aik thi salah نا ول
Episode # 9
”حو ر ین بیٹا“ وہ بیگ ا ٹھا کر و ا پسی کے لیے نکلنے لگی تھی تب پیچھے سے عا بد ا نکل نے آ وا ز لگا ئی تھی اس سے پہلے ا نہو ں نے پو ر ی کو شش کی تھی کہ وہ کھا نے کے لیے رک جا تی پر وہ مز ید یہا ں نہیں ر و کنا چا ہتی تھی۔
”جی ا نکل“ ا س نے مڑ کر ا ن کی طر ف د یکھا تھا جو کہ اب آ نکھیں کھو لے ا س کی طر ف د یکھ ر ہے تھے۔
”اگر آ پ و ا قعی ہی میں سچ جا ننا چا ہتی ہیں تو ا س میں میں آ پ کا سا تھ د ینے کے لیے تیا ر ہو ں پر آپ کو یہ سمجھنا ہو گا پھر جو مر ضی ہو آپ ان سب سے پیچھے نہیں ہٹے گی“۔
انکل عا بد کے اس د ن کہے گئے ا لفا ظ اس کے کا نو ں میں گو نجے تھے تو وہ بستر سے ا ٹھ کر بیٹھ گئی گھڑ ی کی طر ف د یکھا تو سا ت بج ر ہے تھے تو اس نے سو چو ں سے پیچھا چھڑ ا نے کے لیے ا ٹھ کر یو نیو ر سٹی کی تیا ر ی کر نے لگی۔
اسے ا نکل عا بد کے گھر سے آ ئے ا یک مہینہ ہو چکا تھا ان کی با تو ں سے وہ ا تنی ا لجھ گئی تھی کہ ا س نے آ گے نہ بڑ ھنے کا سو چا تھا مگر سو چیں جا ن نہیں چھو ڑ ر ہی تھی انا بیہ ا ور ا س کی ان بن ا سی طر ح تھی یہ پہلی با ر ہو ا تھا جو وہ دو نو ں ا تنے د نو ں تک نا را ض رہی تھی۔
حو ر ین کلا سسز لینے کے بعد عد ا لت آ گئی وہ لا کے آ خر ی سا ل میں تھی تو ا ب سا تھ سا تھ وہ پر یکٹس کر نا
شر و ع کر د ی تھی جو کہ ا س کے و ا لد کے جا ننے و ا لے تھے۔
”د یکھیں میر ی با ت کو سمجھنے کی کو شش کر یں ا س و قت میں تو کیا کو ئی بھی و کیل آپ کا کیس لینے کے لیے تیار نہیں ہو گا آ پ ر نگے ہا تھو ں پکڑ ے گئے ہیں ا ور تما م ثبو ت بھی آ پ کے خلا ف ہیں“ وہ ا شر ف ا نکل کے چمبر میں د ا خل ہو ئی تو ا س کی نظر ا شر ف ا نکل کے سا منے بیٹھے ا س شخص پر پڑ ی جو کہ تقر یبا سا ٹھ سا ل کے لگ بھگ تھا چہر ہ کلین شیو تھا اور آ نکھو ں پر گلا سز لگی تھی۔
”آپ تو اس شہر کے مشہو ر و کلا ء میں سے ہیں آپ اس طر ح مجھے ما یو س نہیں کر سکتے“وہ میز پر ہا تھ ر کھ کھڑ ا ہو تا ہو بو لا تھا لہجہ میں ا یک د ھمکی سی تھی۔
”اور میں بھی آ پ کو کہہ ر ہا ہو ں کہ آ پ ا پنا و قت ضا ئع کر رہے ہیں میں ا س معا ملے میں کچھ نہیں کرسکتا“ اشر ف ا نکل کے لہجے میں و ا ضع ا نکا ر تھا حو ر ین نے ا ن کو پہلی با ر ا یسے د یکھا تھا وہ بہت ٹھہر ا ؤ و ا لی شخصیت کے ما لک تھے ان کا کہنا تھا ایک کا میا ب و کیل بننے کی پہلی سیڑ ھی ہی صبر تھا اور اب خو د وہ کا فی غصہ میں لگ ر ہے تھے۔
”میر ے خیا ل میں آپ جو بھی فیصلہ لے سو چ سمجھ کر کر یں اس کے نتا ئج کا سو چیں“ اب کی با ر و ا ضع د ھمکی تھی اشر ف ا نکل کی آ نکھو ں میں بھی غصہ و ا ضع تھا۔
”میر ے خیا ل سے اب آ پ کو چلے جا نا چا ہیے ہم مز ید کو ئی با ت نہیں کر سکتے“ وہ بھی ا پنی چیئر سے ا ٹھ کر ان کی آ نکھو ں میں آ نکھیں ڈا ل کر بو لے تھے حو ر ین تما شا ئی بنی سب د یکھ ر ہی تھی وہ آ د می اس کے بعد چپ چا پ چلا گیا تھا۔
