نا ول
Episode # 2
ا د ھر عنا کو اک پل بھی چین نہیں آ رہا تھا بسمہ کے سب کچھ بتا نے کے بعد اس نے بہت کو شش کی تھی خود کو سمجھا نے کی پر نہیں سمجھا پا ئی تھی اس نے آخر کا ر اس نے اس ا لجھن سے نکلنے کا سو چا اور خو د کو آنے وا لے وقت کے لیے تیا ر کر نے لگی۔
عنا ہر وقت کھو ئی کھو ئی سی ر ہتی تھی کو ئی بلا تا تو چو نک کر پڑ تی تھی ایک و قت تھا جب گھر میں ہر طرف اس کے قہقے اور شو خیا ں گو نجا کر تی تھی ا ور اب تو ا یسا تھا جیسے کو ئی ر ہتا ہی نہ تھاپہلے وا لی عنا کہیں کھو سی گئی تھی عنا دل کا دن بہ دن بد لتا رو یہ اب تو ثر یا بیگم بھی محسو س کر رہی تھی پر سلیم صا حب کے رو کنے کی وجہ سے وہ پوچھ بھی نہیں پا رہی تھی اب دو نو ں کو ا نتظا ر تھا تو صر ف اس با ت کہ کب وہ خود آ کر انہیں ا پنی پر یشا نی بتا تی یہ تو ثر یا بھی جا نتی تھی کہ وہ زیا دہ دن کچھ نہیں چھپا تی تھی خا ص طو ر اپنے بابا سے۔آخر کا ر وہ پل آ ہی گیا تھاجس کا دو نوں کو ا نتظا ر تھاشا م کا کھا نا کھا نے کے بعد ثر یا اور سلیم دو نو ں شا م کی چا ئے کے لیے معمو ل کے مطا بق ٹی وی لاؤ نج میں آ کر بیٹھ گئے آتے ہی سلیم صا حب نے نیو ز لگا لی لیکن آج معمو ل کے خلا ف عنا بھی ان کے سا تھ ہی آئی تھی اور کچھ د یر سو چنے کے بعد وہ صو فے سے اٹھ کر ز مین پر گھٹنو ں کے بل ز مین پر بیٹھ گئی سلیم اور ثر یا جو کہ حیر ت سے اسے دیکھ ر ہے تھے اس کی ا گلی با ت سن کر تو جیسے کسی صد مے میں چلے گئے تھے۔
”امی با با میں کسی کو پسند کر تی ہو ں“۔یہ کہتے ہو ئے عنا نے ا پنے جھکے سر کو مز ید نیچے جھکا لیا تھا وہ خو د بھی گلٹ فیل کر رہی تھی اس کبھی سو چا نہیں تھا کہ وہ کبھی ا یسی با ت اپنے منہ سے بھی کہے گی سا رے ہا ل میں سنا ٹا چھا چکا تھا صرف ٹی وی کی آوا ز سنا ئی دے رہی تھی۔
”تم جا نتی بھی ہو تم کیا کہہ رہی ہو“۔اس سنا ٹے کو ثر یا کی تیز آواز نے تو ڑا تھا جو کے اب صد مے سینکل کر غصے میں آ چکی تھی اوہ قر یب تھا کہ وہ ا ٹھ کر عنا کو تھپڑ ہی لگا دیتی پر سلیم صا حب نے ان کا ہا تھ پکڑ کر ر وکا اب وہ بھی سنبھل چکے تھے۔
”کو ن ہے وہ“۔اب کی با ر سلیم صا حب کی آ وا ز نے عنا کو تھو ڑا سا سر ا ٹھا نے پر مجبو ر کیااس نے نظر ا ٹھا کر ان کے چہر ے کو ا یک نظر دیکھااور ان کے تا ثر ات جا ننے کی کو شش کی پر ان کا چہر ہ سپاٹ تھا وہ کو ئی اندازہ نہ لگا پا ئی اور نظر جھکا کر بو لی۔
”بابا اس کا نا م ا بر ا ہیم ہے وہ میر ی یو نیو رسٹی میں پڑھتاہے“۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی تھی۔
”نیچے سے ا ٹھ کر ا وپر بیٹھواور سب کچھ تفصیل سے بتا ؤ کیا جا نتی ہو اس کے با رے میں اور تمہیں کہا ں ملا تھا وہ“۔سلیم صا حب بو لے جب کہ ثر یا اب بھی اس کو غصے سے غور رہی تھی پھر عنا کا ر پٹ سے ا ٹھ کر صو فے پر بیٹھ گئی اور شر وع سے لے کر آخر تک سب کچھ بتا دیا جو بسمہ نے اس کے با رے میں بتا یا تھا وہ بھی اور ثر یا کی بر دا شت کی حد بھی یہی تک تھی شا ید۔
