Guman e Zanjeer
Episode # 6
وہ کھانا بنانے کے بعد کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ اس کی امی کی کال آ گئی۔ سلام دعا کے بعد ماں سیدھے مدے کی بات پر آئی۔
"میں نے تمہیں دوپہر کو کال بھی کی تھی، تم نے فون نہیں اٹھایا۔" حفصہ بیگم نے شکوہ کیا۔
"امی! میں اس وقت جلال کے کپڑے پریس کر رہی تھی۔" اس نے ساتھ ہی ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر بٹن آن کر دیا۔
"تو کیا شوہر کے آگے ماں کو اگنور کرتے ہیں؟" دوسری طرف سے شکوے والی آواز ابھری۔
"امی! بالکل بھی نہیں۔ آپ نے خیریت سے کال کی تھی؟" اس نے بات کا رخ بدلنا چاہا۔ اگر جواب دیتی تو ماں کے مزید باتیں (طعنے سننا پڑتی۔
"ہاں، وہ فون میں نے اس لیے کیا تھا کہ میں چاہتی ہوں جلد از جلد سراج اور نور کی شادی طے ہو جائے۔ تمہارے سسرال والوں کا کیا خیال ہے؟"
"امی! ارے امی!" وہ ایک دم سے ریموٹ سے ٹی وی بند کرتی چونک کر سیدھی بیٹھ گئی۔
"ہائے ہائے! کیا ہوا؟ تمہارے اس 'ارے' نے میرا دل ڈرا دیا۔" اس کی ماں کی گھبرائی ہوئی آواز آئی۔
"دل تو اب ڈرے گا... مجھے شادی کی بات سے یاد آیا، اسے بھول جائیں، ابھی صرف نکاح ہوگا۔ جلال مجھ سے کہہ رہے تھے کہ نور سرگودھا یونیورسٹی پڑھنے جا رہی ہے اور آپ کے بیٹے نے اسے اجازت بھی دے دی ہے!"
"کیا... کیا؟ یہ کب ہوا؟ اچھا، رکو ذرا، سراج آ گیا ہے۔ کل میں خود چکر لگاتی ہوں، تب مجھے تفصیل سے بتانا۔"
وہ یہ کہتی ہوئی فون کٹ کر گئی، اور مصباح بدمزگی کے ساتھ فون کی سکرین کو دیکھتی رہ گئی۔
---------
سراج اندر آیا تو ماں کو کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے پایا۔ وہ چپ چاپ پاس ہی کرسی پر بیٹھ گیا۔
جب انھوں نے فون بند کیا تو اس نے پوچھا:
"آپ کس سے بات کر رہی تھیں؟"
"میں تمہاری بہن سے۔ اچھا، ذرا یہ تو بتاؤ! جلال نے تم سے نور کے ایڈمیشن کے حوالے سے کوئی بات کی تھی؟"
ماں کی تیز نظریں اسی پر مرکوز تھیں۔ ان کا یہ سوال سن کر سراج اندر سے گھبرا گیا۔
اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ نور پڑھنے کے لیے چلی جائے گی اور پیچھے سے اس رشتے سے جان چھوٹ جائے گی، لیکن اب ماں کے اس اچانک سوال نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔
"ارے! تم تو رشتہ ختم کرنے کا کہہ رہے تھے، اور یہاں اجازتیں دیتے پھر رہے ہو؟"
"والدہ! اب میں جلال کے منہ پر تو نہیں کہہ سکتا کہ مجھے رشتہ منظور نہیں۔ اس لیے جو ٹھیک لگا، کہہ دیا۔"
وہ یہ کہتے ہوئے بے جان سا ہو کر کرسی سے ٹیک لگا گیا۔
"لڑکے! مجھے تمہارے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے۔ کل ذرا جلدی آنا، تمہارے سسرال کا چکر لگا آتے ہیں۔"
پھر اٹھتے ہوئے بولیں: "چلو، جاؤ! منہ دھوؤ اور کھانا کھا لو۔"
مگر سراج علی کو تو بس "سسرال" کا لفظ سن کر ہی چکر آ گیا تھا۔
---------
