aik thi salah episode # 16 - Sad Urdu Novel

 

aik thi salah

Episode # 16

”عا بد میں نے تمہیں ا پنے بچو ں کی طر ح سمجھا ہمیشہ کبھی سو چا ہی نہیں کے تم اس گھر میں غیر ہو اور اس کا یہ صلہ دیا تم نے مجھے“ ا بر اہیم چلا یا تھا فو ا د کی سا لگر ہ پر آ ئے سب مہما نو ں سا جد ہ کی طبیعت خر ا بی کا بہا نہ کر کے معذ رت کر لی تھی اور اب سا ر ے لا ؤ نج میں بیٹھے تھے سو ائے تین ا فر اد کے فو ا د ا پنی سا لگر ہ کینسل ہو نے پرمنہ بنا کر ا پنے کمر ے میں جا کر سو چکا تھاو یسا بھی وہ بچہ تھا اس کا اس سا ر ے معا ملے سے کو ئی لینا دینا نہیں تھا اور صا لحہ ہمیشہ کی طر ح ا پنے سٹو ر میں چپھی ہو ئی تھی جائیدادنا م کر و انے کے بعد سے اب تک وہ سا جد ہ بیگم کے جلا ل سے محفو ظ تھی اور آ خر ی فر د تھی نا یا ب جو کہ آ ج کے و ا قعے سے ا تنی ڈر گئی تھی کہ صا لحہ کی طر ح اپنے کمر ے میں چھپی بیٹھی تھی وہ تو ا تنی ڈر پو ک تھی کہ ا گر لا ئیٹ بھی چلی جا تی تو ڈر جا تی تھی اور آ ج تو جو ہوا تھا اسے تو وہ کسی بھی حا ل ا تنی جلد ی نا ر مل ہو بھی نہیں سکتی تھی۔

ابر ا ہیم صو فے کے سا منے کر سی پر بیٹھا تھا ا س کے سا منے عا بد تھا جس کا چہر ہ سو جھا ہو ا تھا اور جگہ جگہ چو ٹ کے نشا ن تھے جو کہ کچھ ا مجد سے ہا تھا پا ئی میں لگے تھے اور با قی کسر حما د نے پو ری کو دی تھی اس کیساتھ مدیحہ بیٹھی تھی جو کہ مسلسل ر ور ہی تھی جا نتی تھی انکا بیٹا کبھی ا یسا کر ہی نہیں سکتایہ شکر تھا اس کے شو ہر اور بیٹی نہیں آ ئے تھے کسی کا م کی و جہ سے نہیں تو یہا ں اور ہی ہنگا مہ ہو نا تھا ا بر ا ہیم کے ایک طر ف حما د تھا جس کا غصہ اب بھی و یسے ہی قا ئم تھا اگر ا بر ا ہیم نہ ر وکتا تو شا ید وہ ا سے آ ج جا ن سے ہی ما ر ڈا لتااور دوسری طر ف سا جد ہ جس کی حا لت بھی حما د جیسی تھی ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دو نو ں ما ں بیٹا کو غائب ہی کر دیتی۔
  Read More: Episode 1 Link
”ما مو ں میر ا یقین کر ے میں نے ا یسا کچھ نہیں کیا آ پ کہیں تو میں کو ئی بھی قسم ا ٹھا نے کے لیے تیا ر ہوں“وہ در د سے بمشکل بو ل ر ہا تھا ”ا می آ پ سمجھا ئے ما مو ں کو“ وہ ان کے چہر ے پر وہ ہی تا ثر ات دیکھ کر ا پنی ما ں سے بو لا تھا۔

”اوہ تو تم کہنا چا ہ ر ہے ہو کہ میر ی بہن پا گل ہے جو خو د پر ا لز ا م لگا ئے گی“ ا بر ا ہیم سے پہلے حما د بو لا تھا۔

”میں نے ا یسا تو“ ا بھی عا بد ا تنا ہی بو لا تھا کہ اس سے پہلے ہی حما د بو ل ا ٹھا تھا۔

”بکو ا س بند کر و ا پنی مجھے تم سے کو ئی صفا ئی نہیں چا ہیے د فعہ ہو جا ؤ اس گھر سے اور د و با رہ کبھی قد م مت رکھنا اد ھر“ وہ کھڑ ا ہو تا چلا یا تھا۔

”ا بر ا ہیم تم تو بچپن سے جا نتے ہو عا بد کو تمہا ر ی گو د میں پلا بڑ ھا ہے تم اس کے با ر ے ا یسا سو چ بھی کیسے سکتے ہو ایک بار میر ے لیے ہی سہی اس کی پو ری با ت تو سن لو“ مد یحہ ا بر ا ہیم سے منت و ا لے لہجے میں بولی تھی۔