”اس لیے ہم نے بھیجا تھا یو نیو رسٹی کہ و ہا ں جا کر تم یہ سب کر تی پھر و اور پھر ہما رے سا منے بیٹھ کر بے شر می سے یہ سب کہو یہ تر بیت کی تھی ہم نے تمہا ری“۔ ثر یا نے عنا کو با زو سے پکڑ کر جھنجھو ڑتے ہو ئے کہا عنا جو کہ اتنی دیر سے اپنے آ نسو ؤ ں کو ضبط کر رہی تھی اب رو ہی پڑی تھی۔
”ا می ا یسا مت کہے میں نے بہت کو شش کی تھی خود کو رو کنے کی پر نہیں روک پا ئی میں جا نتی ہو ں میں نے آپ کا دل د کھا یا ہے اس لیے اس سے کچھ کہنے یا سننے سے پہلے ہی میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا امی میں بہت شر مند ہ ہو ں مجھے معا ف کر دے پر خود کو اور نہیں رو ک سکتی“۔ ثر یا کو اس کی با تو ں سے جیسے اور غصہ آیا تھا اور اس پر ہا تھ ا ٹھا نے ہی لگی تھی کہ سلیم صا حب کی آ وا ز نے روک لیا۔
”بس کر و ثر یا اور عنا تم ا پنے کمر ے میں جا ؤ“۔ ان کی آ وا ز اب کی با ر پو رے لا ؤ نج میں گو نجی تھی۔
....................................................
”ٹھیک ہے میں تمہا ری مدد کر نے کے لیے تیا ر ہو ں“۔ ا نا بیہ نے کچن سے نکلتی حو رین کو مخا طب کر تے ہو ئے کہاجو کے اس کے آ تے ہی کچن سے با ہر کی طر ف چل پڑی تھی۔
اس دن کے بعد سے حو رین ا ور ا نا بیہ دو نو ں میں با ت چیت بند تھی اور یہ با ت اب با قی لو گ بھی محسو س کر رہے تھے مگر ا ن کی آ پسی نو ک جھو ک سمجھ کر کسی نے کچھ نہیں پو چھا تھا مگر حو رین کی چپ اب ا نا بیہ اور برداشت نہیں کر پا رہی تھی اس لیے اس کی مدد کر نے کا فیصلہ کیا۔
”کیا تم سچ کہہ رہی ہو“۔ عنا تو جیسے چو نک ہی پڑی تھی اسے ا مید نہیں تھی کہ وہ ا تنی جلدی ما ن جا ئے گی۔
”آہستہ بو لو یہ نہ ہو کہ دادو سن لے ا ور کچھ کر نے سے پہلے ہی ہما ری بینڈ بجا دے“۔ وہ حو رین کے پا س آ تے ہو ئے بو لی جس کا چہر ہ اس کی اس با ت سے کھل سا گیا تھا۔
....................................................
اس رات کے بعددو دن گز ر چکے تھے تب سے پو رے گھر میں خا مو شی سی تھی کو ئی کسی کو ئی با ت نہیں کر رہا تھا عنا کو بابا کے رو یے پر حیرا نی ہو رہی تھی وہ اس کے بعد کچھ نہیں بو لے تھے اور نہیں تووہ بھی ا می کی طر ح اسے بر ا بھلا کہہ لیتے مگر اس طرح بے رخی نہ ا ختیا ر نہ کر تے جیسے اب کر رہے تھے اس نے یہ با ت جب بسمہ کوبتا ئی تھی تو وہ بھی بس حیر ا ن رہ گئی تھی اور کچھ نہ بو لی تھی اسے عنا سے ا تنی بہا دری کی ا مید نہ تھی وہ سو چ رہی تھی کہ ا بر ا ہیم کو بتا ئے یا نہیں کہ اس کے جذ با ت سچے تھے پر وہ تو جس دن عنا نے اسے منع کیا تھا اس دن سے ان کے گھر ہی نہیں آیا تھا۔
............................................