"اوئے، چھپلی! اُدھر کہاں جا رہی ہو؟ جاؤ، میرے لیے پانی لے آؤ۔"وہ جو کچن کا کام سمیٹ کر کمرے کی طرف جا رہی تھی، ادریس کی آواز پر وہیں رک گئی۔ پلٹ کر اسے دیکھا تو ماتھے پر ناگواری کی شکنیں نمودار ہو گئیں۔
"ماما جانی! دیکھیں نا، یہ کیا کہہ رہے ہیں؟" اس نے فوراً شکایتی انداز میں سمیعہ بیگم سے کہا جو کہ کمرے میں تھیں ۔
زینب کی شکایت پر سمیعہ بیگم کمرے سے باہر نکل آئیں
"بیٹا، بہنوں کو ایسے ناموں سے نہیں بلاتے۔"وہ اسے گھورتے ہوئے بولیں ۔
بہن والی بات پر زینب نے دل ہی دل میں "استغفر اللّٰہ" پڑھا۔
اول تو یہ میری بہن نہیں، اور دوسرا، امی! میں نے اسے پانی لانے کا کہا تھا اور یہ کام چور کمرے کی طرف بھاگ رہی تھی۔
"میرا مطلب تھا، بہنوں والی عزت دیا کرو۔" سمیعہ بیگم نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے وضاحت کی۔
اب یہ بہنوں والی عزت کون سی ہوتی ہے؟وہ دل ہی دل میں سوچ کر رہ گیا۔ آخر اس کی تو کوئی بہن تھی ہی نہیں۔
"ماما جانی، سچ میں تو کمرے میں جا رہی تھی۔ بعد میں انہوں نے پانی لانے کا کہا۔"زینب نے معصوم سی شکل بنا کر اپنی صفائی پیش کی۔
"دیکھو تو میری معصوم بچی کو! کہاں سے کام چور لگتی ہے؟"سمیعہ بیگم نے فوراً اس کی طرف داری کی۔
"ہو گیا، ڈرامہ شروع!"زینب کی سائیڈ لینے پر وہ اندر ہی اندر سلگ اٹھا۔
"ہاں، ہاں! یہ معصوم اور میں بدمعاش؟"اس کی بات سنتے ہی دونوں کی ہنسی گونج اٹھی۔
---------
ادریس کے گھر سے دو گھر چھوڑ کر ہی رضا کا گھر تھا۔
وہ صبح ناشتے کی میز پر اس کا انتظار کر رہے تھے، لیکن ایک وہ تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
"پاپا، آپ نے ابھی ناشتہ کیوں نہیں شروع کیا؟"
بالآخر انتظار ختم ہوا اور جناب تشریف لے آئے۔
"برخوردار، تمہارا انتظار کر رہا تھا۔"انہوں نے بیزار نظروں سے اس کے حلیے کا جائزہ لیا۔ موصوف نے سلیپنگ سوٹ ہی پہن رکھا تھا۔ انہیں تو لگا تھا کہ جتنی دیر لگا کر آیا ہے، کم از کم تیار ہو کر تو آئے گا۔
"اتنی دیر سے کیا کر رہے تھے؟"
"واش روم میں تھا۔"وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
"واش روم میں کیا کر رہے تھے؟"
"وہی... جو آپ کرتے ہیں۔"اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا تو وہ اس کے جواب پر ذرا گڑبڑا گئے۔
"یونیورسٹی سے دیر ہو رہی ہے۔ چلو، چپ کر کے ناشتہ کرو۔"انہوں نے سختی سے کہا اور اسے مزید بحث کا موقع نہ دیا۔
----------
کوئی گھر کی بیل بجائے جا رہا تھا۔
"ارے، صبر کرو! آتی ہوں۔"
جیسے ہی دروازہ کھولا، اس کے ہوش اُڑ گئے۔
گلے میں لٹکا دوپٹہ، بکھرے ہوئے بال۔
سامنے حفصہ بیگم اور ہونے والے سرتاج کو کھڑا دیکھ کر اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ نور کو اپنے حلیے پر شرمندگی محسوس ہوئی۔ ہونے والی ساس اور شوہر سے ایسی حالت میں ملاقات ہو، یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
"آئیں، اندر۔" وہ جلدی سے دوپٹہ سر پر لیتے ہوئے بولی۔
