نا ول
Episode # 3
آج کتنو ں د نو ں بعد ا بر ا ہیم کو کچھ سکو ن سا محسو س ہو ر ہا تھا وہ تو سا ری ا مید ہی کھو چکا تھا پر آج عنا کے و ا لد سے مل کر ا سے ا مید کی کر ن نظر آ ئی تھی جب اس کے وا لد نے ا سے بتا یا کہ عنا بھی ا سے پسند کر تی ہے تو ا یک پل کے لیے تو جیسے ا بر ا ہیم کے لیے د نیا تھم سی گئی تھی ا سے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کی د عا قبو ل ہو ئی تھی شا ید ا للہ کو ا س کے جذ بات کی سچا ئی پسند آ ئی تھی ا ور کتنے د نو ں بعد ا سنے خو د کو پر سکو ن محسو س کیا تھا کہ جس آ گ میں وہ جل ر ہا تھا وہ ا س میں ا کیلا نہیں تھا ا س نے چا ر پا ئی پر لیٹ کر سکو ن سے آ نکھیں مو ند لی تھی آج کا فی د نو ں
بعد وہ ا چھی نیند سو نے و ا لا تھا۔
...................................
گز رتے د نو ں میں با با کی نا را ضگی عنا کے لیے بہت تکلیف دہ تھی ا تنا وہ ا بر ا ہیم کے نظر نہ آنے پر بے چین نہ ہو ئی تھی جتنی اب تھی ا تنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ا بر ا ہیم کے بغیر تو شا ید رہ سکتی تھی پر بابا کی نا را ضگی کے سا تھ نہیں جی سکتی تھی بابا کے رو م میں جا نے کے بعد وہ بھی ا پنے رو م میں جا نے کے لیے ا ٹھی لیکن کچھ سو چ کر ا س کے قد م خور بخو د ان کے روم کی طر ف مڑ گئے با با ا پنے رو م کے صو فے سے ٹیک لگا کر ٹی وی د یکھ ر ہے تھے اور ا می ا لما ری میں سے ان کے آ فس کے لیے کپڑ ے نکا ل رہی تھی جب سے عنا کا مسلہ ہوا تھا وہ ٹی وی لا ؤنج کی بجا ئے ا پنے روم میں ٹی وی د یکھتے تھے وہ آ ہستہ آ ہستہ چلتی ان کے سا منے ز مین پر بچھے کا ر پٹ پے گھٹنو ں کے بل بیٹھ گئی جیسے پہلے بیٹھی تھی جب ا بر ا ہیم کے با رے میں بتا یا تھا۔
”بابا میں جا نتی ہو ں کہ میں ا چھی بیٹی نہیں ہو ں ا ور جو میں نے کہا تھا اس دن ا س کی و جہ سے آپ کو کا فی تکلیف ہو ئی ہے پر با با آپ اسے میر ی غلطی سمجھ کر معا ف کر دے چا ہے تو مجھے ما ر لے یا بر ا بھلا کہہ لے پر مجھ سے ا یسے بے ر خی مت ا ختیا ر کر یں“۔ ا پنی با ت کے آخر تک وہ رو ہی پڑ ی تھی۔
اس کے رو نے پر سلیم صا حب تو ہل سے گئے تھے ا یسا ہوا ہی کب تھا کہ عنا کو ا پنی کسی خو ا ہش کے لیے رو نا پڑ ا ہو ہا ں ا لبتہ ثر یا پر کو ئی ا ثر نہیں پڑا تھا وہ اب بھی خو ش نہیں تھی بس سلیم کی وجہ سے چپ تھی۔
”تو تمہیں لگتا ہے کہ تم نے کچھ غلط کیا ہے“۔ وہ خو د کو سنبھا لتے ہو ئے بو لے تھے۔