وہ تینو ں شا م کا کھا نا کھا رہے تھے عنا بابا کے سا منے بیٹھی تھی پر اس کی ہمت نہیں ہو ر ہی تھی کہ وہ ان کو مخاطب کر پا تی کئی با ر اس نے چہر ہ ا ٹھا کر ان کی طر ف دیکھا اور ان کے د یکھنے سے پہلے ہی نظر یں نیچی کر لیتی تھی زند گی میں پہلی با ر وہ ان سے با ت کر نے سے جھجھک رہی تھی کچھ دیر بعد وہ ا ٹھ کراپنے کمر ے میں چلی گئی ا پنی بے بسی پر اسے رو نا آ رہا تھا ا گر با با کو بر ا لگا تھا تو وہ ما ر لیتے پر نا کر تے وہ تو ان کے با با منع کر نے پر دو با رہ اس چیز کا نا م بھی نہ لیتی اس با ر بھی وہ ا یک با ر منع تو کر کے دیکھتے۔
”میں آج ا بر ا ہیم سے ملا تھا“۔سلیم صا حب ثر یا بیگم کو مخا طب کر تے ہو ئے کہا وہ دونو ں کھا نا کھا نے کے بعد لا ؤ نج میں آ کر بیٹھے تھے ثر یا بیگم چو نک پڑی تھی اسے ان سے اس چیز کی ا مید نہیں تھی اس رات کے بعد گھر میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیاتھا وہ تو اس دن سے سلیم سے بھی زیا دہ با ت نہیں کر رہی تھی یہ ا یک طر ح سے وہ ا پنی نا راضگی کا ا ظہا ر کر ر ہی تھی پر سلیم ا پنی پر یشا نی میں تھے۔
”مجھے تو لگا تھا آپ بھو ل گئے ہو گے اور یہ جوعنا سے با ت نہیں کر رہے تھے وہ بھی ا سی وجہ پر آپ تو اس سے ملنے چلے گئے تھے“۔ وہ غصے میں آ گئی تھی اس دن سے ا نہوں نے سلیم کے کہنے کی وجہ سے خود کو قا بو
کر ر کھا تھا وہ عا م سو چ کی ما لک کی تھی جن کے نز دیک کسی کو پسند کر نا کو ئی گنا ہ عظیم تھا جو کے ان کی بیٹی سے ہو گیاتھا۔
”ہا ں مجھے لگا کہ ایک با ر مل لینا چا ہیے تھا اس میں کو ئی بر ا ئی بھی نہیں ہے“۔ وہ ان کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لے تھے وہ آج اس معا ملے کو ختم کر نے کے ا را دے سے بیٹھے تھے عنا کی با ر با رخو د کی طرف ا ٹھتی نگا ہیں وہ کئی د نو ں سے محسو س کر رہے تھے وہ اس کی حا لت ا چھے سے جا نتے تھے مگر اس سے پہلے ثر یا کو بتا نا ضر وری تھا وہ دو نو ں کی ہی نا را ضگی بر دا شت نہیں کر سکتے تھے اسیلیے وہ پہلے بسمہ کے وا لد سے ا بر ا ہیم کے با رے میں پو چھا تھا اور ان کے منہ سے ا بر ا ہیم کی تعر یف سننے کے بعد ا نہو ں نے خو د ان سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا اورآج وہ ا بر ا ہیم سے ملنے اس ہو ٹل میں گئے تھے جہا ں وہ شا م کا کھا نا کھا تا تھا۔
”کیا میں یہا ں بیٹھ سکتا ہو ں“۔ وہ ا بر ا ہیم کے سا منے والی کر سی کی طر ف ا شا رہ کر تے ہو ئے بو لے وہ اپنی د ھن میں کھا نا کھا رہا تھا سر ا ٹھا کر ان کی طر ف د یکھا وہ یہا ں روز آ تا تھا ا ور یہ چہر ہ اس کے لیے نیا تھا
”جی جی ا نکل جیسا آ پ کو منا سب لگے“۔وہ د ھیمے لہجے میں بو لا وہ اس کے کہنے پر بیٹھ گئے وہ ویٹر کو پہلیہی آرڈر دے چکے تھے۔
”ا نکل آپ یہا ں پہلی با ر آ ئے ہیں کیا....؟“۔ا بر ا ہیم حیر ت ہو ر ہی تھی ا یک تو وہ یہا ں پہلی با ر آئے تھے اور دو سر ا کا فی ز یا دہ خا لی میز ہو نے کے با وجو د وہ اس کے پا س ہی کیو ں آ کر بیٹھے تھے اور سب سے ز یا دہ حیر ا نی کی با ت یہ تھی کہ ان کا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ یہا ں آ نے والے با قی لو گو ں جیسا تو بلکل نہیں تھا
