aik thi salah نا ول
Episode # 10
حو ر ین آ ج جب کچہر ی سے لو ٹی تو د ا دا ابو کے کمر ے سے ا و نچی ا و نچی آ و ا زیں آ رہی تھی سا ر ے د ن کی تھکی ہا ر ی وہ بیگ رکھ کر سید ھی کچن میں آ ئی تھی ا نا بیہ کو ڈھو نڈ نے جو کہ حسب معمو ل کچھ کھا نے پینے کی تلا ش میں تھی ا سے د یکھ کر ر ک گئی تھی۔
”تم کب آ ئی حو ر ین تمہیں پتہ عا بد ا نکل آئے ہیں کہیں وہ دا دا ا بو سے ہما ر ی شکا یت تو نہیں لگا نے آ ئے ہم جو کر نا چا ہ ر ہے ہیں ا سکے با ر ے میں ابھی کل ہی تو ہم ا س با رے میں سو چا تھا“وہ کچن میں موجو د
ڈ ا ئنگ ٹیبل کے سا تھ لگی چیئر پر بیٹھتی ہو ئی بو لی تھی۔
”ہا ں جیسے وہ ہما ری شکا یت لگا نے آ ئے اور تم ا تنے آ ر ا م سے یہا ں کھا نے پینے کو ڈ ھو نڈ ر ہی ہو تی تب تو تم مر نے و الی نہ ہو تی“ وہ اس کے پا س بیٹھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”ہا ں پہلے جب وہ آ ئے تھے میں پر یشا ن تھی د ا دو کے کمر ے کے با ہر چکر نکا ل ر ہی تھی پر پھر ان کی تیز تیز آ و ا ز یں آ نا شر و ع ہو گئی تو میں کچن میں آ کر کھا نا ڈ ھو نڈ نے لگی“
”ا ور وہ کیو ں“ حو ر ین اس کی بے تکی با تو ں پر ا سے گھو را تھا۔
”میں نے آ ج تو ہم گئے تو کیو ں نہ مر نے سے پہلے پیٹ پو جا کر لی جا ئے کم ا ز کم بھو کے پیٹ تو نہیں مر نا پڑ ے گا“ وہ بڑ ے آ ر ا م سے ا سے بتا ر ہی تھی جیسے کو ئی عا م بات ہو۔
”تم بھی نہ پا گل ہو“ حو ر ین ا س کے سر پر ہلکے تھپڑ لگا تے ہو ئے ا ٹھی تھی اور و ہا ں سے ا ٹھ کر دا د و کے کمر ے کی طر ف چل دی تھی جو کچن سے تھو ڑے فا صلے پر تھا انا بیہ جو بھی کہتی مگر اب ان کے کمر ے سے آ واز بلند ہو ر ہی تھی جو کے تھوڑ ی تھو ڑی کچن میں بھی سنا ئی د ینے لگی تھی۔
”ما مو ں آ پ کیسے بھو ل سکتے ہیں آ پ نے میر ی ما ں سے و عد ہ کیا تھا“ وہ کمر ے کے قر یب ہی پہنچی تھی تو ا س کے کا نو ں میں یہ آ و ا ز پڑ ی تھی۔
”د یکھو بھئی وہ جوبھی کچھ تھا اسے کر نے و ا لے تو ا س د نیا میں رہے نہیں تو کیا فا ئد ہ پر ا نی با تو ں کو ا ور و عدوں کو د ہر ا نے کا ا ب تو جو بھی ہو گا بچو ں کی مر ضی سے ہو گا“ یہ د ا دو کی آ وا ز تھی صا ف لگ ر ہا تھا وہ جو بھی با ت تھی ا نہیں سخت نا گو ا ر گز ری تھی حو ر ین و ہیں کھڑ ی ہو گئی ا ند ر جا نا ا سے منا سب نہیں لگا تھا و یسے بھی عا بد ا نکل کی مو جو دگی میں دا دی کو ا س کا آ نا ا چھا بھی نہیں لگنا تھا تو و ہیں ر ہنا بہتر تھا۔
”میر ے خیا ل سے اب آ پ کو جا نا چا ہئے عا بد صا حب“ یہ اس کے وا لد کی آ و ا ز تھی جو کے حیر ا ن کن طو ر پر گھر آ ئے تھے ز یا د ہ تر وہ کا م کے سلسلے میں با ہر ر ہتے تھے وہ کب و ا پس آ ئے تھے ا سے تو خبر بھی نہ تھی نہ
ہی ا نا بیہ نے اس سے ذکر کیا تھا۔