”ٹھیک بو لو جو بو لنا ہے پر جو بھی بو لو یہ تمہا را آ خر ی مو قعہ ہے اس کے بعد یہا ں نظر مت آ نا“ اس سے پہلے حما د کچھ بو لتا ابر ا ہیم نے اس کا ہا تھ پکڑ بیٹھا یا تھا اور ان سے بو لا تھا اور عا بد لفظ بہ لفظ سب کچھ بتا تا گیا۔

”یہ بھی صیح ہے جب خو د مجر م ثا بت ہو ر ہے ہو تو ا لز ا م میر ے معصو م بھتیجے پر ڈا ل د یا“ عا بد نے جیسے ہی ا مجد کا نا م لیا تھا سا جد ہ بیگم بھڑ ک ا ٹھی تھی۔

”تو تم کہہ ر ہے ہو کہ و ہا ں ا مجد تھا جسکو نہ نا یا ب نہ د یکھا نہ تمہا ر ی مما نی اور حما د نے د یکھے جو کہ اس و قت کمر ے کے با ہر تھے صر ف تم جو مجر م ہے اسکو د کھا ئی د یا“ ا بر ا ہیم طنز یہ بو لا تھا۔

”ما مو ں میر ی با ت کا یقین کر ے میں سچ کہہ ر ہا ہو ں نا یا ب کا پتہ نہیں پر حما د یا مما نی میں سے کسی نے تو ضر و ر د یکھا ہو گا آ پ پو چھے ان سے“وہ ان کے قد مو ں آ کر بیٹھ گیا تھا اور اس کے یہ کہنے پر سا جد ہ کو یا د آیا تھا کہ ا نہو ں نے ا یک سا یہ جا تا د یکھا تھا جو ان کے مخا لف سمیت میں بھا گا تھا جسے صر ف ا نہو ں نے

د یکھا تھا کیو نکہ حما د ا س و قت ان سے پیچھے تھا تو وہ تو نہ د یکھ سکا تھا۔

”کیا تم نے د یکھا تھا کسی کو و ہا ں“ ا بر ا ہیم عا بد کی آ نکھو ں میں دیکھ کر پگھل گئے تھے اس کی آ نکھو ں سے کہیں بھی نہیں لگ ر ہا تھا کہ وہ جھو ٹ بو ل ر ہا تھا تو انہو ں نے حما د سے پو چھا تھا جو کہ نفی میں سر ہلا گیا اور اب وہ سا جد ہ کی طرف د یکھا تھا۔

”آ پ اس کی با تو ں میں آ ر ہے ہیں اور ہم سے سو ا ل کر رہے ہیں اوہ سمجھ گیا نا یا ب آ پکی بچی تھو ڑی نہ ہے جو آ پکو اس کی تکلیف سمجھ آ تی“ سا جد ہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی حما د بو لا تھا اور یہا ں ا بر ا ہیم پھر سے پتھر ہو گیا تھو ڑی د یر پہلے و ا لی نر می غا ئب ہو گئی تھی اور عا بد کا ہا تھ جھٹکتا ہوا کھڑا ہوا تھا۔

”نکل جا ؤ میر ے گھر سے اور د و با ر ہ کبھی یہا ں نظر مت آ نا“ وہ عا بد سے نظر یں ہٹا کر اب کی با ر مد یحہ کی آنکھو ں میں د یکھ کر بو لے تھے جن میں اب آ نسو ں کے سا تھ اذ یت بھی تھی جو کہ بھا ئی کا ر و یہ د یکھ کر آ ئی تھی۔

”اور آ پی میں یہ جو لحا ظ کیا ہے یہ صر ف آ پ کی و جہ سے کیا ہے نہیں تو یہ آ ج جیل میں ہو تا ا پنی حر کت کی وجہ اور د و با ر ہ مجھے یہ یہا ں آ س پا س بھی نظر آ یا تو مجھ سے بر ا کو ئی نہیں ہو گا“ اس سے پہلے کہ مد یحہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی ا بر ا ہیم نے ہا تھ ا ٹھا کر کہہ د یا تھا اور عا بد ہمت کر کے ا پنی ما ں کو لے کر گھر آ گیا تھا مگر یہ طے کیا تھا کہ وہ ا پنی بے گنا ہی ضرور ثا بت کر ے گا۔

....................