”ا نکل آ پ کو کیا ہو ا خیر یت تو ہے“ اس کے جا نے بعد حو ر ین ا شر ف کو پا نی د یتے ہو ئے بو لی تھی”میں نے آ پ کو کبھی بھی ا یسے نہیں د یکھا“ ان کو خا مو ش د یکھ کر وہ بو لی تھی۔
”تمہیں معلو م بھی ہے وہ کو ن تھا ا ور ا ن نے کیا کیا تھا“وہ اس کو پا نی کا گلا س خا لی کر کے و ا پس کر تے ہو
ئے بو لے تھے جبکہ حو رین نے ا نکا ر میں سر ہلا تھا فو ر اسے ا نکل کا غصہ اب بھی و یسا تھا یہ نہ ہو تا کہ ا گلا نمبر ڈا نٹ کا ا س کا لگا ہو تا۔
”وہ یہا ں کا مشہو ر سر جن ہے نا م ہے ا ر با ز غیر قا نو نی آ ر گن ٹرا نسپلا نٹ میں ملو ث تھا اس با ر کسی نے ا سے ر نگے ہا تھو ں پکڑ لیا اب مجھے فو رس کر ر ہا ہے کہ اس کاکیس لو ں“ ان کا غصہ ا ب پہلے سے کم تھا پر مکمل طو ر پر ختم نہ ہوا تھااور حو ر ین اب ان کے اس ر و یے کی و جہ سمجھ آ ئی تھی وہ ا پنے ا صو لو ں کے کھر ے ا نسا ن تھے جنہو ں نے آ ج تک نہ کبھی کسی مجر م کا سا تھ د یا تھا اور نہ ہی کسی گنا ہ گا ر کا کیس لڑ ا تھا۔
”ا ور پتہ کہہ رہا تھا ا س نے اپنی فیملی کی و جہ سے کیا ہے ان کو ا یک ا چھی ز ند گی د ینے کے لیے اسے یہ گھٹیا کا م کر نا پڑ ا چا ہے اس کے لیے ا سے ا نسا نیت کے سا ر ے د ر جو ں سے کیو ں نہ گر نا پڑ تا“ ان کی با تیں ا پنی کر سی پر بیٹھتی حو ر ین کے کا نو ں میں پڑ ی تھی ا یک پل لگا تھا اسے اس کے د ما غ میں چلتی ا س شش و پنچ کو جیسے کنا را ملا تھا وہ پلٹ کر ا ن کی طر ف د یکھنے لگی تھی۔
”ا یسے کہہ ر ہا تھا جیسے فیملی کے لیے سب کچھ کر نا جا ئز ہے تم خو د بتا ؤ کیا ا یسا کر نا صیح ہے ا پنو ں کے لیے کسی بے گنا ہ کے خو ن سے ا پنے ہا تھ ر نگنا“ وہ بو ل ر ہے تھے اور حو ر ین کو لگ ر ہا تھا وہ ا سے کہہ ر ہے تھے ا س کے ضمیر نے ا سے جھنجھو ڑا تھا۔
”تم یہ کیا کر ر ہی ہو حو رین تم نے و عد ہ کیا تھا....و عد ہ کیا تھا خو د سے لا شر و ع کر نے سے پہلے کہ چا ہے جو مر ضی ہو جا تا وہ حق اور ا نصا ف کے سا تھ کھڑ ی ہو گی چا ہے اس میں سا منے اس کے خو ن کے ر شتے ہی کیو ں نہ ہو تے سچ اور حق کی جو بھی قیمت ہو تی وہ ا دا کر ے گی“ اس کا ضمیر سو ا ل کر ر ہا تھا اور ا ن سب کا ا س کے پا س کو ئی جو ا ب نہیں تھا۔
”کہا ں کھو گئی تم“ ا سے گم صم کھڑا د یکھ کر ا شر ف نے اس کے سا منے ا پنا ہا تھ لہر ا یا تھا جب کے وہ سو چو ں سے با ہر نکلی تھی۔
”صیح کہہ ر ہے ا نکل آ پ آ پ نے بلکل ٹھیک کیا ہے“ اس نے ا ن سے ز یا دہ خو د کو یقین د لا یا تھا ا تنے دنو ں میں پہلی با ر وہ ہا ں اور نا ں کی شش و پنج سے با ہر نکلی تھی اور خو د سے و عد ہ لیا تھا چا ہے کچھ بھی ہو جا ئے اسے ا س معا ملے کی طے تک پہنچنا تھا اور صا لحہ کا سا تھ جو بھی ہو ا تھا ا سے ا سے ا نصا ف د لا نا تھا۔
.........................
