نا ول
Episode # 4
آج وہ دلہن بنی ا بر ا ہیم کے کمر ے میں بیٹھی تھی ان کے نکا ح کے بعد ڈ یڑھ سا ل کا عر صہ گز ر چکا تھا اس ڈیڑھ میں کیا کچھ نہیں بد ل گیا تھا ا بر ا ہیم اب پہلے وا لا ا بر ا ہیم نہیں ر ہا تھا جب ان کا نکا ح ہو ا تھا تب عنا چھٹے سمیسٹر میں تھا اور ا بر ا ہیم آ خر ی میں ا س ڈیڑ ھ سا ل میں ا سکی دن را ت کی محنت نے ا سے عنا دل کے مقا بل تو نہیں پر اسے معا شر ے میں ا یک پہچا ن ضرور د لا دی تھی گزرتے د نو ں میں ثر یا کو ا بر ا ہیم کو لے کر جو بھی ا ختلا فا ت تھے وہ اس کی لگن اور ا خلا ق کی و جہ سے دور ہو گئے تھے اب تو وہ ا نہیں عنا سے زیا وہ عز یز ہو چکا تھا اس نے شا دی سے پہلے ہی پر ا نا گھر بیچ کر ا یک ا چھے ا یر یا میں ا چھا خا صا گھر لیا تھا سلیم اور ثر یا بہت کو شش کی تھی کہ وہ شا دی کے بعد ان کے سا تھ ہی رہ لیتا پر ا بر ا ہیم کی عز ت نفس کو یہ گو ا را نہ تھا
پر عنا دل کی و جہ ان سے تھو ڑی دور ہی نیا مکا ن لیا تھا تا کہ وہ جب چا ہے ان سے مل لیتی د ر وا زہ کھو لنے کی آوا ز پر عنا نے جھکے سر کو مز ید جھکا لیا تھا د ر وا زہ کھو ل کر ا بر ا ہیم ا ندر د ا خل ہو ا تھا سا منے ہی عنا لا ل جو ڑے میں پھو لو ں سے سجی سیج پر اس کے سا منے بیٹھی تھی ا س کے لا شعو ر نے کتنی با ر ا س خو ا ب کو د یکھا تھا جو کہ آج سچ بن کر ا س کے سا منے تھا وہ د ھیر ے د ھیر ے قد م ا ٹھتا ا س کے سا منے آ کر بیٹھ گیا ا ور د ھیر ے سے اس کا ہا تھ تھا ما جو کے لر ز ر ہا تھا ا بر ا ہیم نے جیب سے کڑا نکا ل کر ا سے پہنا د یا تھا۔
”تمہیں پتہ ہے میں نے کتنا صبر کیا تمہیں اس طر ح ا پنے سا منے د یکھنا کا“ وہ اس کے ہا تھ پر ا پنی گر فت مضبو ط کر تے ہو ئے بو لا جب کہ اس کے بو لنے پر عنا نے ذرا سی نگا ہیں ا ٹھا کر ا س کی طر ف د یکھا پر ز یا دہ دیر نہیں د یکھ پا ئی تو نظر یں جھکا گئی۔
”پو رے تین سا ل میں ا یک دن بھی ا یسا نہ تھا میر ا جس میں نے تمہا رے با رے میں سو چا نہ ہو“ا بر ا ہیم نے ا پنی با ت جا ری ر کھی تھی
”تین سا ل“ حیر ت سے ا چانک ا س کے منہ سے نکل گیا وہ اب شر ما نا بھو ل چکی تھی اور حیر ت میں مبتلا تھی پو ری آ نکھیں کھو لے ا بر ا ہیم کو د یکھ رہی تھی جبکہ ا س کی بات پر عنا کو حیر ت ہو ئی تھی وہ ا سے دو سا لسے جا نتی تھی تو تین سا ل کیسے۔
جبکہ اس کے ا س طر ح بو لنے پر ا بر ا ہیم مسکر ا د یا تھا وہ ا سے اس طر ح ا چھی لگتی تھی ا یک د م مضبو ط نہ کے گھبر ا ئی ہو ئی۔
”ہا ں تین سا ل وہ تمہا را پہلا سا ل تھا یو نیو رسٹی میں“وہ پھرسے گو یا ہو ا۔