”ہا ں تم صیح کہہ ر ہے ہو اب مجھے چلے ہی جا نا چا ہیے میں بھی کہا ں اور کن لو گو ں کو وعد ے یا د دلا رہا تھا جن کے خو ن میں ہی و عد ہ خلا فی ہے“ اب کی با ر عا بد ا نکل کی آ و ا ز میں ہلکی ہلکی نفر ت تھی۔
”اس سے پہلے کے معا ملہ مز ید بگڑ ے عا بد تمہیں یہا ں سے چلے جا نا چا ہیے“ یہ دادا ا بو کی آ و ا ز تھی حو ر ین ابھی سمجھ بھی نہ پا ئی تھی تب ہی د ر و ا زہ کھو لا تھا اور غصہ میں بھر ے عا بد ا نکل نکلے تھے ا سے سا منے کھڑ ا د یکھ کر وہ ا یک پل کے لیے رکے تھے پھر بنا کچھ کہے اس کے سر پر ہا تھ ر کھ کر و ہا ں سے چلے گئے تھے سا منے کمر ے کا منظر صا ف تھا و ہا ں نہ صر ف ا سکا با پ تھا بلکہ ا سکا بڑ ا بھا ئی بھی تھا۔
ا بر ا ہیم کے بعد سا ر ا کا م اس کے و ا لد اور انا بیہ کے و ا لد نے ہی مل کر سنبھا ل ر کھا تھا اور پچھلے دو سا لو ں سے ا سکا بھا ئی بھی ا پنی پڑ ھا ئی مکمل کر کے ان کے سا تھ کا م کر رہا تھا حو ر ین کا ا پنے و ا لد کے سا تھ ر شتہ کو ئی ز یا د ہ بر ا نہیں تو ز یا د ہ ا چھا بھی نہ تھا۔
وہ وہیں کھڑ ی تھی جب اس کی ما ں ا س کے پا س آ ئی تھی تو ا س نے سو ا لیہ نظر و ں سے ان کی طر ف د یکھا تھا وہ کچھ کہے بنا اسے لے کر ا پنے کمر ے میں آ گئی تھی۔
”تم تھکی ہو ئی آ ئی ہو آ را م کر و و قت آ نے پر سب پتہ چل جا ئے گا ا بھی سے پر یشا ن ہو نے کی ضر و ر ت نہیں ہے“ وہ اس کے سر پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی ا سے وہ چہر ے کچھ پر یشا ن سی لگ ر ہی تھی پر وہ تھکا و ٹ کی و جہ سے کچھ بھی پو چھے بنا لیٹ گئی۔
Read More: Episode 1 ......................
”دو سا ل بعد سا جد ہ نے ا یک بیٹے کو جنم د یا تھا یہ دو سا ل اس کے لیے کتنے مشکل تھے یہ وہ ہی جا نتی تھی اسنے یہ پو ر ے د و سا ل ا بر ا ہیم کی خد مت میں گز ا رے تھے اس کا ہر ا چھا بر ا ر و یہ بر د ا شت کیا تھا اور آ خر کا ر ا س کی کا و شیں ر نگ لا ئی تھی اس میں اور ا بر ا ہیم میں محبت کا نہ صیح پر ا حسا س اور ذ مہ دا ری کا ر شتہ ضر ور
قا ئم ہو گیا تھا اور آج د و سا ل بعد وہ پہلی با ر ا تنی مطمئن نظر آ رہی تھی ابر ا ہیم گھر کی سا ر ی ذ مہ دا ری اس پر ڈال چکا تھا مد یحہ بھی اس پر مکمل بھر و سہ کر کے صا لحہ کو مکمل طور پر اس پر چھو ڑ چکی تھی جسے وہ اب تک تو ا چھے سے نبھا ر ہی تھی لیکن ا ب ا سے وہ بو جھ لگنے لگ گئی تھی کو ئی ا یک با ت بھی ا سکو پچا س با ر د و ہر ا نی پڑ تی تھی پھر بھی وہ اس کے ا لٹ ہی کر تی تھی پہلے ا یک مقصد تھا اس کا خیا ل کر نے کا پر اب وہ بھی جا ن گئی تھی کہ اس کے با پ کے د ل میں ا س کی کو ئی جگہ نہیں تھی جب ا سے پر و ا ہ نہیں تھی تو وہ کیو ں کر تی اس کا پیچھے رہ گئی تھی مد یحہ جس کی آ مد ا ب کبھی کبھا ر ہو ا کر تی تھی وہ بھی تھوڑی د یر کے لیے اس تھو ڑی د یر کے لیے ناٹک کر نا کو ئی مشکل نہ تھاگھر کے سب ملا ز م ا س سے ڈر تے تھے کسی کی مجا ل نہیں تھی کہ کچھ کہہ پا تا۔
.........................