اور ان جیسے لو گ ا سی جگہو ں پر تو ہر کز نہیں آ تے تھے۔
”ہاں پہلی بار ہی آیا ہوں لگتا ہے آپ ا کثر آتے ہیں“۔ انہوں نے چھپا نے کی کو شش نہیں کی تھی۔
”جی صیح پہچا نا آپ نے ا گر میں یہاں ا کثر نہ بھی آتا تو بھی بتا سکتا تھا کہ آپ یہاں پہلی با ر آئے ہیں“۔ابراہیم کی نظر یں ان کے چہر ہ پر ٹکی تھی۔
”وہ کیسے“۔اب کی بار وہ زیر لب مسکر ا ئے تھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ بو لتے ویٹر ان کا آرڈر لے کر آ گیا جسے اس سے لے کر ا نہوں نے ٹیبل پر ر کھا ا ور ا برا ہیم کی طر ف د یکھا۔
”کیو نکہ ا نکل آپ جیسے لو گ ایسی جگہو ں پر تو دور ا یسی گلیو ں سے بھی بنا کسی مجبو ری کے نہیں گز رتے“۔وہ بنا جھجکے بو لا تھا۔
”اوہ آئی سی ویسے تم پو چھو گے نہیں کہ میر ی ا یسی کو ن سی مجبو ری تھی جو میں یہا ں آیا“۔ا نہو ں اس کی کسی بات کی تر دید نہیں کی تھی حا لا نکہ ایک و قت تھا جب وہ بھی ا یسی ہی گلیو ں میں پل کر بڑا ہو ا تھااور جس مقام تھا ا پنی محنت کے بل پر تھا۔
”پو چھتا تو نہیں پر آپ اگر بتا نا چا ہے تو بتا سکتے ہیں“۔اس کا کھا نا تقریبا ختم ہو نے وا لا تھا۔
”اگر کہو ں کہ تمہا رے لیے آیا ہو ں تو یقین کرو گے“۔سلیم نے اب کی با ر ا پنی سا ری تو جہ اس کی طر ف کر دی تھی آخری نو ا لہ چنتا ا بر ا ہیم کا ہا تھ رک گیا تھا اور نظر یں ا ٹھا کر ان کی طر ف د یکھا نظر وں کا تصا دم ہوا تھا مگر وہ زیا دہ دیر نگا ہیں نہیں ملا پا یا تھا اوراحترا ما نظر یں جھکا گیا تھا۔
”میں آ پ کو نہیں جا نتا تو آپ کی مجھ سے ملنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے آپ شا ید مذا ق کر ر ہے ہیں“۔ وہ اب کھا نا ختم کر کے وہا ں سے جا نا چا ہتا تھاجب کے سلیم صا حب کی نظر ان کی ا یک ا یک حر کت پر تھی جس سے ابرا ہیم کو عجیب لگ رہا تھاوہ جلد ا ز جلد جا نا چا ہتا تھا۔
”میں عنا دل کا با پ ہو ں کیا یہ وجہ کا فی ہے تم سے ملنے کے لیے“۔ ان کی نظر یں اب اس کی طر ف تھی پر ا براہیم تو جیسا تھم سا گیا تھا پو رے دو ما ہ بعد اس کا نا م سنا تھا۔
”میں نے سنا ہے تم ا سے پسند کر تے ہو“۔
”جی“۔ا بر ا ہیم نے خو د کو سنبھا لتے ہو ئے بنا ڈرے جو ا ب دیا تھا وہ حا لت سے ڈر کر بھا گنے وا لو ں میں سے نہ تھا جب محبت کی تھی تو کی تھی پر وہ کیا ا تنے عر صے بعد ان کا آنا عجیب لگا تھا ا گر عنا کو د یکھنا یا پسند کر نا اس کا جر م تھا تو ا نہیں بہت پہلے آنا چا ہیے تھا۔
”کا فی بہا در ہو بر خو ر دارایک با پ کے سا منے اس کی بیٹی کے لیے ا عتر اف کر رہے ہو جا نتے ہو نہ اس کا ا نجا م کیا ہو سکتا ہے“۔وہ اس کی آ نکھو ں میں غور سے دیکھا تھا جیسے اس کی روح تک میں جھا نکنے کی کو شش کر رہے ہو۔
”جی جا نتا ہوں حا لا نکہ یہ بھی جا نتا ہو ں کہ وہ مجھے پسند نہیں کر تی پر پھر بھی میں ا نکا ر نہیں کر وں گا“۔اس کی آ وا ز اب کی با ر تھو ڑی ر ند سی گئی تھی جب کے سلیم صا حب کو عنا پر بہت فخر ہوا تھا اس نے ا پنے جذ با ت اس کو بتا نے کی بجا ئے اس کی ا جا زت طلب کی تھی ان کی تر بیت کو وہ کبھی نہیں تھی۔