”آپ نے مجھے پہلی با ر کہا ں تھا اور مجھ سے محبت کب ہو ئی تھی“ اب ا س کا تجسس بڑ ھ چکا تھا۔
یہ سو ا ل ا بر ا ہیم کے لیے نیا نہیں تھا اس کی کہا نی سننے وا لا ہر شخص کا یہ ہی سو ا ل تھا پر وہ نہیں بتایا تھا کہ وہ شخص جو پہلی نظر کی محبت یقین نہ ر کھتا تھا خو د اس کا شکا ر ہو گیا تھا اور ا یسا ہوا تھا کہ کو شش کے با و جو د بھی نہیں نکل نہیں پا یا تھا ا ور چا ہتا تھا۔
”بتا ئے نہ“ وہ اس کا ہا تھ ہلا تے ہو ئے بو لی جو کہ اب بھی ا بر اہیم تھا مے ہو ئے تھا وہ اس کو آ ہستہ آہستہ بتا تا ہو ا جیسے خو د ما ضی میں چلا گیا تھا۔
وہ عنا کا پہلا سا ل تھا یو نیو ر سٹی کا اور ا بر ا ہیم کا د و سر ا اور یہ ان د نو ں کی بات تھی جب ا بر ا ہیم کی ما ں کا ا نتقا ل ہو ا تھااور ا سے سا ری د نیا بے و جہ لگتی تھی لیکن اس کے ا یک دو ست نے اس کا د ھیا ن بٹا نے کے لیے اس اپلا ئی یو نیو رسٹی میں ہو نے و الے ا یک مقا بلے میں کر د یا جس میں اور بھی یو نیو ر سٹیزکے بچے بھی تھے اوروہ کو شش کے با و جو د بھی تیا ری نہیں کر پا یا تھا پر یو نیو رسٹی کے رول کے مطا بق ا سے حصہ ضر ور لینا تھا یہ ہی وہ لمحہ تھا جب اس نے پہلی با ر عنا کو د یکھا تھاوہ ہا ر رہا تھا با قی یو نیو رسٹی کے سٹو ڈنٹس کے لیے کو ئی نعر ہ لگا رہا تھا لیکن ا بر ا ہیم کی تیا ر ی د یکھ کر کو ئی اس کی طر ف سے آیا ہی نہیں تھے اور جو آ ئے تھے وہ بھی ا سے ہا ر تے د یکھ کر اب چپ ہو چکے تھے تب اس بھیڑ میں سے اس کے نا م کا نعر ہ لگا تی ہو ئی ا ور تا لیا ں بجا تی ہو ئی وہ کھڑ ی ہو ئی تھی جب کہ ہا رے ہو ئے کھلا ڑی طر ح جھکے ہو ئے سر کو ا ٹھا کر ا بر ا ہیم نے ا س کی طر ف د یکھا جو کے ا سے ا پنی طر ف د یکھتا پا کر اب ہا تھ کے ا نگو ٹھے سے ا سے حو صلہ د ے ر ہی تھی ہال کی رو شنیوں میں ا سکا چہر ہ اور آنکھیں ا مید کی رو شنی سے چمک ر ہے تھے اور ا س پل ا بر ا ہیم کو لگا تھا کہ کا ش وہ ا س روشنی کو نہ بجھنے د ے اور صر ف اس چمک کے لیے جیت کر د یکھا ئے۔
عنا دل کے سا تھ ا ب با قی بھی اس کا سا تھ د ینے لگے تھے وہ جو ہا ر ما ن چکا تھا ا یک با ر پھر سے جیتنے کی کو شش کر نے لگا پو ری کوشش کر نے کے با و جو د بھی وہ جیت نہیں پا یا تھا پرمقا بلے ہا ر نے پر بھی وہ ما یو س نہیں ہو ئی تھی بلکہ بعد میں آ کر ا سے حو صلہ د ے کر گئی تھی کہ اس با ر نہیں تو ا گلی با ر وہ ضرور جیت جا ئے گا عنا کو نہیں بھو ل پا یا تھا اس مقا بلے کے و قت ا سے نہیں معلو م تھا کہ وہ ا س کی یو نیو رسٹی کی ہے اس نے بعد اس کی تلا ش کر نے پر پتہ چلا تھا وہ ز ند گی سے بھر پور لڑ کی تھی جو کہ پتہ نہیں ا سکی کو