آخر کو ہونے والی ساس تھی، اور آج کل کی ساسوں کو بھی سر پر دوپٹہ رکھنے والی بہو ہی پسند ہوتی ہے۔
انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر وہ امی اور بھابھی کو بلانے چلی گئی۔
"دیکھو تو سہی، اس حلیے میں یہ گیٹ پر گئی ہے۔ اگر کوئی اور ہوتا تو بات دور تک چلی گئی ہوتی۔"
"چھوڑیں والدہ، ابھی بچی ہے۔" وہ اپنی رو میں بول گیا۔
"کیا بچی؟ " سوالیہ انداز تھا
"حلیے سے تو بچی ہی لگ رہی تھی"
"بچی نہ کہو لڑکی کہو ، تمھاری بیوی بننے والی ہے۔"انھوں نے اسے یاد کروایا کہ وہ اس کی ہونے والی بیوی ہے کہی وہ بھول نہ گیا ہو۔
----------
ثانیہ بیگم کے ساتھ مصباح بھی ڈرائنگ روم میں چلی آئی، البتہ نور تیار ہونے چلی گئی تھی۔آخر کو ہونے والی ساس کو اس کا حلیہ پسند جو نہیں آیا تھا۔ اوپر سے ثانیہ بیگم نے بھی اسے ڈانٹ دیا تھا۔
البتہ جلال ابھی ہسپتال ہی میں تھا۔
دعا سلام کے بعد حفصہ بیگم نے وہ بات کہہ ڈالی جس پر چائے پیتے سراج کے ہاتھ سے کپ ڈگمگا گیا اور گرم چائے اس کے کپڑوں پر گر گئی۔
ثانیہ بیگم بھی ساکت تھی۔
"ارے سراج! دھیان سے۔"ثانیہ بیگم نے فوراً اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
"جا، مصباح! اس کو واش کروا دے۔"حفصہ بیگم کی بات پر مصباح اٹھ کھڑی ہوئی۔
"میں خود چلا جاؤں گا، مصباح۔ تم بیٹھو۔"سراج نے فوراً بات سنبھالتے ہوئے کہا۔اسے خود پر غصہ آرہا تھا آخر کو کپ کو مضبوطی سے کیوں نہ پکڑا ہوا تھا۔
"جی تو بہن، میں کہہ رہی تھی کہ نور کی شادی کراؤ، یا پھر یہ رشتہ ختم سمجھو۔"حفصہ بیگم نے بڑی صاف گوئی سے اپنی بات کہہ دی۔
ثانیہ بیگم تو حیران بیٹھی تھیں۔ کیا اتنی آسانی سے بھی رشتے ختم ہوتے ہیں؟
----------
مصباح کی آنکھوں کے سامنے تھوڑی دیر پہلے کا منظر لہرایا۔اسے پتا تھا کہ آج اس کی امی نے آنا ہے، لیکن وہ کھل کر گھر میں ان سے بات نہیں کر سکتی تھی۔ آخرکار اس کی ساسو ماں بھی وہاں موجود تھیں، اس لیے اس نے فوراً اپنی ماں کو کال ملا لی۔
" ارے بے صبری! ابھی کال کیوں کی؟ میں نے تو تیرے گھر ہی آنا تھا۔"
"امی، آپ یہ چھوڑیں۔ میں آپ کو ادھر کھل کر بات نہیں بتا سکتی۔"
"وہ، میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ نور ، وہ اب سرگودھا یونیورسٹی جا رہی ہے۔"
"تو یہاں میرے کانوں میں یہ بات بھی پڑی ہے کہ فی الحال وہ نکاح بھی نہیں کرنا چاہتی، تو پھر آگے... آپ کی جو مرضی ہے، آپ تو سیدھا شادی کرا رہی تھیں۔"
"تم رکو ذرا، آج تمہارے گھر آ کر ایسا کھیل کھیلوں گی نا کہ سارے دنگ رہ جائیں گے۔"
"اور نکاح کے بجائے نور کی رخصتی ہوگی۔ تم ٹھہرو ذرا۔"وہ یہ کہہ کر کال کاٹ گئی۔
اور مصباح اب جب حال میں واپس آئی تھی تو اپنی ماں کی باتوں پر سچ مچ اس کے ہوش اُڑے ہوئے تھے۔
اسے اپنے اور جلال کے رشتے کی فکر ہونے لگی۔وہ تو شکر ہے جلال ابھی ادھر موجود نہیں تھا ۔
ان کے باتوں سے ایسے لگ رہا تھا جیسے آج ہی رخصتی کروا کر جائے گی۔
--------