”آ پکا نکا ح محتر مہ سا جد ہ ر ؤ ف و لد یت محمد رؤ ف کے سا تھ بعو ض سکہ ر ا ئج ا لو قت حق مہر دو لا کھ میں طے کیا جا تا ہے کیا آ پکو قبو ل ہے“ مو لو ی کی آ و ا ز لا ؤ نج میں گو نجی تھی وہ سر جھکا ئے ا پنے ہا تھو ں کو گھو ر ر ہا تھا مد یحہ آ پی ا س کے سا تھ ہی بیٹھی تھی ا یک سا د ہ سا نکا ح تھا صر ف چند لو گ ہی مو جو د تھے۔
”کیا آ پکو یہ نکا ح قبو ل ہے“ پھر سے آ و ا ز گو نجی تھی لا ؤ نج میں وہ اب بھی خا مو ش ہی تھا اس کی خا مو شی مد یحہ کو بے چین کر ر ہی تھی ا س کے شوہر نے ا س کی طر ف ا شا ر ہ کیا تھا جیسے پو چھ ر ہا ہو کیا ما جر ا ہے پر وہ کچھ نہیں کہہ پا ئی تھی۔
”ا بر ا ہیم صا حب کیا آ پکو یہ نکا ح قبو ل ہے“ ا س کو خا مو ش د یکھ کر مو لو ی نے ا پنا سو ا ل تیسر ی با ر د و ہر ا یا تھا اب کی با ر مد یحہ نے ا س کے کند ھے پر ہا تھ ر کھا تھا ا س نے سر ا ٹھا کر ا ن کی طر ف د یکھا تھا جن کی آ نکھو ں میں ا لتجا تھی اور یہا ں وہ ہا ر گیا تھا۔
”قبو ل ہے“ لو گو ں کے لیے وہ صر ف ا لفا ظ تھے ا بر ا ہیم کے لیے وہ پل صر ا ط تھا جو ا س نے طے کیا تھا اس تو عنا سے نکاح کے بعد سو چا بھی نہ تھا کہ وہ کبھی د و با رہ یہ لفظ ا ستعما ل بھی کر ے گا اور شا ید کبھی کر تا بھی نہ ا گر مقا بل ا س کی بہن نہ ہو تی۔
عنا کو گئے چا ر ما ہ سے ز یا د ہ ہو گئے تھے پر ا بر ا ہیم کے لیے تو جیسے وہ کل کی با ت تھی آ پی کے اتنے کہنے سننے کے بعد وہ آ فس جا نے لگا تھا مگر صر ف و ہیں تک بند ہو کر رہ گیا آ فس جا تا ا ور آ کر کمر ے میں بند ہو جا تا
دل کر تا تو کچھ کھا لیتا نہیں تو ا یسے ہی د ن گز ر جا تا ا گر غو ر کر تا تو د یکھتا وہ ا سے ا کیلا نہیں چھو ڑ کر گئی تھی بلکہ اپنی سب سے قیمتی چیز اسے سو نپ کر گئی تھی صا لحہ جو کے مکمل طو ر پر سا جد ہ کے حو ا لے تھی وہ ہی اس کی د ی بھا ل کر ر ہی تھی ا بر ا ہیم کو تو نہ اس کی پہلے کبھی پر و ا ہ تھی نہ اب۔
آ پی نے ا س کی حا لت د یکھ کر عنا کی با ت یا د آ ئی تھی عنا کے آ خر ی با ر ہسپتا ل جا نے سے پہلے وہ ا ن سے ملنے آ ئی تھی وہ لا ن میں بیٹھی تھی سا منے صا لحہ سا جد ہ کے سا تھ تھی جو اسے پو د و ں کے با رے میں سمجھا نے کی کو شش کر ر ہی تھی۔
”آ پی میں آ پ سے ا یک با ت کہو ں تو آ پ ما نیں گی“ وہ اپنا سر جھکا ئے بو لی تھی۔
”ہا ں ہا ں عنا بو لو یہ کو ئی پو چھنے کی با ت ہے“ وہ ہا تھ پکڑ ے چا ئے کے سے آ خر ی گھو نٹ لیتے ہو ئے بو لی تھی۔