”تمہیں کیسے پتہ کے وہ تمہیں نہیں پسند کر تی کیا تم نے اس سے پو چھا تھا“۔
”نہیں یہ تو نہیں پو چھا تھا پر میں جا نتا ہوں“۔وہ ما یو س سا بو لا تھا۔
”تمہیں کیا لگتا مجھے کیسے پتہ چلا ہو گا مجھے اس نے خو د بتا یا کہ وہ ایک ا یسے لڑ کے کو پسند کر تی ہے جو ا سے روز د یکھا کر تا تھا“۔انہو ں ا یک ایک لفظ پر زور دیا تھااور ا بر ا ہیم کے لیے جیسے یہ دنیا رک سی گئی تھی وہحیرا نیوں کی زد میں تھا۔
”تو اب بتا ؤ مجھے اس لڑ کے کے سا تھ کیا کر نا چا ہیے“۔
ان کی آواز ا بر ا ہیم کو جیسے حقیت میں کھینچ لا ئی تھی۔
”تمہیں حثیت معلو م ہے اس کی بھی اور اپنی بھی پھر کیا سو چ کر تم نے اس کا پیچھا کیا تھا“۔وہ اب کی با ر د ھیمی مگر سخت آ واز میں بو لے تھے۔
”جی جا نتا ہو ں مگر آپ شا ید یقین نہ کر ے پر جب میں اسے پسند کیا تھا تب میں بھی نہیں جا نتا تھا وہ کو ن ہے مگر میں آپ کو گا ر نٹی دیتا ہو ں کہ آپکو اس کے قا بل بن کر د کھا ؤں گا“۔اب کی بار ا براہیم مضبو ط لہجے میں بو لا تھا وہ اسے ا پنے لیے قسمت کا دیا ا یک مو قع سمجھ رہا تھا اور عنا کے لیے وہ پو ری طر ح کو شش کر نا چا ہتا تھا۔
”مستقبل میں کیا ہو گا اور کیا نہیں اس کے با رے میں کو ئی کچھ کہہ نہیں سکتا میں کیسے یقین کر لوں“۔
”آپ ا للہ پر تو یقین کر تے ہیں نا ں“۔وہ بھی اب ا پنی نظر یں ان کے چہر ے پر جما چکا تھا۔
”ہا ں وہ بھی کو ئی پو چھنے کی با ت ہے“۔وہ اب کی بار نر م لہجے میں بو لے تھے۔
”آپ کو شا ید جو میں کہوں اس پر یقین نہ آئے جب مجھے پہلی با ر عنا کے با رے میں پتہ چلا تھا تب سے اب تک مجھے کبھی لگا ہی نہیں تھا کہ میں کبھی آپ سے ملو ں گا اور اس دن عنا کے منع کر نے کے بعد کو ئی تھو ڑی بہت ا میدتھی وہ بھی ٹو ٹ گئی تھی اس دن میں ا پنے رب کی با ر گا ہ میں جھکا تھا ا ور کچھ نہیں کہا تھا بس رو دیا تھا مگر میر ے جذ بات کی سچا ئی شا ید میر ے رب کو پسندآئی تھی تبھی آج آپ میر ے سا منے بیٹھے ہیں“
سلیم صا حب کو تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی ا بر ا ہیم کے لہجے میں کو ئی بنا وٹ نہیں تھی وہ ا نتہا ئی سا دگی سے بو ل رہا تھا اور وہ ہی سا دگی اس کے چہر ے پر بھی پھیلی ہو ئی تھی ان کے پا س تو جیسے ا لفا ظ ہی ختم ہو گئے تھے۔
”تو ا نکل ا گر آپ مجھ پر بھر وسا نہیں کر تے تو ا للہ کی ذا ت پر ر کھے ا نشا ء اللہ میں ا یک دن ضر ور اس قا بل بنو ں گا“۔
عشا کی آذا نوں شر وع ہو چکی تھی کا فی وقت گز ر چکا تھا وہ بنا کچھ کہے ا ٹھ کھڑے ہو ئے تھے اور ا یسے ہی وہاں سے لو ٹ آئے ا گر تھو ڑی دیر اور ٹھہر تے تو شا ید وہ اسے ہا ں کر دیتے کو ئی شک نہیں تھا کہ عنا اسے پسند کر تی تھی وہ تھا ہی ا س قا بل ابر ا ہیم بس چپ چا پ ان کو جا تا د یکھتا رہا اس نے رو کنے کی کو شش نہیں کی تھی ٹیبل پر ان کا منگوا یا گیا کھا نا ویسا کا و یسا پڑ ا تھا وہ خو د بھی عشا کی نما ز پڑ ھنے کے لیے ا ٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”آپ کے خیا ل میں اس کو ئی بر ا ئی نہیں ہے سلیم وہ بچی ہے ا بھی دنیا کی کو ئی سمجھ نہیں ہے اس نے غلطی کی ہے اسے سمجھا ؤ ں گے تو وہ سمجھ جا ئے گی اور اگر نہیں سمجھتی تو مجھے ا جا زت دو میں خو د سمجھا لو ں گی بجا ئے اس کی بے و قو فی کو بڑ ھا وا دینے کی“۔ان کا غصہ ہنوز بے قر ار تھاسلیم صا حب نے ا پنی سو چ کو ا بر ا ہیم ہٹا کر پو ری طر ح ان کی طر ف متو جہ کی تھی۔