اس روز گھر میں جو بھی ہنگا مہ ہو ا تھا حو ر ین کے پو چھنے پربھی ا ور ا نا بیہ کی جا سو سی کے بعد بھی کو ئی فا ئد ہ نہ ہوا تھا وہ کچھ بھی پتہ نہ لگا پا ئی تودو نو ں نے اس کی جا ن چھو ڑ کر د و با ر ہ ا پنی تلا ش جا ر ی کر دی صا لحہ کے متعلق انہو ں نے د و با رہ پو ر ی ا لما ر ی چھا ن ما ری تھی تھی لیکن اس با ر کچھ بھی حا صل نہ ہو ا تھا اور اب ایکبار پھر سے د و نو ں کو عا بد ا نکل ہی نظر آ ر ہے تھے وہ ہی کچھ کر سکتے تھے۔
آ ج وہ چمبر آ ئی تو پتہ چلا اس د ن جو ا لیگل آ ر گن کا کیس تھا وہ خا ر ج ہو گیا تھا اس سر جن کے کا فی تعلقا ت تھے ا ور مد عی غر یب لو گ تھے ان پر پر یشر ڈا ل کر کیس کو غلط فہمی قر ا ر د یاتھا حا لا نکہ ثبو ت صا ف تھے
حو ر ین جب آ ئی تب وہ ار با ز نا می سر جن اشر ف کے سا منے مٹھا ئی کا ڈ بہ لیے بیٹھا تھا چہر ے پر کمینگی سی مسکر ا ہٹ تھی جو کہ اشر ف کو نیچا د یکھا نے کے لیے تھی۔
”د یکھا ا شر ف صا حب آ پ تو کہہ ر ہے تھے کہ میرا کیس کمز ور ہے کچھ نہیں ہو سکتا اب تو آ پ کو پچھتا و ا ہو ر ہا ہو گا کہ آ پ کو میر ی آ فر نہیں ٹھکر ا نی چا ہیے تھی پو ر ے دس لا کھ فیس دی ہے میں نے و کیل کو“وہ مسکر ا یا تھا۔
”مجھے کو ئی پچھتا و ا نہیں آ پ جیسے ا نسا ن کو ا نکا ر کر نے کی ا گر آ پ ا سکا د س گنا ہ بھی د یتے تب بھی میں آ پکا کیس نہیں لیتا ا ور میر ا نہیں خیا ل کا کہ آ پ کا ا ور میر ا ا یسا کو ئی ر شتہ جس میں آ پ مجھے ا پنی خو شیو ں میں شر یک کرے اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ آ پ ا پنی لا ئی مٹھا ئی لے کر یہا ں سے تشر یف لے جا ئیں اس سے پہلے کہ میں آ پکو د ھکے مر و اکر نکا لو ں یہا س سے“ ا شر ف نے بنا کسی لحا ظ ا سے کہا ں تھا وہ کا فی غصے میں تھے ا نہیں پہلے ہی کا فی د کھ تھا اس کے لا لچ نے پہلے بھی کئی بے گنا ہ لو گو ں کی جا ن لی تھی ا ور اب ا یک معصو م ا پنی جا ن سے گیا تھا۔