نسی نیکی کے بد لے ا للہ نے ا س جیسے ا د ھو ر ے ا نسا ن کی ز ند گی میں بھیجی گئی تھی پھر ا یک د ن ا س نے ا سے بسمہ کے سا تھ د یکھا تھا وہ بسمہ کے گھر بچپن سے آتا جاتا تھا اوراس سے کبھی بات بھی کر لیتا تھا اس کے و ا لد کے کہنے پر ا سے کبھی کبھی پڑ ھا بھی د یا کر تا تھا ا س دن بھی وہ آ فس کے کسی کا م سے بسمہ کے گھر گیا تھا اور مو قعہ پا تے ہی اس نے بسمہ کو عناکے متعلق سب کچھ بتا د یا ا س نے ا سے عنا کے با رے میں سب بتا د یا کہ وہ کتنے ا میر با پ کی بیٹی ہے ا ور یہ کے وہ کبھی بھی ا پنے ما ں با پ کی مخا لفت نہیں کر ے گی یہ سن کر وہ ا یک با ر تو ٹو ٹ ہی گیا تھا پر قسمت کو کچھ ا ور ہی منظو ر تھا جو آج وہ ا س کی د لہن بنی اس کے سا منے بیٹھی تھی۔
عنا سب کچھ سن کر حیر ان تھی کہ کو ئی ا سے ا تنا بھی چا ہ سکتا ہے وہ کچھ نہیں بو لی تھی اور ا بر ا ہیم کے کند ھے پر سر ر کھ د یا تھا وہ ا پنے حصے کی محبت نبھا چکا تھا ا ب ا س کی با ری تھی
Read More: Episode 1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حو رین کا غذات نکال نکال کر د یکھ رہی تھی جبکہ ا نا بیہ ان کا غدات کواسی تر تیب سے د و با رہ رکھ رہی تھی اور ا یک کا غذ پر حو ر ین کی نظریں ٹھہر گئی تھی جو کہ بر تھ سر ٹیفیکٹ تھاجس پر لکھا تھا۔
بچے کا نا م......صا لحہ ا بر ا ہیم......و ا لدہ کا نا م......عنا دل ابر ا ہیم......و ا لد کا نا م.....ا بر ا ہیم نو از حو ر ین توجیسے منجمد ہو گئی تھی اچا نک گھر کے سنا ٹے کو چیر تی ہو ئی د ا دی کی لا ٹھی کی آ واز سنا ئی دی جو کہ د ھیر ے د ھیر ے نیچے آ رہی تھی حو ر ین و یسے ہی کھڑ ی تھی جبکہ ا نا بیہ اس کا ہا تھ پکڑ کر ہلا یا۔
”کہا ں کھو گئی ہو حو ر ین د ا دو آ گئی ہیں“ وہ اس کی طر ف د یکھتی ہو ئی بو لی۔
”آ ہا ں کیا ہو ا“ حو ر ین کسی خو ا ب سے ا ٹھی تھی جیسے۔
ا نا بیہ اس کی غا ئب د ما غی پر حیر ا ن تھی ا سے کیا ہو ا ہے تھا ا بھی تو ٹھیک تھی یہ اس نے سو چا ا س کی با ت کا جو اب د ینے کی بجا ئے اس نے اس کے ہا تھ میں پکڑ ا کا غذ کھینچا اور اس پر ا یک نظر ڈال کر بیگ میں ڈالا اور جلد ی سے اس کا ہا تھ پکڑ کرجلد ی سے نکل کر قر یب مو جو د کچن میں چلی گئی اس و قت ا سے وہ ہی ٹھیک لگا تھا۔
د ا دو کچن کے سا منے سے گز رنے لگی تو ان د و نو ں کو و ہا ں د یکھ کر حیر ان ہو تی ہو ئی بو لی۔
”لڑ کیو ں تم د و نو ں اس و قت یہا ں کیا کر ر ہی ہو“ وہ د و نو ں کو مخا طب کر تے ہو ئے بو لی۔