جا و ید اور ثمر ہ کو جب یہ و ا قعہ پتہ چلا تو ا یک ا لگ ہنگا مہ کھڑا ہو تھا جا و ید توا پنی ا و لا د کے لیے کچھ بھی کر سکتے تھے انہیں ا پنی ذ ا ت سے ز یا دہ عا بد پر یقین تھا اور اسکا بھر پو ر سا تھ د یا تھا کہ وہ ا پنی بے گنا ہی جیسے بھی ثا بت کر نا چا ہے وہ پو را سا تھ دے گا اور پھر عا بد پا گلو ں کی طر ح لگ گیا تھا دن ر ات مگر اس معاملے میں ا حتیا ط ضر و ری تھی کیو نکہ نا یا ب کا نا م تو لیا جا نہیں سکتا تھا اس کی عزت پر حر ف آ تا ا بھی تک یہ بات

صرف ان چند لو گو ں کے د ر میا ن ہی تھی۔

سا جد ہ کو ا چھی طر ح سے یا د آ چکا تھا کہ ا نہو ں اس رات کسی اور کو د یکھاتو تھا پر ا ند ھیر ا ہو نے کی وجہ سے یہ نہیں پتہ کو ن تھا پر وہ ا نہو ں نے کسی کچھ نہ ہی بتا نا منا سب سمجھا تھا ان کی بیٹی محفو ظ تھی اور دو سرا وہ جو مدیحہ کو ر ا ستے سے ہٹا نا چا ہتی تھی جو کہ ان کے ر ا ستے کی و ا حد ر کا و ٹ تھی و ہ بنا کسی محنت کے ہٹ ر ہی تھی تو ا نکا چپ ر ہنا ہی صیح تھا ا گر عا بد بے گنا ہ ثا بت ہو جا تا تو شا ید ہی ز ند گی میں وہ ان ما ں بیٹا سے پیچھا چھڑ ا پاتی اور پھر نا یا ب کا رشتہ پکا تھا کہ وہ انکا ر نہیں کر پا تی تو ا نہو ں نے بھی جو ہو رہا تھا ا سے ہی غنیمت سمجھا تھا۔

عا بد کی دن ر ات کب محنت ر نگ لا ئی تھی اس دن آ ئے کچھ مہما نو ں کے کیمر ے سے لی تصا ویر کے بیک میں و ا ضع تو نہیں پر ا تنا ضر ور مل گیا تھا جو ا سے بے گنا ہ ثا بت کر سکتا تھا ان میں د یکھا جا سکتا تھا نا یا ب کے پیچھے جا تا ا مجدہا ں ا لبتہ ا مجد کا چہر ہ و ا ضع نہیں تھا مگر اس و قت عا بد کو سا جد ہ کا سچ بھی پتہ چلا تھا کہ ان کا صا لحہ کے سا تھ کیا ر و یہ تھا ا نہیں جس گھر سے تصا و یر ملی تھی اس ہی گلی میں انہیں سا جد ہ کے گھر کام کر نے و ا لا ا یک پرا نا ملا زم ملا تھا جس نے نہ صر ف ساجدہ کا ر و یہ دیکھا تھاصا لحہ کے سا تھ بلکہ اسے جا ئیدا د کے معا ملے کا پو را تو نہیں پر تھو ڑا بہت ضرور پتہ تھا عا بد نے اپنے ما ں با پ کو سب کچھ بتا یا تھامد یحہ کو تو جیسے ایک کے بعد ا یک د ھچکے لگ ر ہے تھے ا تنے سب ان صر ف یہ ہی سکو ن تھا کہ کم ا ز کم صا لحہ تو ٹھیک تھی پر اب عا بد کے منہ سے سن کر وہ تو کتنی ہی دیر تک صد مے میں ر ہی تھی ا نہو ں نے اس ا تو ا ر کو سا ر ے ثبو ت کے سا تھ ابر اہیم کی طر ف جا نے کا سو چا اور اس ملا ز م سے بھی و عد ہ لیا کہ وہ وہا ں آ کر ان کا سا تھ د ے گا۔

آ خر وہ د ن بھی آ گیا عا بد ا پنے ما ں با پ کے سا تھ ا بر ا ہیم کے گھر میں پہنچا اور ا یک با ر پھر سے وہ اسی لاؤنج میں بیٹھے تھے۔

”لگتا ہے میر ی د ھمکی کا تم پر کو ئی خا طر خو ا ہ ا ثر نہیں ہو ا اس لیے تم منہ ا ٹھا کر پھر سے آ گئے“ ا بر ا ہیم د ھیمی

آواز میں بو لے تھے انکا چہر ہ صا ف بتا رہا تھا ا گر ا س و قت ملاز م نہ ہو تے تو وہ کب کا انہیں یہا ں سے نکال چکا ہو تابلکہ ا ندر ہی نہ آ نے د یتا ا گر نا یا ب کی عز ت کا سو ا ل نہ ہو تا تو۔