”ہا ں“ وہ سسکیو ں کے در میان میں بو لی تھی ”میر ی و جہ سے آپ ہر ٹ ہو ئے ہیں سو ری“ وہ جھکے سر کو مزید جھکا تے ہو ئے بو لی تھی ا یک با ر سر ا ٹھا کر د یکھ لیتی تو پتہ چل جا تا وہ مسکر ا ر ہے تھے۔
”عنا سر اوپر ا ٹھا ؤ تم نے کچھ غلط نہیں کیا تم میر ی بیٹی ہو تم کچھ غلط نہیں کر سکتی“ وہ اس کی طر ف جھکتے ہو ئے بو لے عنا نے حیر ت سے سے سر ا ٹھا کر ان کی طر ف د یکھا جو کہ مسکر ا رہے تھے۔
”مجھے فخرہے تم پر تم نے کو ئی ا ور طر یقہ ا ختیا ر کر نے کی بجا ئے جو تمہا رے دل میں تھا آ کر مجھے بتا د یا“ وہ صو فہ سے ا ٹھ کر ا سے ا ٹھا کر اپنے گلے سے لگا تے ہو ئے کہا۔
”مجھے ما ن ہے تم کہ تم نے ا پنے با پ پر ا تنا بھر وسا ر کھا کہ ا پنی ہر خو ا ہش کی طر ح یہ خو ا ہش بھی میر ے سا منے ر کھی“۔ وہ اس کے آنسو صا ف کر تے ہو ئے بو لے تھے اور یہ سن کر عنا کے دل میں جیسے ٹھنڈ پڑ گئی کا فی د نو ں بعد ا سے سکو ن محسو س ہوا تھا ثر یا ا ب بھی پہلے کی طر ح خا مو ش ہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان د و نو ں نے ا پنے بنا ئے پلا ن پر عمل کر نے کا سو چا تھا د و پہر کا کھا نا کھا نے کے بعد سب آرا م کے لیے ا پنے ا پنے رومز میں جا چکے تھے ا ور دا دو حسب معمو ل چھت پر جا چکی تھی د ھو پ سیکھنے کے لیے وہ د و نو ں بھی تھو ڑی د یر بعد چھت جا پہنچی تھی اور دادی کے پلنگ کی دو نو ں طر ف کھڑی ہو گئی تھی ا نا بیہ نے حورین کو ا شا رہ کے ا ب کیا کر ے حو رین ا پنا ہا تھ دادو کی آنکھو ں کے آگے کیا اور دا ئیں با ئیں ہلا یا یہ کنفرم کر نے کے لیے کہ وہ سو گئی یا ویسے ہی آنکھیں بند کی ہیں دادوکی طر ف سے کو ئی ر یسپا نس نہ ملنے پر ا س نے ا نا بیہ کو ا شا رہ کیا کہ وہ دادی کی پا کٹ سے چا بی نکا ل لے ا نا بیہ نے ڈر تے ڈر تے ا پنا ہا تھ ان کی
پا کٹ کی طر ف کیا اور پا کٹ سے چا بی کو آہستہ آ ہستہ کر کے با ہر نکا لنے لگی ا بھی چا بی تھو ڑی سی با ہر ہی نکلی تھی کہ د ا دو ا یک جھٹکے سے ا ٹھ کے بیٹھ گئی ا نا بیہ نے بو کھلا کر بجلی کی سی تیز ی سے ا پنا ہا تھ پیچھے کیا تھا اور حو رین بھی بو کھلا کرا یک د م سید ھی کھڑی ہو گئی دا دو نے چو نک کر د و نو ں طرف د یکھا ا ور ان دو نو ں کو ا پنے سر ہا نے کھڑا د یکھ حیر ا ن رہ گئی۔
”تم دو نو ں مو ت کے فر شتے کی طر ح میر ے سر ہا نے کیو ں کھڑی ہو ڈرا ہی دیا مجھے تو“ وہ دل پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے ا یک لمبی سا نس لے کر بو لی ”و یسے تم دو نو ں اس و قت یہا ں کر کیا ر ہی ہو“ ا نہو ں نے اب کی با ر مشکو ک نظر وں سے دو نو ں کی طر ف د یکھا تھا جب کہ حو رین اور ا نا بیہ نے سکھ کا سا نس لیا تھا کہ شکر ہے د ادی کو پتہ نہیں چلا تھا۔