”غصہ کیو ں ہو ر ہے ہیں چلا جا تا ہو مگر آ پ یا د ر کھیے گا کہ آ پ کا ا ور میر ا سا منا پھر ضر ور ہو گا“ وہ با ہر نکلتا ہو ا بو لا تھا حو ر ین اس د ن کی طر ح چپ چا پ تما شا د یکھ ر ہی تھی وہ کر بھی کیا سکتی تھی اسکا مو ڈ پہلے ہی صا لحہ کی و جہ سے آ ف تھا اس کا کو ئی سراغ نہیں مل ر ہا تھا او پر سے یہ سب د یکھ کر ا سے لگ ر ہا تھا شا ید د نیا میں
ا نصاف ختم ہو چکا تھا۔
”تمہیں پتہ ہے تمہا ر ا کو ئی پر پو زل آ یا ہے اور د اد و ا ور تمہا ر ے با با ا س پر غو ر و فکر کر ر ہے ہیں“ حو ر ین نے اسے پا نی کی بو تل پکڑ ا تے ہو ئے کہا تھا وہ چو نک کر پڑ ی تھی آ خر بلی تھیلے سے با ہر آ ہی گئی تھی وہ آ ج جب لو ٹی تھی تو پہلے ہی طبعیت بو جھل سی تھی ا و پر سے ا نا بیہ نے اس کے سر پر بم پھو ڑا تھا وہ بنا کچھ کہے ڈ ھکن کھو ل کر پا نی پینے لگی تھی۔
”اور وہ عا بد ا نکل اس د ن آ ئے تھے وہ بھی تمہا ر ی و جہ سے آ ئے تمہا ر ی ا ور ز ین بھا ئی کی جو با ت طے ہو ئی تھی ا س لیے“ تو یہ تھا سا ر ا ما جر ا حو ر ین نے سو چا تھا بو لی کچھ نہیں۔
”لیکن عا بد ا نکل کو کیسے پتہ چلا سب اور تمہیں کس نے بتا یا“وہ پا نی کا گھو نٹ حلق میں ا تا ر تے ہو ئے بو لی۔
”پتہ نہیں عا بد ا نکل کو کیسے پتہ چلا ا ور مجھے تو میر ی ا می نے بتا یا ہے وہ کہہ ر ہی تھی اس لیے د ا دو نے کا ل کر
کے تمہا ر ے ا بو ا ور بھا ئی کو بلا یا ہے تا کہ کو ئی فیصلہ لیا جا سکے“ وہ حو ر ین کے پا س بیڈ پر بیٹھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”و یسے میں نے اس کی تصو یر بھی د یکھی ہے ا ور مجھے اس تو ز ین بھا ئی کئی د ر جے بہتر لگے کتنا ا چھا ہو تا ا گر تمہا ر ی شا دی ان سے ہو تی و یسے تم کیا کہتی ہو“ وہ پہلے ا د ا س ہو ئی تھی پھر ا سکی ر ا ئے پو چھنے لگی تھی۔
”میں نے کیا کہناہے میرے سے بڑ ے بیٹھے ہیں وہ میر ے حق میں بہتر فیصلہ کر یں گے“ وہ اس و قت کو ئی لمبی چو ڑی با ت کر نے کے مو ڈ میں نہیں تھی اس لیے ا تنا ہی کہا تھا اس سے سچ پو چھا جا تا تو وہ کہتی کہ پہلے وہ ا یک کا میا ب و کیل بننا چا ہتی تھی پھر ا س با رے میں سو چتی مگریہا ں تو کسی نے ا سے یۃ بھی نہ بتا یا تھا کہ اس گھر میں جو ہنگا مہ ا ٹھا تھا وہ اس کی و جہ سے تھا ا س کی ر ا ئے لینا تو د ور کی با ت تھی۔
.....................