”ا گر آ پ کو لگے ابر ا ہیم خو دکااور صا لحہ کا خیا ل نہیں ر کھ سکتا تو آ پ“ وہ سا نس لینے کے لیے ر کی تھی اس کی حا لت ا ن د نو ں میں ایسی ہی تھی تھو ڑی د یر میں سا نس چڑ ھ جا تا تھا ”تو آ پ یہ ذ مہ د ا ری سا جد ہ کو سو نپ د ینا“ وہ ا ب ان کی طر ف د یکھ ر ہی تھی جو سمجھ چکی تھی وہ کیا کہنا چا ہ ر ہی تھی۔
”آ پ جا نتی ہیں میر ے بعد ا گر صا لحہ کو سنبھا ل سکتا ہے وہ صر ف سا جد ہ ہے اور کو ئی نہیں کر سکتا یہ“ مد یحہ کو خا مو ش د یکھ کر وہ پھر سے گو یا ہو ئی تھی جو کہ ہا تھ میں پکڑ ا کپ سا منے مو جو د میز پر ر کھ چکی تھی۔
”آ پکو پتہ ہے میر ے پا س ز یا د ہ و قت نہیں بچا ا برا ہیم نے مجھ سے و عد ہ کیا ہے کہ وہ صا لحہ کا خیا ل ر کھے گا پر آ پکو معلو م ا س د ل کو سکو ن نہیں آ ر ہا تو میں چا ہتی کہ آ پ کو ئی ا چھا فیصلہ کر یں گی“ مد یحہ بس ا سے سن ر ہی تھی جو ا ب گو د میں ر کھے ہا تھو ں تک ر ہی تھی چہرے پر تکلیف کے سا تھ سا تھ ا یک کر ب بھی تھا وہ جا نتی تھی جو وہ کہہ ر ہی تھی وہ ا سے خو د کو کتنی ا ذیت دے رہا تھا۔
”آ پکو تو معلو م ہو گا وہ ایک بیو ہ ہے اور د و بچو ں کی ما ں بھی ہے جس کا آ گے پیچھے کو ئی بھی نہیں ہے“ سا نس پھر سے ا کھڑ چکی تھی وہ لمحہ بھر کے لیے رکی تھی ”وہ خو د ا یک ما ں ہے وہ ضر ور سمجھے گی صا لحہ کو“ وہ اب
ان کی طر ف د یکھ ر ہی تھی جن کی آ نکھو ں میں نمی تھی اس کے لیے عنا ایسے کیو ں کہہ رہی ہو میں ہو ں نہ میں خو د خیا ل ر کھو ں گی صا لحہ کا“ وہ اس کے کند ھے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”آ پی میں جا نتی ہو ں آ پ نہیں کر پا ئے گی اور آ پ سے کو ئی شکو ہ بھی نہیں ہے آ پ کی مجبو ر یا ں ہے آ پکا کا ا پنا گھر ہے بچے ہیں“ وہ پھر سے ان کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی تھی اب کی آ نکھو ں میں مو جو د آ نسو ڈھلک کر عنا کے گا ل پر آ گئے تھے جتنی بھی مضبو ط تھی تھی تو ا نسا ن ہی ا ند ر سے ڈر ی ہو ئی بھی تھی ا پنے لیے ا پنی بچی کے لیے کو ئی بھی ا سے لا کھ کو شش کر تامطمئن کر ا نے کی پر وہ نہیں ہو پا رہی تھی۔