”کچھ بھی تو نہیں د ادو ہم تو بس آپ کو د یکھنے آ ئے تھے کہ آپ ٹھیک سے آ را م کر رہی ہیں یا نہیں“ حو رین گھبر ا ہٹ پر قا بو پا تے ہو ئے بو لی اور ا نا بیہ کی طر ف ا شا رہ کیا جو کے چا ر پا ئی کے دو سر ی طر ف چپ چاپ کھڑی تھی اور تھو ڑی گھبر ا ئی ہو ئی لگ ر ہی تھی۔
”مجھے تو ا وپر آ تی کو ا تنے دن ہوگئے تب تو تم د و نو ں کو خیا ل نہیں آیا آج کیسے آ گیا اور یہ ا نا بیہ کیا کر رہی تھی میر ی پا کٹ کی طر ف“ وہ تکیہ کو د یو ا ر کے سا تھ لگا کر ا س سے ٹیک لگا چکی تھی ا نا بیہ ا یک با ر پھر سے بو کھلا گئی تھی جبکہ نے کسی حد تک خو د کو قا بو کر لیا تھا۔
”کچھ بھی تو نہیں دادو وہ تو ہم آپ کی ٹا نگیں د با نے کا سو چ ر ہے تھے“ حو ر ین نے جلد ی سے بہا نہ بنایا۔
”ا چھا تو میر ے ا ٹھنے پر چو روں کی طر ح کیو ں کر ر ہی ہو“وہ ا ب بھی کہا ں ما نی تھی۔
ا للہ یہ د ادو کو کنو ینس کر نا کتنا مشکل کا م ہے حو ر ین نے دل میں سو چاشکر ا نہو ں نے ا بھی چا بی کو نہیں د یکھا تھا نہیں تو پتہ کیا ہو تا۔
”وہ تو د ا دو ا بھی ہم د با نا شر و ع کر نے لگے تھے کہ آپ ا یک د م سے ا یسے ا ٹھی کے ہم د و نو ں ڈر گئی تھی“اب کی با ر حو ر ین نے فل ڈ ھٹا ئی سے جھو ٹ بو لا تھا۔
”ا چھا.... ا چھا“ وہ ہا ں میں سر ہلا تے ہو ئے بو لی ”بس کیا کر و ں وہ خو ا ب ہی ا یسا د یکھ لیا تھا کیا بتا ؤ ں“
وہ سید ھی ہو تی ہو ئی بو لی۔
”ا یسا بھی کیا د یکھ لیا آپ نے د ا دو خد ا نخو ا ستہ آپ کا چہر ہ تو ا یسا تھا جیسے آپ نے کو ئی چو ر یا بھو ت د یکھ لیا ہو“۔ دادو کو ر یلیکس ہو تا د یکھ کر د و نو ں نے سکھ کا سا نس لیا تھا۔
”بتا تی ہو ں پہلے تم د و نو ں کھڑ ی کیو ں ہو وہ کر و جو کر نے آ ئی تھی“
”کیا د ا دو“ اب کی بارا نا بیہ نے پو چھا تھا۔
”ا رے ا بھی تو تم نے بتا یا کے میر ے پا ؤ ں د با نے لگی تھی تو ا ب د با ؤ نا ں کھڑ ی میر ی شکل کیو ں د یکھ ر ہی ہو“
”د با تے ہیں نا ں د ا دو ہم د و نو ں آپ کے پا ؤ ں د با تے آپ ہمیں اپنے خو ا ب کے با رے میں بتا ئے“ وہ د و نو ں ا یک سا تھ بو لی ا ور جھٹ سے بیٹھ کر ا ن کے پا ؤ ں د با نے لگی۔