حو ر ین اور ا نا بیہ عا بد ا نکل کے گھر جا نے کا سو چ رہی تھی اپنی تلا ش کا کو ئی بھی سر ا نہ ملنے پر ان کو وہ ہی ا یک و ا حد حل نظر آ یا تھامگر ا س سے پہلے ہی عا بد ا نکل نے ا نہیں کا ل کر کے گھر بلا یا تھا حو ر ین شش و پنچ میں مبتلا تھی ا یک تو ا سے روز روز ان کے گھر جا نا ا چھا نہیں لگ ر ہا تھا ا و پر سے کچھ د ن پہلے ان کے سا تھ اس گھر میں جو ہو ا تھا وہ بھی ا یک و جہ تھا پر انا بیہ کے ضد کر نے پر وہ بھی ما ن گئی تھی۔
”ا نکل آ پ نے ہمیں بلا یا تھا“ وہ د و نو ں آ ج یو نیو رسٹی ختم ہو نے کے بعد و ہا ں پہنچی تھی تو سلا م د عا کے بعد ا نا بیہ نے سوا ل کیا تھا۔
”جی بیٹا“ وہ اسی د ن کی طر ح لا ؤ نج میں بیٹھے تھے انکل سا ئیڈ و ا لے صو فے پر بیٹھے تھے اور د و نو ں بڑے صو فے پر بیٹھی تھی آ ج ان کی طبیعت بہتر لگ ر ہی تھی۔
”خیر یت تھی ا نکل“ اب کی با ر حو ر ین بو لی تھی ا سے تو لگا تھا ا س د ن کی لڑ ا ئی بعد تو ہو سکتا تھا وہ د و با رہ ان میں سے کسی کی شکل بھی نہیں د یکھنا چا ہے گے پر یہا ں تو ا لٹ تھا انہو ں نے صر ف ا سے یہا ں بلا یا تھا
بلکہ ان کا ر ویہ بھی بلکل نا ر مل تھا۔
”ہا ں بیٹا مجھے آ پ سے کچھ با ت کر نی تھی“ وہ صو فے پر سید ھا ہو بیٹھتے ہو ئے بو لے تھے ”آ پ کو معلو م ہی ہو گا آ پ کے لیے ا یک پر پو زل آ یا ہے“ حو ر ین جو متو جہ ہو کر سن ر ہی تھی کنفیو ز ہو گئی ا سے لگا نہیں ا نکل اس سے متعلق کو ئی با ت کر یں گے۔
”جی ا نکل مجھے معلو م ہے اور آ پ کو معلو م ہے دادو کو بہت پسند ہے“ انا بیہ بو لی تھی وہ مز ید بھی کچھ بو لتی لیکن حو ر ین کو ا پنی طر ف گھو رتے ہو ئے پا کر چپ ہو گئی۔
”جا نتا ہو ں آ پ کی دا دو کو بہت پسند ہے اسی لیے بلا یا ہے آ پکو“ وہ ا یک لمحے کے لیے ر کے تھے اور ا ن د و نو ں کی طر ف د یکھا تھا پر ا ن کی طر ف سے کو ئی جو ا ب نہ پا کر وہ پھر سے گو یا ہو ئے۔
”آ پ جا نتی بھی ہیں وہ لڑ کا کو ن ہے اور کیا کر تا ہے“ انہو ں نے سو ا لیہ نظر و ں سے ا ن کی طر ف د یکھا تھا
د و نو ں نے ا نکا ر میں سر ہلا یا تھا ا نہیں حیر ت نہیں ہو ئی تھی جا نتے تھے ا یسا کچھ ہی ہو گا۔
”وہ لڑ کا ا س شہر کے جا نے ما نے سر جن ا ر با ز کا ا کلو تا بیٹا ہے جو کے تھو ڑے د ن پہلے ا یک کیس میں بھی ملو ث تھا“ان کے ا لفا ظ ا نا بیہ کے لیے نا ر مل تھے مگر حو ر ین کو یہ نا م یا د میں آ نے میں د و سکینڈ بھی نہ لگے تھے