”کچھ بھی تو نہیں د ا دو حو رین کو بھو ک لگ ر ہی تھی تو ہم یہا ں کچھ کھا نے کے لیے د یکھنے آ ئے تھے“ا نا بیہ پو رے ا عتما د سے بو لی پچھلے ا یک ہفتے سے جھو ٹ بو ل بو ل کر ا سے بھی اب پر یکٹس ہو چکی تھی اس نے حو رین کا ہا تھ آ ہستہ سے ہلا تے ہو ئے کہا جو کے ا بھی بھی کھو ئی کھو ئی سی تھی اس کے ہلا نے پر وہ جیسے تھو ڑی سی سنبھلی تھی۔
”مجھے تم د و نو ں کی حر کتو ں پر شک ہو نے لگا ہے تم د و نو ں کہیں مجھ سے چو ری کچھ کر تو نہیں ر ہی ہو“وہ ا پنی عینک کو ٹھیک کر تی ہو ئی ان د و نو ں کو غو ر سے د یکھتی ہو ئی بو لی تھی
”کچھ نہیں دادو ہم نے آپ سے کیا چھپا نا ہے“ اب کی با ر حو ر ین نے سنبھلتے ہو ئے کہا تھا کیو ں وہ ہی تھی جو دادو کو کسی بات پر منا سکتی تھی۔
”ا چھا تم کہتی ہو تو ما ن لیتی ہو ں یہ تم د و نو ں میر ے سا تھ ا و پر گئی تھی تو پھر اب نیچے کیا کر ر ہی ہومیر ے ساتھ کیو ں نہیں آ ئی “
”وہ تو د ادو آپ کو ا نا بیہ نے آپ کو بتا یا تو ہے مجھے بھو ک لگی تھی وہ نہ د و پہر مجھ سے کچھ کھا یا نہیں گیا تھا تو اب بہت زور کی بھو ک لگ ر ہی تھی تو میں ہی انا بیہ کو لے کر نیچے آئی تھی کچھ کھا نے کے لیے“ اب کی بار حو ر ین پو رے ا عتما د سے بو لی تھی کیو نکہ ا گر د ا دی کو پتہ چل جا تا تو کچھ بھی پتہ چلنے سے پہلے ہی سب ختم ہو جا نا تھا اور اس با ر تو دادو نے اس کا لحا ظ بھی نہیں کر نا تھا۔
”ا چھا چلو تم کہتی ہو تو ما ن لیتی ہو ں“ وہ اب کی با ر جلدی ما ن گئی تھی۔
”دا دو میں نے بھی تو کہا تھا پر آپ تو صر ف حو ر ین کی دادو ہی ہیں اور کسی کی تو ما نتی ہی نہیں ہیں“ا نا بیہ منہ بنا تے ہو ئے بو لی ا س کا مقصد دا دی کا دھیا ن پو ری طر ح سے ہٹا نا تھا۔
”ہا ں تو وہ میر ی بچی ہے ہی ا تنی سمجھدار اور تم ہو کے سا ر ے ا لٹے کا مو ں کا ٹھیکا ا ٹھا ر کھا ہے چلو اب با تیں نہ بنا ؤ مجھے میر ے رو م میں چھو ڑ کر آ ؤ“ وہ دو نو ں کو ا شا رہ کر تے ہو ئے بو لی۔
”ہا ں د ادو چلو چلتے ہیں“ دو نو ں ان کا ایک ایک با زو تھا لتے ہو ئے بو لی۔
”دا دو کوکنو ینس کر نا د نیا کا مشکل تر ین کامو ں میں سے ا یک تھا اور یہ کا م تم ہی کر سکتی ہو“ ا نا بیہ حو ر ین کے بیڈ پر لیٹتی ہو ئی بو لی وہ د و نو ں دادو کو ان کے کمر ے میں چھو ڑنے کے بعد اب ا پنے کمر ے میں آئی تھی ا ور ا نا بیہ نے تب سے لے کر اب سکو ن کا سا نس لیا تھا۔
”تمہیں کیا ہوا حو رین تم نے جب سے وہ کا غذ د یکھا ہے تب سے خا مو ش ہو“ وہ کب سے اس کو ا س طر ح د یکھ رہی تھی اب ر ہا نہیں گیا تھا تو آ خر پو چھ لیا۔
”کچھ نہیں مجھے کیا ہو نا ہے“ حو ر ین کو خو د نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ کیا کہتی کیا صا لحہ دادا ا بو کی بیٹی تھی پر اس کی ما ں کا نا م تو کچھ ا ور تھا۔