ا ور د ادی ان کو ا پنا خو ا ب سنا ننے لگی جس میں ا نہو ں نے ا یک لمبا چو ڑا جن د یکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”سلیم صا حب کیا آپ کو پو را یقین ہے کہ جو فیصلہ آپ کر ر ہے ہیں وہ ٹھیک ہے“ثر یا سلیم کے پا س بیٹھتے ہو ئے بو لی وہ د و نو ں آج کا فی د نو ں بعد لا ؤ نج میں بیٹھے تھے ا نہو ں تھو ڑی ا ور تحقیق کے بعد ا بر ا ہیم اور ا س کی بہن کو بلا نا کا سو چا تھا مگر ا س سے پہلے وہ ثر یا کو منا نا چاہتے تھے ا ور جو نہی ا نہو ں نے یہ با ت ثر یا کو بتا ئی تو ان کا آ گے سے یہ جو ا ب تھا۔
”ہاں میں نے بہت سو چ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے ا ور مجھے پو را یقین ہے کہ عنا اس کے سا تھ خو ش ر ہے گی“
وہ ا تنے یقین وا لے لہجے میں بو لے تھے کہ ثر یا ا نہیں د یکھتی رہ گئی۔
”مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو اس کی با توں پر ا تنا یقین کیسے ہے کہ ا س نے جو کہا وہ سچ ہو گا ہو سکتا ہے اس کا یہ ہی مقصد ہو“وہ تذ ب کا شکا ر تھی ا تنا تو وہ بھی جا نتی تھی کہ ا س سے زیا دہ عنا کو کو ئی نہیں چا ہ سکتا تھا اور وہ اس کے لیے کو ئی غلط فیصلہ نہیں کر ے گے پر پھر بھی ان کا د ل نہیں ما ن ر ہا تھا”آ خر ا یک ملا قا ت میں کو ئی کسی کو کتنا کو جا ن سکتا ہے“
”اس کی سفا رش ہی ا یسی تھی کہ مجھے ما ننا پڑا“انہو ں نے ٹی وی کو بند کر د یا ا ور مکمل طور پر ثر یا کی طر ف متو جہ ہو ئے تھے۔
”اور وہ کیا تھی“ وہ حیر ان ہو ئی تھی۔
”تمہیں ا للہ پر یقین ہے“۔
”ہا ں یہ بھی کو ئی پو چھنے وا لی بات ہے آپ بھی نہ پتہ نہیں کیو ں پہیلیاں بجھا ر ہے ہیں سید ھی طر ح بات کیو ں نہیں کر تے“ وہ زچ ہو چکی تھی۔
”اس نے بھی مجھ سے یہ ہی کہا تھا اس نے تھا کہ ا گر میں ا للہ کی ذات پر بھر وسہ کر تے ہیں تو ا سی بھر و سے پر عنا کو اسے سو نپ د وں کیو ں یہ اس کا ذ ات پر بھر و سا ہی تھا جو بات یہا ں تک پہنچی تھی تو بتا ؤ اس کے بعد میں کیا بحث کر تا“ا تنا کہہ کر ا نہو ں نے ثر یا کی طر ف د یکھا کے شا ید وہ کچھ بو لے مگر ان کو چپ سی لگ گئی تھی ا سے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کیا جو اب د یتی ا سے چپ پا کر ا نہو ں نے ا پنی با ت جا ری ر کھی ”ا گر اس کا یقین ا سے یہا ں تک لا یا تھا تو میں کو ن ہو تا ہو ں ا نکا ر کر نے و ا لا مجھے بھی اس ذات پر ا تنا ہی یقین ہے جتنا ا سے ا ور مجھے پو را یقین ہے کہ میر ی بچی خو ش ر ہے گی اور ا گر ان سب کے بعد بھی تم خو ش نہیں ہو اس ر شتے سے تو جیسا تم کہو گی و یسا ہی ہو گا“ ا تنا کہہ کر وہ ا ٹھ کر و ہا ں سے چلے گئے با ہر نکلے تو در وا ز ے پر عنا کھڑ ی تھی ا س کے چہر ے سے لگ ر ہا تھا وہ سب کچھ سن چکی تھی وہ اس کے سر پر ہا تھ ر کھ کر چلے گئے اور