”حو رین بیٹا آ پ تو جا نتی ہی ہو گی کو رٹ میں آ پ بھی سنا ہو گا ان کا یہ بیٹا و یسے تو سا ر ی زند گی با ہر ر ہا ہے پر سننے میں آ یا ہے کہ وہ ڈ ر یگس لیتا ہے“ وہ ا سے خا مو ش د یکھ کر ا پنی با ت جا ر ی ر کھتے ہو ئے بو لے تھے ”میں اس د ن آ پ کے گھر گیا تھا آپ کے و ا لد سے با ت کر نے پر انہو ں نے میر ی نہیں سنی تھی انہیں ا پنی ما ں پر کچھ ز یا دہ ہی بھر و سہ ہے شا ید جس و جہ سے ا نہو ں نے اس لڑ کے کی تحقیقا ت بھی کر نا منا سب نہیں سمجھا“ اب کی با ر حو ر ین اور ا نا بیہ د و نو ں کو دھچکا لگا تھاا یسا نہیں ہو سکتا تھا اس کے گھر و ا لے بنا کسی جا نچ کے کو ئی فیصلہ تھو ڑی نہ لیں گے۔
”ا نکل آ پ کو کو ئی غلط فہمی ہو ئی ہو گی ا بھی تک تو کسی نے حو ر ین کی ر ضا مند ی بھی نہیں لی اورہم سب کو
معلوم ہے دا دو حو ر ین سے ہم سب سے ز یا د ہ پیا ر کر تی ہیں وہ اس کے لیے کو ئی بھی غلط فیصلہ نہیں کر یں گی“ حو ر ین کے من کی با ت ا نا بیہ بو ل گئی تھی ا سے تو سمجھ نہیں آ ر ہی تھی عا بد ا نکل یہ سب ا سے کیو ں بتا ر ہے تھے۔
”بیٹا آ پکی د ا دو کو جتنا میں جا نتا ہو ں ا تنا کو ئی بھی نہیں جا نتا یقین کر یں جو ر نگ میں نے ان کے د یکھے ہیں وہ تو آ پکے و ا لد نے بھی نہیں د یکھے ہو نگے“ ا س با ر عا بد ا نکل کے لہجے میں ہلکی سی نفر ت تھی۔
”انکل آ پ اب غلط با ت کر رہے ہیں آ پکو معلو م ہے ا بھی تک دا دو نے یا کسی نے بھی نے ہا ں نہیں کی ہے“ انا بیہ تھو ڑے تیز لہجے میں بو لی تھی حو ر ین تھی تو خا مو ش مگر ا س کے چہر ے سے لگ ر ہا تھا کہ ا سے بھی ا نکل با تیں بر ی لگ ر ہی تھی۔
”جا نتا ہو ں کہ ا بھی ہا ں نہیں کی ہے اسی لیے حو ر ین بیٹا میں نے آ پکو بلا یا ہے میں خو د ا یک و کیل ہیں ا گر کل کو ا یسا کچھ ہو تو میں چاہتا ہو ں کہ آ پ ا پنے لیے کھڑ ی ہو“ وہ اس کی طر ف د یکھ ر ہے تھے ا نا بیہ کی باتو ں کا بر ا منا ئے بغیراور حو ر ین کو آ ج پتہ چلا تھا کہ د ا دی کو ان عا بد ا نکل سے ملنا جلنا کیو ں پسند نہیں تھاآج پہلی با ر ا سے ان کی یہ پا بند یا ں صیح لگ رہی تھی۔
”آ پ یہ سب ا س و جہ سے کہہ ر ہے کیو نکہ آ پ میر ی د ا دو سے نفر ت کر تے ہیں“ اب کی با ر حو ر ین بو لی تھی سخت لہجے میں ”میر ے خیا ل سے اب ہمیں چلنا چا ہیے“ وہ ا نا بیہ کا با زو پکڑ کر ا ٹھا تے ہو ئے بو لی وہ جس مقصد کے لیے آ ئی تھی وہ تو بھو ل ہی گئی تھی۔
”شا یدآپ صیح کہہ رہی ہو میں ان سے نفر ت کر تا ہو ں لیکن آ پکو یہ بھی پتہ ہو نا چا ہیے کہ ہر نفر ت کی کو ئی نہ کو ئی و جہ ہو تی ہے“ ا نہیں کھڑ ا ہو تا د یکھ کر وہ بو لے تھے۔
”چلو ا نا بیہ“ وہ اس کا ہا تھ پکڑ تے ہو ئے بو لی تھی عا بد ا نکل کی با تو ں کا جو ا ب د یے بغیر وہ د ر و ا ز ے کی طرف چل پڑی۔
”کہیں نہ کہیں آ پ بھی جا نتی ہیں کہ وہ غلط ہیں صا لحہ کے با ر ے میں جا ننا چا ہتی ہیں نہ“ انکل کی بات پر اس کے قد م ٹھٹھک گئے تھے ا سے کھڑ ی ہو تا د یکھ کر ا نا بیہ بھی کھڑ ی ہو گئی۔