”میر ی بچی نے کچھ غلط نہیں کیا اس نے کسی کو پسند کیا اور آ کر ا پنے ما ں با پ کو بتا د یا با قی لڑ کیوں کی طر ح کو ئی غلط ر ستہ ا ختیار نہیں کیا“۔ وہ بھی اس بار تھو ڑا سختی سے بو لے تھے۔
”آپ کو اس نے جو بتا یاآپ نے یقین کر لیا کیا و ا قعی ہی ا یسا ہے کہ اس نے اس لڑ کے کو بھی نہ بتا یا ہو گا کہ وہ اس کے لیے مر ی جا رہی ہے“۔
”یہ اس لڑ کے نے بھی بتا یا تھا صر ف عنا نے ہی نہیں اسے تو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ عنا ا سکو پسند کر تی ہے مجھے بہت فخرہو ا تھا میر ی بچی پرجب میں نے اس کے منہ یہ با ت سنی تھی تمہیں مجھ پر نہیں تو کم از کم ا پنی تر بیت پر تو بھر و سہ ر کھو“۔اب کی با ر وہ تھو ڑی نر می ا نہیں سمجھا تے ہو ئے بو لے تھے۔
”تو پھر ا ب آپ نے کیا سو چا ہے“۔ ان کی چھٹی حس ان کو بتا چکی تھی کہ وہ ر ضامند تھے”میں اس کی تھو ڑی بہت جا نچ اور کر نا چا ہتا ہو ں اور اس کے بعد میں اسکو گھر بلاؤ ں گا مگر اس سے پہلے میں تمہا ری ر ضا مند ی لینا چا ہتا ہوں یہ سب تب ہی ہو جب تم ر ضا مند ہو گی“۔ وہ اس کی طر ف سو ا لیہ نظر وں سے د یکھتے ہو ئے بو لے تھے جب کے وہ تو ا یک با ر چپ ہی ہو گئی تھی سمجھ نہیں آ ر ہی تھی کہ کیا جو اب دے کچھ تو قف کے بعد بو لی۔
”آپ کو معلو م ہے کے وہ بسمہ کے و الد کے ہا ں ملا ز م ہے ہما ری بیٹی کیسے گز را کر ے گی ا س کے سا تھ“۔ان کے لہجے میں اب کی با ر ا یک ا یسی ما ں کی جھلک تھی جو ا پنی بچی کے لیے پر یشا ن سی تھی۔
”مجھے یقین ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کر لے گا اس جیسا ا نسا ن کا میا ب ہو ہی جا تا ہے“۔
”آپ کو کیسے پتہ“۔
”کیو ں کے اس میں مجھے ا پنی جھلک د کھا ئی د یتی ہے تم تو جا نتی ہو کہ کبھی میر ا ما ضی بھی ا یسا ہی تھا میں بھی اس ہی جیسی گلیو ں میں ر ہنا و ا لا ا نسا ن تھا“۔ان کا چہر ہ بتا رہا تھا کہ وہ جیسے ا پنے ما ضی کو یا د کر ر ہے ہیں۔
ثر یا بیگم تو جیسے چپ ہو گئی تھی وہ جا نتی تھی سلیم کی و ا لد ہ نے شا دی سے پہلے ان کی پو ری د ا ستا ن سنا ئی تھی کے کیسے وہ اس مقا م تک پہنچے تھے۔
”کیا پتہ جیسا آپ کو جیسا لگتا ہے وہ ا یسا نہ ہو وہ آپکی د و لت کی و جہ سے عنا کے پیچھے آیا ہو یہ تو ا سے بھی پتہ ہو گا کہ ہما را سب کچھ ا سی کا ہے“۔وہ ا پنا ا صل خد شہ ظا ہر کر تے ہو ئے بو لی۔
”نہیں ا یسا کچھ نہیں ہے میں نے ا یک د نیا د یکھی ہے ا ور کم از کم ا یسا تو بلکل نہیں ہے“۔پھروہ ثر یا کو آ ج ہو نے وا لی ملا قا ت کے با رے میں تفصیل سے بتا نے لگے ا ور سا تھ میں بسمہ کے وا لد کے ا بر ا ہیم کے لیے جو بات ہو ئی تھی وہ بھی بتا ئی تھی وہ کچھ نہیں بو لی تھی وہ بس چپ چا پ سب سنتی گئی۔
Read More: Episode 3 ................................................