پیچھے ثر یا چپ چا پ بیٹھی رہ گئی شا ید ا ب ان کے ا نکا ر کی و جہ بھی ختم ہو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”چا بی تو کیا ملنی تھی ا لٹا د ھو پ میں ا تنی د یر بیٹھنے کی و جہ سے ر نگ ا لگ کا لا ہو گیا اور سر میں بھی درد ہو نے لگ گیا“ ا نا بیہ ہا تھ میں آ ئینہ لے کر ا پنا چہر ہ د یکھ کر نا ک منہ چڑا ر ہی تھی۔
ان دو نو ں کوپو رے تین گھنٹے بعد آ زا دی ملی تھی اور د ادو آج ا پنی لا ٹھی کی بجا ئے ان د ونو ں پر ا پنا سا را وزن ڈال کر کے نیچے آ ئی تھی اور د و نو ں سا را ٹا ئم پہلے د ا دی کا جن و الا خو اب سنا تھا اور پھر ان کے جو ا نی سے لے کر بڑ ھا پے تک کے سا رے قصے سنے تھے جنہیں وہ پہلے بھی بیسیوں بار سن چکے تھے پہلے تو سب ٹھیک تھا پر تھو ڑی دیر بعد ان کو گر می لگنی شر و ع ہو گئی ا بھی سر د یا ں ٹھیک سے شر وع نہیں ہو ئی تھی تو د ھو پ میں زیا دہ نہیں بیٹھا جا تا تھاوہ مر تی کیا نہ کر تی کے مصد اق کچھ کہہ تو سکتی نہیں تھی تو چپ چا پ بیٹھی ر ہی اور اب جب سے نیچے آئی تھی حو ر ین کو تو ا پنے پلا ن فیل ہو نے کا صد مہ لگا تھا جبکہ ا نا بیہ ا پنے ر نگ کی فکر لگی تھی۔
”اب تم کچھ بو لو بھی گی یا یو نہی بیٹھی ر ہو گی تب سے میں ہی بو لی جا ر ہی ہو ں“ وہ چپ بیٹھی حو رین کو ہلا تے ہو ئے بو لی۔
”میں کیا بو لو ں میر ا تو خو د کا سا را پلا ن بر با د ہو گیا تمہیں کیا کہوں میں ا ب“وہ ا داس سی بو لی تھی۔
”حو رین تمہیں پلا ن کی پڑ ی ہے ا گر ہم نے دو دن ا ور ا یسا کیا تو ہما رے ما ں با پ ہمیں پہچا ننے سے ا نکا ر کر دے گے“وہ اس کے پا س بیٹھتے ہو ئے بو لی۔
”میں تو کہتی ہو ں د فعہ ما رو پلا ن ن....“ اس کی با ت حو رین کی گھو ری د یکھ کر ا ند ر ہی رہ گئی تھی۔
”تو تمہیں ہما ری د و ستی سے ز یا دہ ا پنے ر نگ کی پڑ ی ہے معلو م ہے تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اب پیچھے نہیں ہٹے گے“وہ ا پنا جذ با تی حر بہ اس پر آ ز ما تے ہو ئے بو لی جو کے کا م آ بھی گیا تھا۔
”ہا ں تو میں کب منع کر رہی ہو ں میں تو یہ پو چھ ر ہی کہ ا ب کیا پلا ن ہے“وہ ا یک د م با ت کو بد لتے ہوئے بو لی۔
”ا ب بڑ ی تمہا ری ز با ن چل ر ہی ہے د ا دو کے آ گے کیو ں بر یک لگ گئی تھی“
”وہ تب تو میں ڈر گئی تھی تمہیں پتہ ہم با ل با ل بچے ہیں اور تم نے ہی کہا تھا کہ مجھے کچھ نہیں ہو نے دو گی“ وہ منہ پھلا تے ہو ئے بو لی۔
