Guman e Zanjeer episode # 1 - Urdu Novel

Guman e Zanjeer

Episode # 1

"تمہیں پتہ ہے، وہ لڑکی پردہ کرتی تھی۔ میں اسے روز دور سے دیکھا کرتا تھا، مگر مجھ میں کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ اس سے بات کر سکوں۔ وہ لڑکی… یوں سمجھو حیا کا پیکر تھی۔ میرے دل میں اس کے لیے عزت پیدا ہونے لگی۔ یونیورسٹی میں جب وہ گزرتی تھی تو کئی لڑکوں کی نظریں جھک جایا کرتی تھیں۔"
وہ ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا رہا تھا۔
"پھر کیا ہوا؟" اسکارف اوڑھے لڑکی نے دل پر پتھر رکھ کر پوچھا۔
"مجھے لگتا تھا جیسے وہ صرف میرے لیے ہی بنی ہو۔ آہستہ آہستہ میرے دل میں اس کے لیے جذبات پیدا ہونے لگے۔" وہ کچھ دیر رکا، پھر دوبارہ بولنے لگا، "لیکن ایک دن مجھے پتا چلا کہ وہ شادی شدہ ہے… بلکہ اس کا ایک بچہ بھی ہے۔ یہ بات مجھے اس کی کلاس کی ایک لڑکی نے بتائی تھی۔"
اس کی آواز میں اذیت صاف جھلک رہی تھی۔
"کیا؟" اسکارف اوڑھے لڑکی کو جیسے جھٹکا لگا۔
"تمہیں کیسے پتا چلا کہ وہ واقعی شادی شدہ ہے؟ کیا تم نے اس بات کی تصدیق کی تھی؟" اس نے بے چینی سے پوچھا۔
"تصدیق کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے خود اسے ایک مرد اور بچے کے ساتھ دیکھا تھا!" اس نے قدرے احتجاجی انداز میں کہا۔
یہ سن کر لڑکی چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتی رہ گئی۔
"واہ… یہ محبت تھی؟ تم نے اسے کسی مرد اور بچے کے ساتھ دیکھا اور فوراً مان لیا کہ وہ شادی شدہ ہے؟ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ وہ اس کا کوئی محرم رشتہ ہو—بھائی، ماموں یا چچا۔"
وہ صدمے اور مایوسی کے ملے جلے احساس سے بولی۔
"تم نے لوگوں کی باتیں سن لیں، مگر ایک بار بھی سچ جاننے کی کوشش نہیں کی…"
اس کی باتوں پر وہ لڑکا جیسے گنگ رہ گیا۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ واقعی اس نے کبھی تصدیق کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ دل میں پچھتاوے کی ایک لہر اٹھی—کاش وقت واپس آ سکتا، اور وہ سچ جان لیتا… کم از کم آج وہ اس بے یقینی میں تو نہ ہوتا۔
"لیکن تم اس لڑکی کی اتنی طرف داری کیوں کر رہی ہو… جیسے تم اسے جانتی ہو؟"
اس نے چونک کر پوچھا اور غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
اس سوال پر لڑکی کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا۔
اب وہ اسے کیا بتاتی… کہ جس لڑکی کی کہانی وہ سنا رہا تھا، وہ اسے اچھے سے جانتی تھی۔
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ اچانک اٹھی اور بغیر کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گئی۔
پیچھے بیڈ پر بیٹھا لڑکا اس کے یوں اچانک جانے پر چونک گیا اور وہ حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔
--------------
"امی! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔" وہ کپڑوں کو تہہ لگانے میں مصروف تھیں جب ان کی بیٹی کی آواز نے انھیں سر اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
بیٹی کے چہرے کے تاثرات سے صاف واضح تھا کہ وہ کچھ خاص کہنا چاہتی ہے۔ انھوں نے گود میں رکھے کپڑے بیڈ پر پھیلائے، جلدی سے اٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آئیں۔ وہ تو بس اپنی ماں کی یہ پھرتی دیکھ رہی تھی۔
'یقیناً ان کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ کیا بات ہے، آخر کو ماں ہیں! خیر مجھے کیا...' اس نے دل میں سوچا۔
"کتنی دفعہ کہا ہے کہ جب بھی کوئی ضروری بات کرنی ہو تو احتیاط کیا کرو۔ تمھاری بھابھی کے کان بڑے کچے ہیں، یہ نہ ہو وہ اپنے لائق فائق بھائی کا رشتہ ہی توڑ دیں۔" وہ الماری کا پٹ کھول کر کپڑے سلیقے سے رکھنے لگیں تاکہ خود کو مصروف ظاہر کر سکیں۔