”ا چھا د یکھو کیسا ا تفا ق ہے کے اس کے و ا لد کا نا م اور دادا ابو کا نا م ا یک جیسا ہے“حو ر ین کے مز ید کچھ بو لنے سے پہلے ا نا بیہ خو د بو لی۔
”کیا وہ ا تفا ق ہے“ وہ ا نا بیہ کے پاس بیٹھتے ہو ئے بو لی۔
”ہا ں تو ا ور کیا تمہیں کیا لگا کہ وہ دادا ا بو کی بیٹی ہے جو کے شا ید ان کی خفیہ شا دی سے ہو کیو نکہ ہما ری دا دو کا نا م تو سا جد ہ ہے ا ور جہا ں تک مجھے پتہ ہے دا دا ا بو کی پہلی اور آ خر ی بیو ی تو وہ ہی ہیں“ ا نا بیہ ہنستے ہو ئے بو لی ہا ں یہ ا تفا ق بھی تو ہو سکتا تھا ا گر وہ د ادا ابو کی بیٹی ہو تی تو اس حا ل میں کیو ں ہو تی اور آج اس طرح گمنا م نہ ہو تی جیسے آج تک تھی اس کی ذات ا یک سو ا لیہ نشا ن تھی گھر کے ز یا دہ ترا فر ا د کے لیے وہ ا یسے تھی جیسے کبھی تھی ہی نہیں تھی حو ر ین نے خو د کو شا ید حو صلہ دیا تھا ا گر غو ر کر تی تو پتہ چل جا تا کہ اس بیگ میں ا ور کسی ملا ز م کے کا غذ نہیں ملے تھے صر ف صا لحہ کے ہی کیو ں اور یہ کے د نیا میں ا تنے ا تفاق نہیں ہو ا کر تے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گز ر تے دن عنا دل کے لیے کسی خو ا ب سے کم نہ تھا ا بر ا ہیم اس کی ہر خو ا ہش کو بن اس کے کہے پو را کر تا تھا وہ خو د کی قسمت پر کبھی کبھی حیر ا ن ہو تی تھی کہ کیا و ا قعی ہی اس قا بل تھی کہ اس کو ا تنا چا ہا جا تا اس ا بر ا ہیم کی محبت کی شد ت کا ا ب پتہ چلا تھا نکا ح بعد ا بر ا ہیم نے ا پنی تما م تر تو جہ ا پنے آپ کو اس کے قا بل بنا نے میں لگا دی تھی تب تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی اس کے با رے میں پر اب وہ اس پر آنکھیں بند کر کے بھر و سہ کر تی تھی وہ ہر ہفتے ا پنے ا می ا بو کو ملنے چلی جا یا کر تی تھی جو کے اسے خو ش د یکھ کر خو ش تھے ز ند گی میں سب کچھ مکمل تھا اس کی ز ند گی میں محبت کر نے و الا شو ہر جا ن چھڑ کنے والے ما ں با پ بہنو ں سے بڑھ کر پیا ر کر نے و ا لی نند اس کی تو بس اب ا یک ہی د عا کی تھی کہ یہ سب ا سی طر ح قا ئم ر ہے اس کے اس آ شیا نے کو کسی کی نظر نہ لگے مگر ا نسا ن جیسا چا ہے و یسے ہمیشہ ہو ضر وری تو نہ تھا اور سب کچھ ا یک جیسا ر ہتا ہی کب ہے یہ ہی قد رت کا قا نو ن تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا بیہ کے کہنے پر وہ ما ن تو گئی تھی کہ وہ ا تفا ق تھا پر پتہ نہیں کیو ں اس کے ا ندر ا یک بے چینی سی تھی جو ا سے کسی پل چین نہیں لینے دے ر ہی تھی سچ کو جا ننے کا تجسس تو پہلے بھی تھا مگر اب تو ا سے ا یسا لگ ر ہا تھا جیسے اس نے نہ پتہ لگا یا تو مر ہی جا تی مگر وہ پھر جیسے پہلے و ا لی کنڈ یشن میں تھی سمجھ نہیں آ ر ہی تھی کہ آگے کیا کرے کیسے جا نے سب کچھ کبھی کبھی اس کا د ل کر تا تھا کہ اس کے پا س بھی کو ئی جا دو کی چھڑی ہو تی جسے گھما کر وہ سچ کو پتہ کر لیتی یا کم ا ز کم د ادو سے سب کچھ پو چھ لیتی مگر ا یسا ممکن ہی کہا ں تھا۔