”ا چھا بابا ٹھیک ہے میں سو چ ر ہی کہ ہم دو با رہ کو شش کر ے گے“حو ر ین خو د کو د و با رہ خو د کو پر عز م کر تے ہوئے بو لی۔
”حو ر ین لیکن ہم آج مر تے مر تے بچے ہیں ا گر پھر پکڑ ے گئے تو“ا نا بیہ ا بھی بھی تھو ڑی پر یشا ن تھی۔
”ا گر پکڑ ے گئے تو آج کی طر ح کو ئی نہ کو ئی بہا نہ بنا لے گے اور ا گر نہ بنا سکے تو سچ بتا د ے گے ا ور دادو سے اس با ر جا ن کر ر ہے گے ا ور کو ئی ا عتر ا ض ہے تمہیں“ وہ اس کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی وہ جلد ی سے نفی میں سر ہلا تے ہوئے بو لی۔
”نہیں اور تو کو ئی ا عتر ا ض نہیں بس ر نگ کا بتا ؤ کیا کر نا“ا سے ا بھی بھی ا پنے ر نگ کی فکر تھی جس پر حو ر ین نے ا س کو پھر سے گھو را تھا۔
”دیکھو حو ر ین میں تمہا رے لیے دا دی کی پر ا نی کہا نیا ں تو با ر با ر سن سکتی ہو پر ر نگ کو لے کر کو ئی سمجھو تہ نہیں“وہ بھی اس با ر ہٹ د ھر می سے بو لی تھی جب کے حو ر ین ا یک ٹھنڈی سا نس بھر کر ا سے سن بلا ک کا مشو رہ د ینے لگی تھی تا کہ ا س کی بڑ ی فکر ختم ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثر یا سے با ت کر نے کے ا گلے د ن ہی سلیم نے ثر یا کی طرف سے ر ضا مند ی سے ا بر ا ہیم کو ا س کے گھر و ا لو ں کو لا نے کو کہا ا بر ا ہیم کے لیے تو اس بڑ ی کو ئی ا ور با ت تھی ہی نہیں ا س نے ا سی و قت آ پی سے با ت کر
کے ا نہیں سب کچھ بتا د یا ا ور وہ ا گلے دن ہی آ پہنچی تھی اور پھر عنا سے اور اس کے گھر وا لو ں سے مل ا نہو ں نے نکا ح کی چھو ٹی سی تقر یب ر کھنے کا سو چا اور ر خصتی عنا کی پڑ ھا ئی ا ور ا بر ا ہیم کے م اپنے پا ؤ ں پر کھڑ ے ہو نے کے بعد پر ر کھی گئی اور آج نکا ح کا ہی د ن تھالیکن ثر یا ا ب پو ری طر ح سے خو ش نہیں تھی پر باپ بیٹی کی خو شی میں خو ش تھی۔
سا رے گھر میں گہما گہمی کا سما ں تھا نکا ح کی تقر یب کی تیا ر یا ں چل ر ہی تھی صر ف خاص خا ص لو گو ں کو مد عو کیا گیا تھاجب کے لو گو ں کا مکس ری ا یکشن تھا جس نے بھی اس ر شتے کا سنا تھا حیر ان تھا کسی کو یہ بے جو ڑ سا ر شتہ لگا تھا تو کسی کوعنا کی ضدپر سلیم نے کسی پر واہ نہیں کی تھی سلیم اور ثر یا کی آنکھیں با ر با ر بھیگ ر ہی تھی ا نہیں بیٹی کے پر ا ئے ہو نے کا ا حسا س ہو ر ہا تھا حا لت عنا کی بھی کچھ ا یسی ہی تھی پر ما ں با پ کی و جہ سے چھپا ر ہی تھی جبکہ ان کے بر عکس ا بر ا ہیم بہت خو ش تھا وہ کا فی عر صے بعد کھل کر مسکر ا رہا تھا اور ا س کو خو ش د یکھ کر آ پی کو بھی سکو ن محسو س ہو ر ہا تھا اب اس کی فکر کر نے و الا بھی کو ئی تھا وہ اب سکو ن سے ا پنے سسر ا ل میں رہ سکتی تھی وہ د ل ہی دل میں ان پر نظر بد کی د عا ئیں پڑ ھ پڑ ھ کر پھو نک چکی تھی۔
