ح د یکھتی تو ا سے کتنا د کھ ہو تا ا س کا آ خر ی سفر تو مشکل مت کر و میر ے لیے نہیں تو اس کے لیے ہی سہی ا پنے حا ل پر ر حم کھا ؤ“ وہ اپنے آ نسو ں کو پو نجھتے ہو ئے بو لی تھی۔
عنا کے ذ کر پر وہ تڑ پ ا ٹھا تھا خو د ہز ا ر با ر مر سکتا تھا پر ا سے تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا۔
”آ پی ا یسا نہ کہیں میں ا س کا آ خر ی سفر کیو ں مشکل کر و ں گا“ اس کی آ نکھو ں میں نمی تھی۔
”تو پھر ا س سے کیے ا پنے و عد ے پو ر ے کر و ا بر ا ہیم ا پنا اور صا لحہ کا خیا ل ر کھو وہ بچا ر ی تو یہ بھی نہیں جا نتی ا س نے کیا کھو یا ہے“ وہ ا یک ٹھنڈ ی سا نس بھر تے ہو ئے بو لی آ نکھو ں کے سا منے ا س معصو م کا چہر ہ تھا جو کے اس ر ات کے بعد ا ور ز یا د ہ ڈ ر ی سہمی سی ر ہنے لگی تھی اس کی نظر یں عنا کو کھو جتی تھی پر ا سے نہیں پتہ تھا وہ کہا ں گئی تھی ا ب تو سا جد ہ ہی مکمل طو ر پر ا س کی د یکھ بھا ل کر ر ہی تھی مد یحہ سے تو وہ کبھی بھی ا ٹیچ نہیں تھی۔
”ا بر ا ہیم....“ ا نہو ں نے د و با رہ پکا را تھا۔
”جی آ پی“ وہ ا ن کی طر ف د یکھ رہا تھا آ نکھو ں میں نمی بڑ ھ چکی تھی ”کر و گے نہ عنا سے کیا ہو ا و عد ہ پو را“
ان کی آ نکھو ں میں ا لتجا تھی اور اس با ر وہ کچھ نہیں بو ل سکا ا ور ا ثبا ت میں سر ہلا گیا تھا اور اس کے بعد وہ ان کی گو د میں سر ر کھ کر رو د یا تھا پہلی ز ند گی میں وہ ا تنا کمز ور پڑ ا تھا مد یحہ نے ا سے ر ونے د یا تھا ا چھا ا گر ا یک ہی با ر
سا را غبا ر نکل جا تا۔
................................