”کیا ہو ا حو ر ین کیا سوچ ر ہی ہو“ انا بیہ نے جو ا سے دو د نو ں سے ا یسے د یکھ ر ہی تھی اس دن کے بعد سے د و نو ں کو کو ئی ا ور سلو شن نظر نہیں آ ر ہا تھا کہ آ گے وہ کیا کر تے اس بر تھ سر ٹیفیکٹ کے ملنے کے بعد د و نو ں نے د و با رہ بھی اس بیگ کی تلا شی لی تھی پر کچھ نہیں ملا تھا۔
”تمہیں پتہ تو ہے پھر بھی پو چھ ر ہی ہو“ وہ چھت کو تکتے ہو ئے بو لی ”ہم نے جہا ں سے شر و ع کیا تھا اب بھی و ہیں ہیں کچھ بھی نہیں پتہ چلا اتنی کوشش کے با و جو د“ اس کی آ وا ز میں ما یو سی تھی انا بیہ جو کے اس بر ابر لیٹی ہو ئی اسے ا دا س د یکھ کر چپ ہو گئی تھی کہنے کو د و نو ں کے ا لگ ا لگ رو مز تھے پر دو نو ں ر ہتی حو رین کے رو م میں ہی تھی ا یسا بہت کم ہو ا تھا جو ا نا بیہ ا پنے روم میں رہی ہو زیا دہ تر ان کی لڑ ائی کی صو رت میں ہوا تھا جو وہ دو نو ں ا لگ ہو تی تھی نہیں تو وہ د و نو ں ا یک سا تھ ہی رہا کر تی تھی۔
وہ کو ئی جنگل تھاگھنے د ر ختوں کے سا تھ ملگجا سا تھا ہر طر ف ا یسے تھا جیسے ا جا لا ا ند ھیر ے سے لڑ رہا تھا اور آ ہستہ آ ہستہ کا میا ب ہو ر ہا تھا جبکہ حو ر ین ا د ھر سے ا د ھر پھر ر ہی تھی ا سے سمجھ نہیں آ ر ہی تھی کہ کس طر ف جا ئے آ خر بھا گتے بھا گتے وہ د ر ختو ں سے نکل کر با ہر آ ئی تو آ گے ہر ے ہر ے کھیت دور دور تک پھیلے ہو ئے تھے جس میں کچھ فا صلے پر ا سے ا یک د ھند لا سا و جو د د یکھا ئی د یا جو کے شا ید ز مین سے کچھ چن ر ہاتھا
اس نے ا پنے قد م آ ہستہ آ ہستہ اس کی طر ف بڑ ھا نے شر و ع کر دیے اس کے قر یب جا کر وہ رک گئی
ا ند ھیرا اب کسی حد تک ا جا لے میں بدل چکا تھا کسی حد تک وہ تھو ڑی ا ور قر یب ہو ئی تو ا س کا چہر ہ اب اسے صا ف نظر آ رہا تھا یہ وہ ہی چہر ہ تھا جس کو ڈھو نڈ نے کے لیے وہ دن رات بے قر ا ر تھی جو کہ زمین سے گھا س میں سے تنکے چن ر ہی تھی۔
”صا لحہ یہ آپ ہی ہو نہ“ وہ جو شیلے لہجے میں بو لی تھی جب اس بو لنے پر بھی اس پر کو ئی ا ثر نہیں ہوا تھا بلکہ وہ ا پنے کا م میں ہنو ز مگن تھی۔
”تمہیں پتہ ہے میں کب سے تمہیں ڈھو نڈ ر ہی ہو ں“حو ر ین اس کے مز ید پا س آ تے ہو ئے بو لی دو سر ی طر ف بلکل خا مو شی تھی۔