ٹھیک دو بجے وہ سا د گی سے عنا کے گھر پہنچ گئے ا ور پھر نکا ح تھو ڑی د یر بعدنکا ح کی ر سم شر وع ہو گئی تھی اور صر ف پا نچ منٹ میں وہ عنا دل سلیم سے عنا دل ا بر ا ہیم ہو چکی تھی اس کی پلکو ں سے دو آ نسو ٹو ٹ کر ا س کی گو د میں جذب ہو گئے تھے نکا ح کے بعد جب امی بابا اس سے ملنے آ ئے تو اس کے ضبط کا د ا من ٹو ٹ گیا اور وہ ان کے گلے لگ کر رو پڑ ی تھی رو تو وہ بھی پڑ ے تھے پر اس کی خا طر خو د کو سنبھا لا تھا اور عنا کوبسمہ نے بڑی مشکل سے چپ کر وایا تھا
Read More:Episode 1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا بیہ اور حو رین کو ا یک پو را ہفتہ ہو گیا تھا پر چا بی حا صل کر نے میں نا کا میا ب ر ہی تھی کبھی د ا دی ا ٹھ جا تی تو کبھی کچھ ا ورکئی د فعہ تو پکڑ ی بھی گئی تھی پر کو ئی نہ کو ئی بہا نہ بنا کر بچ جا تی تھی آج بھر د و نو ں کو شش کر رہی
تھی اور چھت پر بیٹھی د ا دی کے پا ؤ ں د با رہی تھی اب تو دادی ا نہیں خو د سا تھ لا نے لگی تھی گھر و ا لے بھی حیر ان تھے کہ ان د و نو ں کو ا چا نک د ادی سے ا تنا پیا ر کیسے ہو گیا حو رین کا تو پھر بھی ما نا جا سکتا تھا پر ا نا بیہ کا ما ننا مشکل تھاوہ تو بھر ی سر د یو ں میں بھی با مشکل د ھو پ میں بیٹھتی تھی اور کہا ں ا ب بیٹھ رہی تھی وہ بھی ا تنی د یر تک پر د ا دی کی و جہ کو ئی کچھ نہیں بو ل ر ہا تھاان کوآد ھا گھنٹہ ہو گیا تھا د ادی کے پا ؤ ں د با تے ہو ئے جب حو رین کو د ا دی کے سو نے کا یقین ہو ا تو اسنے ا نا بیہ کو ا شا رہ کیا وہ ا ٹھی اور ان کی پا کٹ سے چا بی نکا لنے کے لیے ہا تھ بڑ ھا یا اور دھیر ے د ھیر ے چا بی نکا لنے لگی چا بی تقریبا با ہر آ چکی تھی کہ ا چا نک د ا دی کو چھینک آ ئی تھی حو رین ہڑ بڑاگئی پر انا بیہ نے جلدی سے چا بی نکا ل کرہا تھ پیچھے کر لیا پر د ا دی چھنک لے کر د و با رہ سو چکی تھی د و نو ں نے سکھ کا سا نس لیا اور نیچے کی طر ف چل دی۔
نیچے آکر سب کا ا پنے کمر ے میں ہو نے کا کنفر م کر کے وہ د اد و کے کمر ے میں آ چکی تھی دو نو ں نے تب سے کو ئی با ت نہیں کی تھی دو نو ں کا دل زور زور سے د ھک د ھک کر رہا تھا کہ ا گر پکڑ ے گئے تو کیا ہو گا۔
”اب کیا کر نا ہے“ ا نا بیہ نے ڈر پر قا بو پا تے ہو ئے کہا۔
”د ا دو کی سیف ا لما ری سے شر و ع کر تے ہیں جہا ں ملا زمین کا ر یکا ڈر کھا جا تا ہے“ حو ر ین نے بھی ا پنے حو ا سو ں پر قا بو پا تے ہو ئے کہا تھا۔