"امی! پتہ نہیں آپ بھابھی سے کیوں اتنا ڈرتی ہیں؟ اتنی اچھی تو ہیں وہ۔ اور وہ ان کا لائق فائق بھائی... توبہ ہے! مجھے تو کوئی شوق نہیں ہے اس سے شادی کرنے کا۔ وہ تو میں نے ایک اچھی بیٹی کا ثبوت دیتے ہوئے اس رشتے کے لیے ہاں کہہ دی، ورنہ لڑکوں کی کمی نہیں ہے مجھے۔" وہ یہ کہتی ہوئی دھپ سے بستر پر بیٹھ گئی۔
"توبہ لڑکی! کچھ شرم کرو، اپنے باپ کا ہی خیال کر لو جو ہسپتال میں بسترِ علالت پر پڑے ہیں۔ جلال ابھی تھوڑی دیر پہلے ہسپتال سے لوٹا ہے، شام کو پھر تم اپنے بھائی کے ساتھ چلی جانا۔ پتہ نہیں وہ کب کوما سے باہر آتے ہیں۔" انھوں نے اسے گھورا۔
"اپنے بیمار والد کا ہی خیال ہے مجھے، ورنہ 'نورِ زہرہ' کے منہ سے اتنی آسانی سے ہاں نکل جائے، یہ ممکن ہی نہیں۔" اس نے باقاعدہ ہاتھ نچائے۔ البتہ، باپ کے ذکر پر اس کے دل میں ایک کسک سی اٹھی۔
اس کی ماں کے چہرے پر بھی یاسیت پھیل گئی۔
"اچھا، اب اپنی ضروری بات کرو اور جا کر نماز پڑھو، وقت گزرا جا رہا ہے۔" انھوں نے دو بجاتی گھڑی پر نظر ماری۔
"جی جی بالکل، ضروری بات وہی ہے جو میں کئی دنوں سے آپ سے کر رہی ہوں کہ میں نے سرگودھا یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا ہے۔ اگر میرا ایڈمیشن نہ ہوا، تو پھر جو میں نے رشتے کے لیے ہاں کہی ہے، وہ 'نہ' میں بھی بدل سکتی ہے۔" اس نے سامنے دیوار پر آویزاں اپنے باپ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے حتمی لہجے میں کہا۔
اس کی ماں نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔ کتنی ضدی ہو گئی تھی وہ...
"کیوں اپنی بہن کی طرح خود کو اور ہمیں ذلیل کروانا چاہتی ہو؟ ایک دفعہ کہہ دیا کہ ایڈمیشن لینا ہے تو ادھر لاہور کی ہی کسی یونیورسٹی میں لو، پتہ نہیں سرگودھا میں ہی کیوں داخلہ لینا چاہتی ہو؟" اس کی ماں یہ کہتی ہوئی وضو کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئیں، لیکن ان کے بہتے آنسو نور کی نگاہوں سے چھپ نہ سکے تھے۔
-------------
وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو جلال بھائی لاؤنج میں بیٹھے دکھائی دیے۔ وہ کافی تھکے تھکے سے لگ رہے تھے، شاید اب ان کی مصروفیات اتنی بڑھ چکی تھیں کہ آرام کے لیے وقت کم ہی ملتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں مصباح بھی وہاں تشریف لے آئی، وہ ان کے لیے چائے لائی تھی۔
اس لمحے نور کو کسی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ بھابھی کے اشارے پر وہ بھی ادھر ہی چلی آئی۔ اس نے سوچا چلو اسی بہانے بھائی سے بھی بات ہو جائے گی۔
"ارے آؤ، بیٹھو نور! کبھی ہمیں بھی وقت دے لیا کرو،" بھابھی نے محبت سے اپنا چائے کا کپ اسے تھماتے ہوئے کہا۔ سراج کی نسبت سے مصباح کو نور اب اور بھی عزیز ہو گئی تھی۔
"بھائی! پھر آپ کا کیا فیصلہ ہے؟" اس نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے پوچھا۔
"کون سا فیصلہ؟" مصباح سیدھی ہو کر بیٹھی۔
"میں نے اس پر بہت سوچا ہے نور۔۔۔ امی ابھی راضی نہیں ہیں، لیکن وہ مان جائیں گی۔ مجھے بس یہ ڈر ہے کہ کہیں میرا انکار تمہیں کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کر دے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے کیا تھا۔ اس لیے میں نے سراج علی سے بات کی تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تم اپلائی کر دو، اگر نام آ گیا تو سرگودھا یونیورسٹی میں تمہارا ایڈمیشن کروا دیں گے۔"