”تم کچھ بو ل کیو ں نہیں ر ہی ہو کیا تم ٹھیک ہو“ حو ر ین نے اب کی با ر ا س کے کند ھے پر ہا تھ ر کھا تھا جس پر اس نے نظر یں اس کی طر ف دیکھا تھا ان آ نکھو ں ا یسا تھا کہ حو ر ین ا پنے قد م پیچھے کر نے پر مجبو ر ہو گئی تھی وہ وہ صا لحہ نہیں تھی جسے وہ جا نتی تھی وہ چہر ے سے بلکل نا ر مل لگ ر ہی تھی پہلے وا لی معصو میت نہیں تھی ا سکے چہر ے پر وہ ا چا نک ا ٹھی اور جس طر ف سے حو ر ین آ ئی تھی وہ اس طرف چل پڑ ی اسے دور جا تا د یکھ کر حو رین ہو ش میں آ ئی ا ور اس کے پیچھے بھا گی۔
”کم ا ز کم مجھے یہ بتا دو کو ن ہو تم ا ور کہا ں سے آئی ہو آخر کیا ہو ا ہے تمہا رے سا تھ“پھو لتی سا نسو ں کے سا تھ وہ چلا تے ہو ئے بو لی تھی آ گے قد م بڑ ھا تی صا لحہ بھی تھم چکی تھی پر اب بھی خا مو ش ہی تھی ا سے خا موش پا کر وہ پھر سے بو لی تھی۔
”میں نے بہت لمبا سفر طے کیا ہے تمہیں اللہ کا وا سطہ ہے کچھ تو بو لو میں تھکنے لگی ہو ں اب“ وہ ہا رے ہو ئے کھلا ڑی کی طر ح زمین پر گھٹنو ں کے بل بیٹھتے ہو ئے بو لی اور ا پنا سر نیچے جھکا کر ز مین کو تکنے لگی۔
”تو تم سچ جا ننا چا ہتی ہو“ حو رین کو سنا ئی د یا اس نے سر ا ٹھا کر د یکھا تو وہ اس کے سر پر کھڑ ی تھی اس نے ہاں میں سر ہلا یا ا چا نک تیز ہوا چلنے لگی تھی۔
”تو تم اس کی قیمت چکا نے کے لیے تیا ر ہو“ اس کی نظر یں حو ر ین کے چہر ے پر جمی تھی اور اس کا بلکل سپاٹ تھا جیسے وہ کو ئی پتھر تھی۔
”قیمت؟؟؟“ حو ر ین نے حیر ت سے پو چھا تھا اسے تیز ہوا کی و جہ سے اب سر دی لگ ر ہی تھی اس نے با ز ؤں کو ا پنے ٹا نگو ں کے گر د لیپپٹاتھا۔
”ہا ں قیمت ہر سچ کی ا یک قیمت ہو تی ہے تمہیں نہیں معلو م کیا“ وہ اب بھی و یسی ہی تھی تیز ہوا کا اس پر کو ئی ا ثر نہیں تھا۔
”تو کیا قیمت ہو گی اس سچ کی“وہ ٹھٹھر ا تے ہو ئے بو لی تھی۔
”اس سچ کی قیمت تمہا رے ا پنے ہیں ہو سکتا اس کو جا ننے کے بعد تم ا پنو ں کو کھو دو“ وہ سخت لہجے میں بو لی ہو ا مز ید تیز ہو چکی تھی ا رد گر د کی مٹی ا ڑ ر ہی تھی گر د اتنی ز یا دہ بڑھ چکی تھی کے اس کے سا منے کھڑ ی صا لحہ د ھند لی ہو چکی تھی جب کے حو ر ین کو اب اس سے اور ما حو ل دو نو ں سے خو ف آ رہا تھا۔
”تو جب تم اس قیمت کو چکا نے کے لیے تیا ر ہو جا ؤ تب سچ کو ڈ ھو نڈ نا سب پتہ چل جا ئے گا“ اس کی آ واز اب حو ر ین کو دور سے آ تی ہو ئی سنا ئی د ی تھی گر د اتنی بڑ ھ چکی تھی کہ پھر سے ا ند ھیر ا چھا چکا تھا حو ر ین کو سا نس لینے میں د شو ا ری ہو ر ہی تھی۔
.................................
جا ری ہے
For updates and more info join my watsapp channel
Read More: Episode 3
| aik thi salah |