”ہا ں جلد ی کر و جو ا لما ری ان لا ک کر نی ہے ا س کے بعد چا بیو ں کا گچھا و اپس رکھ آئے گے ا گر پکڑ ے بھی گئے تو کو ئی بہا نہ بن جا ئے گا“انا بیہ بو لی۔
”ہا ں ٹھیک کہہ رہی ہو“ حو رین نے کہا اور جلدی سے دادو کی سیف ا و پن کی اور کیز و ا پس کر نے جا نے لگی تھی کہ ا نا بیہ کچھ سو چ کر بو لی۔
”حو رین کیو ں نہ دا دو کی ا لما ری بھی ا و پن کر لے ہو سکتا ہے ا یسے کا غذات دا دا ا بو کی ا لما ری میں ر کھے ہو“
”ہا ں کہہ تو تم ٹھیک ر ہی ہو“ حو رین کو اس کا پو ا ئنٹ صیح لگا تھا اس لیے بنا کسی بحث کے ما ن گئی ا نہو ں جلدی سے دا دا ا بو کی ا لما ر ی بھی ا ور بھا گ کر چا بی د ا دی کی پا کٹ میں ر کھ آئی یہ پہلی د فعہ ہوا تھا جو ہر کا م کسی مشکل کے بغیر ہو ر ہے تھے ا نہو ں نے جلدی جلدی ا لما ر یو ں کی تلا شی لینی شر و ع کر دی تھی سیف ا لماری سا ری کی ساری گھنگھا ل ڈ الی تھی ا نہو ں نے لاک و ا لے حصے کے علا وہ کپڑ و ں و الے حصے کی بھی تلا شی لے ڈالی تھی سا تھ سا تھ ا نہیں یہ بھی خیا ل ر کھنا پڑ ر ہا تھا کہ کسی چیز کی تر تیب نہ خر ا ب ہو نہیں تو دادو کو پتہ چل جا تا جبکہ انا بیہ اس بات کا بھی خیا ل ر کھ ر ہی تھی کہ کو ئی آ نہ جا ئے۔
”اب کیا کر ے ہمیں تقر یبا دو گھنٹے ہو گئے اور سا ری ا لماری د یکھ ڈ الی پر ہمیں کچھ نہیں ملااور دادی بھی آنے و الی ہو گی“ا نا بیہ اب تھک چکی تھی۔
”ٹھیک کہہ ر ہی ہو پتہ نہیں وہ آ سما ن سے ٹپکی تھی کیا اس کے متعلق ا یک کا غذ بھی نہیں ہے“ حو ر ین ما یو سی سے بو لی ا سے بھی اب لگ ر ہا تھا کہ شا ید کبھی بھی سچ نہیں جا ن پا ئے گی ا چا نک ا نا بیہ کی نظر ا لما ری کے نیچے ر کھے بیگ پر گئی اور ا چا نک جو ش سے بو لی۔
”یا د آیا د ادو پر ا نے کا غذات اس بیگ میں ر کھتی د یکھی تھی ہو سکتا ہے اس کے بھی ا سی میں ہو“وہ اس بیگ کی طر ف ا شا رہ کرتے ہو ئے بو لی اور جلدی سے دو نو ں نے وہ بیگ نکا لا ا ور ا س کی تلا شی لینے لگی حو رین کا غذات نکال نکال کر د یکھ رہی تھی جبکہ ا نا بیہ ان کا غدات کواسی تر تیب سے د و با رہ رکھ رہی تھی اور ا یک کا غذ پر حو ر ین کی نظر رک گئی تھی جو کہ بر تھ سر ٹیفیکٹ تھاجس پر لکھا تھا۔
صا لحہ ا بر ا ہیم......و ا لدہ کا نا م......عنا دل ابر ا ہیم......و ا لد کا نا م.....ا بر ا ہیم نو از حو ر ین تو جیسے تھم سی گئی تھی سڑ ھیو ں سے د ا دی کی لا ٹھی کی آ واز آ رہی تھی جو کہ د ھیر ے د ھیر ے نیچے آ رہی تھی۔