اور مد یحہ کو و قت کے ساتھ سا تھ ا ند ا زہ ہورہا تھا ا س کا ہر ایک لفظ ہر ا یک فکر صیح تھی جا و ید نہ تو مد یحہ کے ا د ھر جا نے کے حق میں تھے اور نہ ہی صا لحہ کے ا پنے گھر میں لا نے کے تو ا س نے بھی اس کی با ت پر عمل کر نے کا سو چا تھا اس کے لیے وہ ہی جا نتی تھی انہیں کیا کچھ کر نا پڑ ا تھا ا بر ا ہیم کو نہ جا نے کتنے و ا سطے د یے خو د کی قسمیں د ی تھی تب وہ ما نا تھا ہا ں ا لبتہ سا جد ہ کو منا ننا کو ئی مشکل نہ ہو ا تھا ا سے عنا نے ا پنی ز ند گی میں ہی ر ضا مند کر لیا تھا اور ا س طر ح عنا کے جا نے کے چھ ما ہ بعد ہی وہ آ ج یہا ں بیٹھے نکا ح پڑ ھ ر ہے تھے۔
اس و قت ا بر ا ہیم تو کیا خو د مد یحہ کی آ نکھو ں میں نمی تھی کسی بھی کب سو چا تھا کہ ا یسا د ن بھی آ ئے گا۔
”میں نے ا پنا و عد ہ پو را کیا عنا د عا کر و ں گی تمہا ر ی ہر با ت کی طر ح یہ با ت بھی سچ ہو تمہیں جو سا جدہ پر بھر و سہ ہے وہ اللہ کر ے قا ئم ر ہے“ مد یحہ نکا ح کے بعد عنا دل کی تصو یر کے سا منے کھڑ ی ہو کر بڑ بڑا ئی تھی
عنا جو بھی کہتی ا سے سا جد ہ کی آ نکھو ں میں کچھ ا ور ہی د یکھا ئی د ے ر ہا تھا۔
”اللہ کر ے تم اس با ر بھی صیح ہواور صا لحہ ا یک ا چھی ز ند گی گز ا رے“ اس نے د ل سے د عا کی تھی پر ہر د عا قبو ل ہو یہ ضر و ری تو نہ تھا۔
.........................
”تو تم کہہ رہی ہو تم نے صا لحہ کو د یکھا تھا خو ا ب میں اس لیے تم ڈ ر گئی اوراتنا ڈر گئی کہ اس کو ڈ ھو نڈ نے کا
بھو ت تمہا ر ے سر سے ا تر گیا“ ا نا بیہ جو کہ بیڈ پر آ لتی پا لتی ما ر ے بیٹھی تھی ہا تھ میں لیز کا پیکٹ تھا اس کی با ت پرا چنبے سے بو لی تھی یہ اس کے لیے عجیب تھا حو ر ین جیسی لڑ کی ا یک خو اب سے ڈر کر بیٹھ جا ئے اورحو ر ین اس کے سا منے کھڑ ی تھی اس کے ڈ ر یسنگ ٹیبل سے ٹیک لگا ئے وہ د و نو ں آ ج ا نا بیہ کے کمر ے میں مو جو د تھی آج ا شر ف ا نکل با تو ں نے نہ صر ف اس کے ضمیر کو جھنجھو ڑا تھا بلکہ اسے ہو ش حو ا س کی د نیا میں بھی لا کھڑ ا کیا تھا جہا ں ا سے یا د آ یا تھا ا نا بیہ ا بھی بھی نا را ض تھی تو پہلا کا م ا سے منا ننے کا کیا تھا اور آتے ہی وہ انا بیہ کے کمر ے میں پہنچی تھی۔
”ہا ں کہہ سکتی ہو“ اور ا ب کی با ر ا نا بیہ ہنس پڑ ی تھی ”سچی یا ر تم بھی نہ“ وہ د و با رہ سے لیز کھا نے لگی تھی۔
”تمہیں مذا ق لگ ر ہا ہے مجھ بیتی ہے وہ میں ہی جا نتی ہو ں“ وہ سنجید ہ تھی جو بھی کہا نی تھی یا سچ تھا وہ اس کے ما ں با پ کی ذ ا ت سے منسلک تھا یا پھر ہر د لعز یز د ا دی جس کے لیے ا سے لگتا تھا د نیا غلط ہو سکتی تھی سا ر ی پر وہ نہیں۔
پھر وہ ا سے حر ف بہ حر ف اسے بتا تی گئی ”اب تو تمیں سمجھ آ گیا ہو گا وہ خو ا ب صر ف خو ا ب نہیں تھا کسی حد تک حقیقت سے جو ڑا تھا“ وہ سب کچھ بتا نے کے بعد بو لی تھی۔