جلال بھائی کی بات جہاں نورِ زہرہ کے لیے اطمینان کا باعث بنی، وہیں بھابھی کے سر پر جیسے دھماکہ ہوا تھا۔
"سرگودھا یونیورسٹی۔۔۔؟ جلال، ادھر لاہور میں بھی تو اتنی یونیورسٹیاں ہیں، یہیں کا سوچ لیں۔" بھابھی نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
"اس کی دوست نے بھی ادھر ہی ایڈمیشن لینا ہے، اسی لیے۔" بھائی نے نور کی بتائی ہوئی وجہ اس کے گوش گزار کی۔
"اوہ، چلو اچھی بات ہے۔ ابھی تم گھر میں ہوتی ہو تو رونق لگی رہتی ہے، اب تمہارے جانے کے بعد میں اس گھر میں اکیلی کیا کروں گی؟" اس نے ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بس اتنا ہی کہا۔
"بھابھی! آپ اکیلی کہاں ہوں گی؟ امی ہوں گی، بھائی ہوں گے اور پھر میں نے کون سا ہمیشہ کے لیے چلے جانا ہے، واپس تو یہیں آنا ہے نا،" اس نے کھڑے ہوتے ہوئے محبت سے کہا، اور مصباح بس خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی۔
-----------------
"ارے! تم یوں گم صُم کیوں بیٹھی ہو؟" نور کے جانے کے بعد وہ گہری سوچوں میں گم تھی تو جلال خود کو پوچھنے سے روک نہ پایا۔
"بس مجھے دکھ ہو رہا ہے جلال۔۔۔" اس نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
"کس بات کا دکھ، مصباح؟" وہ اس کے دھیمے لہجے پر چونکا۔
"نور میری بھی تو کچھ لگتی ہے نا۔ آپ نے مجھ سے تو کوئی مشورہ ہی نہیں کیا۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی پرائی ہوں!" یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"مصباح! ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ بس میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا، میں جانتا ہوں تم کتنی حساس ہو۔" وہ محبت سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
"جلال! معاملہ چاہے جیسا بھی ہو، آپ کو مجھے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ سراج تو بہت بھولا ہے، پہلے بھی اس کا دل ٹوٹا تھا۔ اس وقت تو میں نے اس کی اذیت کی پرواہ کیے بغیر، اذیت دینے والی کے بھائی کو چنا تھا۔۔۔ لیکن اس دفعہ جلال! اگر وہ ٹوٹا نہ، تو آپ بھی بھول جائیے گا کہ مصباح اس بار بھی اپنے بھائی کی تکلیف پر آپ کو ترجیح دے گی!"
یہ کہہ کر اس نے اپنا سر اس کے کندھے پر ٹکا دیا۔ کوئی بتاتا اسے کہ اس کے ان تیکھے مگر سچے الفاظ نے جلال کو کس حد تک تکلیف پہنچائی ہے۔
جلال نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا، "مصباح! اس دفعہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ تمہارے بھائی کا دل نہیں ٹوٹے گا کیونکہ میں سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ نور کا نکاح سراج سے ہی پڑھوا دیا جائے۔ ابھی یہ صرف میری سوچ ہے، حتمی فیصلہ تو سب کی آمادگی سے ہی ہو گا، اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ آگے تمہیں ہر معاملے سے لازمی آگاہ کروں گا۔" یہ کہتے ہوئے جلال نے محبت سے اس کے آنسو پونچھے۔
"سچی؟" مصباح کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
"ہاں! ابھی یہی سوچ رہا ہوں۔ تم بھی اپنے والدین سے رائے لو، میں بھی امی سے بات کرتا ہوں۔"
"ہماری طرف سے تو آپ ہاں ہی سمجھیں۔ ابھی کل ہی امی اشاروں اشاروں میں مجھے کہہ رہی تھیں، تو میں نے بھی کہہ دیا کہ اصل فیصلہ تو جلال اور ساسو ماں ہی کریں گے۔" وہ تو گویا پہلے ہی تیار بیٹھی تھی۔
"اچھا چلو! اب تم جلدی سے میرے کپڑے استری کر دو، میں تب تک امی سے بات کر لیتا ہوں۔"
وہ بخوشی اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
--------------

جا ری ہے


Guman e Zanjeer episode # 1







Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.