حو ر ین ا ور ا نا بیہ کب سے حو رین کے ر وم میں سر جو ڑے بیٹھی تھی کہ آ خر شر وع کر ے تو کہا ں سے کر ے
”ا یک ایسی لڑ کی جس کا کو ئی ا تا پتہ نہیں تھا اسے کے با رے ہم کیسے پتہ لگا سکتے ہیں“۔ ا نا بیہ ہا ر ما نتے ہو ئے بو لی آج صبح ہی اس نے ا س کی مدد کر نے کی ہا ں کی تھی ا ور تب سے کھا نا کھا نے کے بعد وہ د و نو ں سوچ ر ہی تھی کہ شر و ع کہا ں سے کر ے کبھی کہتی کہ ہسپتا لو ں سے شر و ں کر تے ہیں تو کبھی سو چتی کو تھا نوں سے پر خو د ہی منع کر دیتی تھی۔
”د یکھو تم نے آج ہی اتنی مشکل سے ہا می بھر ی ہے اب تم پیچھے نہیں ہٹ سکتی“۔ حو ر ین ا نگلی ا ٹھا کر با قا عدہ ا سے و ا رن کر تے ہو ئے بو لی تھی۔
”یا ر پیچھے نہیں ہٹ ر ہی پر تم خو د سو چو جس کا نہ آ گے پتہ ہے نہ پیچھے اس کا ہم کیسے پتہ کر سکتے ہیں“۔وہ اس کی طر ف د یکھتی ہو ئی بو لی۔
”ہا ں یہ تو تم صیح کہہ رہی ہو“۔ حو رین اس کی با ت کو قبو ل کر تے ہو ئے بو لی ا ور تھک کر بیڈ پر لیٹ گئی ا نا بیہ اس کی تقلید کر تے ہو ئے لیٹ گئی کچھ د یر حو رین چھت کو د یکھتی ہو ئی پھر ا چا نک ا ٹھتے ہو ئے بو لی۔
”مجھے سمجھ آ گیا کے کیا کر نا چا ہیے“۔
”ا چھا ا ور وہ کیا ہے“ ا نا بیہ ہنو ز لیٹی ہو ئی تھی ا یسا وہ پہلے بھی دو د فعہ کر چکی تھی پر کو ئی فا ئد ہ نہ ہو ا تھااس لیے اسے اس کے اس ا نداز سے کو ئی خاص فر ق نہیں پڑا تھا۔
”ا چھا یہ بتا ؤ ہما رے گھر میں جو بھی ملا زم ر کھا جا تا ہے تو کیا کر تے ہیں“۔وہ اس کی طر ف دیکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”کیا کر تے ہیں اس سے سیلر ی و غیر ہ ا ور ر ہا ئش و غیر و دی جا تی ہے اور کیا“۔اسے تو حو رین کی با تیں بلکل بے کار لگ رہی تھی اس لیے لا پر وا ہی سے بو لی تھی۔
”ا و ہو پا گل دادو ان کے کا غذ ات و غیر ہ لیتی ہیں سکیورٹی کے لیے“۔وہ ا پنا رخ مکمل طو ر پر اس کی طر ف کر چکی تھی۔
”یا ر کیا کہنا چا ہتی ہو سید ھی طر ح سے کر و ایسے پہلیا ں نہ ڈا لو“۔اب کی بار ا نا بیہ پو ری طر ح زچ ہو چکی تھی۔
”میں یہ کہنا چا ہتی ہو ں کہ ا گر صا لحہ اس گھر کو ملا ز مہ تھی تو اس کے بھی کا غذ ات وغیر ہ بھی تو دا دو کے پا س ہو نگے اور اگر وہ کسی کو بتا ئے بغیر گھر سے گئی تو وہ اب بھی دادو کے پا س ہو نگے “۔ اب کی با ر وہ بنا روکے بو لتی چلی گئی۔
”ز یا دہ تر ملا ز مین کے شنا ختی کا رڈہی ہو تے ہیں جس میں ان کے وا لد ین کے با رے میں ہو تے ہیں ا ور ہم سب ہی جا نتے ہیں کہ وہ ہما ری پر ا نی ملا ز مہ سکینہ کی بیٹی تھی“۔اب ا نا بیہ بھی ا ٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔
”جتنا مجھے یا د ہے وہ ان کی بیٹی نہیں تھی کیو نکہ سکینہ تو ہما رے گھر میں بعد میں آئی تھی پر وہ پہلے سے تھی“۔
”کیا و ا قعی ہی مجھے تو یہ ہی بتا یا گیا تھا کہ وہ سکینہ بی کی بیٹی ہے“۔انا بیہ کا فی حیر ان ہو ئی تھی اسے آج پتہ چلا تھا۔