”حو ر ین تمہیں نہیں لگتا کہ ہمیں چھو ڑ د ینا چا ہیے اس کا پیچھا و یسے بھی جو بھی اس کے سا تھ ہو ا ہو گا ہم ا سے و یسے بھی نہیں بد ل سکتے اور جس کا ا نجا م تمہیں پہلے ہی ا تنا ڈ را ر ہا ہے تو سو چو ا گر و ا قعی ہی میں ا یسا ہوا تو“اب کی با ر ا نا بیہ بھی سنجید گی سے بو لی تھی لیز کا پیکٹ وہ بیڈ پر ر کھ چکی تھی۔
”تمہیں کیا لگتا ہے میں نے کو شش نہیں کی ہو گی لیکن میر ا ضمیر مجھے چین نہیں لینے د یتا“ وہ اب بھی ٹیبل سے ٹیک لگا ئے کھڑی تھی نظر یں ا نا بیہ پر جمی تھی۔
”تو ٹھیک ہے پھر پتہ کر تے ہیں د یکھو کیا ہو تا ہے“ انا بیہ ا نکا ر کر نا چا ہتی تھی پر حو ر ین کے چہر ے پرچھا ئی بے بسی د یکھ کر ہا ں کر دی جو بھی تھا وہ ا سے اس سب میں ا کیلا تو نہیں چھو ڑ سکتی تھی۔
...........................
نکا ح کے دو تین د ن بعد ہی سا جد ہ بیگم نے سا ر ا گھر سنبھا ل لیا تھاا بر ا ہیم نے ا سے کو ئی آ س نہیں د لا ئی تھی ا تنا تو وہ بھی جا نتی تھی کہ وہ پیا من بھا ئی نہ تھی جس کے نا ز نخر ے ا ٹھا ئے جا تے اس لیے اس کی جو ذ مہ د ا ر یا ں تھی ا س نے چپ چا پ ا ٹھا نی شر و ع کر د ی ابر ا ہیم پہلے گھر آ کر ا پنے کمر ے میں بند ہو جا تا تھا ا ب تو گھر ہی نہیں آ تا تھا ز یا د ہ سے ز یا دہ وقت آ فس میں گز ا رنے لگ گیا مد یحہ بھی ا پنی تسلی کے لیے ہر د و سر ے تیسر ے د ن چکر لگا لیتی ا بھی سا جد ہ کا ر و یہ صا لحہ کے سا تھ ٹھیک تھا یہ د یکھ کر ا نہیں عنا کا یہ فیصلہ بھی صیح لگا تھا مگر ا بر ا ہیم کے رو یے کی و جہ سے وہ سا جد ہ سے شر مند ہ سی ہو جا تی۔
دو سر ی طر ف سا جد ہ نے ا یک د نیا د یکھ ر کھی تھی وہ جا نتی تھی ا سے کس و قت کیا کر نا ہے ا بھی کے لیے اسے جو چا ہیے تھا وہ اسے مل ر ہا تھا ا س کے دو نو ں بچے ا چھے سکو لو ں میں پڑ ھ ر ہے تھے جو کہ عنا نے ا پنی ز ند گی میں ہی د ا خل کر و ا د یے تھے سا ر ے کا سا را گھر اس کے ہا تھ میں تھا ا س کے بد لے میں ا گر ا سے صا لحہ کا خیا ل ر کھنا پڑ ھ بھی رہا تھا تو کو ئی گھا ٹے کا سو د ا نہ تھا وہ کو نسا ز یا د ہ تنگ کر تی تھی جہا ں بیٹھا ؤ بیٹھ جا تی تھی جو کھا نے کو د و کھا لیتی تھی اور ر ہی با ت ا بر ا ہیم کی تو و قت سب سے بڑ ا مر ہم تھا وہ بھی ا یک نہ ا یک د ن ٹھیک ہو ہی جا ئے نہیں تو وہ جا نتی تھی کہ وہ کر ہی لے گی۔
........................