”وہ اس گھر کی بیٹی تھی بہو تھی پر اس سب کے بعد اس کی ا س گھر میں کیا حثیت تھی وہ تو پتہ ہی ہے آپکونو کر ا نیو ں سے ز یا دہ تو نہ تھی ملا ز مو ں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ اس گھر کی فر د تھی وہ بھی وہ ہی مقا م ر کھتی تھی جو آپ کا ہے اور آ پکو لگتا ہے آپ کی د ادو بے قصو ر ہے“ وہ اب بھی صو فے پر بیٹھے تھے اور لہجے میں سنجیدگی تھی جبکہ حو ر ین ا ور ا نا بیہ و ہیں کھڑ ی تھی۔
”ہا ں ہو سکتا ہے وہ شا مل ہو ں اس کی ذ مہ د ار بھی ہو ں پر صا لحہ ان کے شو ہر کی پہلی بیو ی کی ا و لا د تھی اور کو ئی بھی عو رت ا تنی عظیم نہیں ہو تی کہ سو تن کی ا و لا د کو سینے سے لگا کر ر کھے“ حو ر ین ا ن کی آ نکھو ں میں آ نکھیں ڈ ا ل کر بو لی تھی اس کی آ نکھو ں میں ہلکی سی نمی تھی۔
”ہا ں ٹھیک کہا آ پ نے سو تن کی ا و لا د کو کو ن سینے سے لگا تا ہے پر اسے بہوبنا یا جا سکتا ہے اس سے وہ سب سلو ک کیا جا سکتا تھایہا ں تک کے اس کو غا ئب کر و ا یا جا سکتا ہے وہ بھی پھر ٹھیک ہی ہو گا“ ان کے لہجے میں نفر ت اب کھل کر آ ئی تھی اور چہر ے پر بھی و ا ضع تھا۔
”تو آ پ کو لگتا ہے اس کے سا تھ جو بھی کچھ ہو ا وہ میر ی د ا دو نے کیا ہے اور وہ یہ کیسے کر ے گی ا یک پو رے ا نسا ن کو صفہ ہستی سے ہٹا د یا“ وہ طنز یہ ہنسی تھی۔
”تو آ پکو لگتا کہ وہ سب ا تفا ق تھا صا لحہ کا را تو ں ر ات غا ئب ہو نا اس کے جا ننے و ا لے ہر ملا ز م کو نکا ل د یا جا نا ا یک ایک کر کے اور تو اور سب سے بڑ ھ کر اس پر وہ ا لز ا م لگا نا“ وہ سا نس لینے کے لیے ر کے تھے ”جو بھی ا نسا ن ا سکو تھو ڑا سا بھی جا نتا تھاوہ بھی بتا سکتا تھا کہ وہ ا یسا کر ہی نہیں سکتی تھی جو ا نسا ن ہر چھو ٹی چیز کے لیے د و سر و ں کا محتا ج ہو وہ گھر بھا گ جا نے جیسا قد م ا ٹھا تا اوروہ ا لز ا م لگا نے و ا لی اور کو ئی نہیں آ پکی پیا ری د ا دی تھی“حو رین اور ا نا بیہ دو نو ں خامو ش ہو گئی انکے لہجے میں سچا ئی تھی جو وہ جھٹلا نہیں سکتی تھی
”حو ر ین بیٹا میں جا نتا ہو ں کہ مشکل ہے پرکیا ا تنا مشکل ہے سچ ما ننا کہ آ پ ا پنی ا یما ند ا ری ا ور ضمیر کا قتل کر دے آ پ خو د و کیل بننے و ا لی ہیں آ پ تو جا نتی ہیں کہ ا نصا ف اور سچا ئی کا ر ستہ مشکل ہو تا ہے“ وہ اب کی با ر نر می سے بو لے تھے حو ر ین کچھ نہیں بو ل پا ئی تھی اور چپ چا پ ا نا بیہ کے سا تھ گھر آ گئی تھی و ا پسی پر ا س نے ز ین کو گا ڑی سے نکلتے د یکھا تھا وہ بھی شا ید ا نہیں د یکھ چکا تھا پر بنا کچھ کہے ا ند ر چلا گیا۔
....................
جا ری ہے