”تمہیں کس نے بتا یا تھا کہ وہ سکینہ بی کی بیٹی ہے“۔
”آف کو رس میر ی ا می نے بتا یا تھا ا ور ا نہیں دا دو نے بتا یا ہو گا“۔اب تو حو ر ین کو بھی حیر ت ہو رہی تھی۔
”نہیں تب تم لو گ یہا ں نہیں رہتے تھے جب سکینہ بی یہا ں آئی تھی وہ ا کیلی آئی تھی وہ تو ا یک بیو ہ عو رت جن کی کو ئی ا و لا د نہیں تھی اور تب بابا نے تر س کھا کر ا نہیں ر کھا تھا ا ور یہ سب میر ے سا منے ہوا تھا“۔حو رین خو د شش و پنچ میں مبتلا ہو چکی تھی۔
”تو پھر دادو نے ا یسا کیو ں کہا ہو گا“۔اب تو ا نا بیہ کو بھی د لچسپی ہو رہی تھی پہلے تو وہ صر ف حو رین کی وجہ سے لگی ہو ئی تھی۔
”ان سب کا بس ا یک ہی حل کے دادو کے پا س جو ملا ز مین کے کا غذ ا ت ر کھے ہیں ان کو د یکھتے ہیں“۔
حو رین کو بھی حیر ت ہو ر ہی تھی کہ دادو نے ا یسا کیو ں کہا ہو گا ہو سکتا تھا چا چی کو سننے میں کو ئی غلطی ہو ئی ہو گی
تب ہی ا نہو ں نے ا نا بیہ کو ا یسا کہا ہو گا۔
”لیکن وہ سب تو د ا دو ا پنی ا لما ری ر کھتی ہیں ا ور اس کی چا بی وہ ہر و قت ا پنے پا س ر کھتی ہیں ا ور ہو ہمیں دے گی نہیں“۔
”ہا ں جا نتی ہو ں اس لیے ہمیں چو ری چھپے لینی پڑ ے گی“حو رین پر عز م ا ندا ز میں بو لی۔
”پا گل ہو گئی ہو ا گر پکڑ ے گئے تو پھر سے دادو سے ڈا نٹ پڑ ے گی ا ور ا س با ر ہو سکتا ہے وہ ہما رے پیر نٹس کو بھی بتا دے پھر ہم کیا کر ے گے“ ا نا بیہ نے اسے خبر دار کر نے کی کو شش کی تھی پر وہ ہٹنے وا لو ں میں سے کہا ں تھی۔
”ہا ں وہ سب پتہ ہے مجھے تم فکر نہ کر و ہم ا نہیں پتہ ہی نہیں چلنے دیں گے ا ور ا گر ہم پکڑ ے بھی گئے تو میں سا را ا لز ام ا پنے سر لے لو ں گی“وہ اسے د لا سہ د یتے ہو ئے بو لی۔
”ہا ں جیسے تم کہو گی ا ور دادو ما ن جا ئے گی وہ سب چھو ڑو یہ بتا ؤ ہم کر ے گے کیسے“
”تمہیں پتہ ہے کہ آتی سر د یو ں کے دن ہیں ا ور د ا دو کے گھٹنو ں میں درد ہو تا ہے تو وہ ڈا کٹر کے کہنے پر روز د ھو پ میں جا کر لیٹ جا تی ہیں اور کم ا ز کم دو گھنٹے لگا کر آتی ہیں تو تب ہم ان کی چا بی چو ری کر کے آسا نی سے ان کے آنے سے پہلے پہلے تلا شی لے کر چا بی وا پس کر دے گے“وہ اس کو ا بھی ا بھی تیا ر کیا ہو ا سا را پلا ن بتا تی گئی۔
”ا ور گھر کے با قی لو گ ان کا کیا کر ے گے“ا نا بیہ نے ا پنا خد شہ ظا ہر کیا۔
”جو گھر کے بڑ ے ہیں وہ اس و قت کا م پر ہو تے ہیں ا ور با قی کا لجز ا ور یو نیو رسٹی ہو تے ہیں ا ور پھو پھو اور ہما ری ا می ا ور چچی و غیر ہ ز یا دہ تر ا س و قت ا پنے ا پنے رو مز میں ہو تی ہیں ا ور با ہر بھی ہو تو وہ ان میں سے کو ئی بھی داد و کی غیر مو جو دگی میں ان کے روم میں نہیں جا تا“۔وہ آہستہ آ ہستہ ا نا بیہ کو سب کچھ بتا تی گئی وہ بھی کسی حد تک ا س کے پلا ن سے متفق ہو چکی تھی پر تھو ڑی سی ڈری ہو ئی
تھی ا س کے بر عکس حو رین کا فی ر یلیکس نظر آ رہی تھی۔
جا ری ہے