”جا نتا ہو ں ما مو ں آ پ مجھے د یکھنا بھی نہیں چا ہتے لیکن مجھے بھی یہ حق حا صل ہے کہ میں ا پنی بے گنا ہی ثا بت کر و ں“ عا بد ان کی آ نکھو ں میں آ نکھو ں ڈا لتا ہو ا بو لا تھا۔

”کیا بے گنا ہی ثا بت کر و گے تم ا س با ر کس پر ا لز ا م لگا ؤ گے ا پنے کر تو ں کا“ سب ملا ز مو ں کو بھیج کر اور تسلی کر کے وہ لا ؤ نج میں د ا خل ہو تے ہو ئے بو لی تھی۔

”مجھے آ پکو کو ئی صفا ئی د ینے کی ضر و رت نہیں اور آپ کو ن ہو تی ہیں مجھے مجر م کہنے و ا لی جیسے آ پ تو جا نتی ہی نہیں آ پ کیا کر ر ہی ہیں“ سا جد ہ کا ر و یہ ا ور چہر ہ د یکھتے ہی عا بد کو اس ملا ز م ر فیق کی با تیں یا د آ ئی تھی انہیں نے صا لحہ کے سا تھ جو کچھ کیا تھا ا سی آ نکھو ں میں خو ن ا ترا تھا اور خو د پر قا بو نہیں ر کھ پا یا تھا۔

”د یکھ ر ہے ہیں ا بر ا ہیم یہ کیسے بات کر ر ہا مجھ سے“ وہ ا بر ا ہیم سے بو لی تھی اسکی با ت کا جو ا ب د یے بغیر۔

پھر ایک ہنگا مہ بر پا ہوا تھا ر فیق بھی آ گیا تھا تھو ڑی د یر میں اور عا بد کو د ھچکا تو تب لگا جب وہ صا ف مکر گیا اور ا لٹا کہا کہ عا بد نے اسے پیسے دیے تھے سا جدہ کو پھنسا نے کے لیے ا گر عا بد پہلے ا پنی بے گنا ہی ثا بت کر لیتا پھر صا لحہ کے لیے لڑ تا تو شا ید کا میا ب ہو جا تا لیکن اب تو کو ئی چا نس ہی تھا شو ر کی آ و ا ز سن کر نایاب بھی و ہا ں آ ئی تھی پر عا بد کو د یکھ کر و ہیں کھڑ ی ہو گئی عا بد کو ئی اور آ سر ا نہ پا کر اس کی طر ف بڑ ھا تھا۔

”نا یا ب یا د کر نے کی کو شش کر و اس را ت و ہا ں کو ئی اور بھی تھا“ اس نے ا پنا ہا تھ اسکی طر ف بڑ ھا یا تھا جسے آ گے بڑ ھ کر حما د نے پکڑ لیا تھا اور نا یا ب ڈر کر حما د کے بلکل پیچھے ہو گئی تھی۔

”لگتا ہے اس د ن و ا لی ما ر بھو لے نہیں تم جو آ ج پھر جر ات کر ر ہے ہو“حما د بو لا تھا اسکے پیچھے نا یا ب مکمل طور پر

چھپ چکی تھی۔

”اس د ن میں خو د حیر ت کا شکا ر نہ ہو تا تو میں د یکھتا تم مجھے ہا تھ بھی کیسے لگا سکتے ہو“ اب کی با ر عا بد بھی اسی

کے لہجے میں بو لا تھا اور اب کی با ر جا و ید بھی خو ب غصے میں د کھا ئی د ے رہے تھے۔

”آ پی اگر آ پ کو ئی خو ن خر ا بہ نہیں چا ہتی تو اپنے بیٹے اور شو ہر کو لے کر چلی جائیں یہا ں سے“ حما د عا بد کو پھر سے ما ر نے لگا تھا جب ا بر ا ہیم اس کا ہا تھ پکڑ کر مد یحہ سے بو لا تھا ”نہیں تو اس کے بعد جو ہو گا میں روکا گا نہیں اور آ ج میں آ پ کے لیے اور آ پ میر ے لیے ختم ہیں“ وہ بے حسی سے بو لے تھے جب کہ مد یحہ کو یقین نہیں آ ر ہا تھا یہ وہ ہی بھا ئی تھا جسے اس نے ہمیشہ ا پنی او لا د کی طر ح سمجھا تھا اور عا بد اور جا و ید کے آگے اپنے ہا تھ جو ڑ دیے جسے دیکھ دو نو ں با پ بیٹا چپ چا پ ا سکے سا تھ و ا پسی کے لیے لا ؤ نج سے نکل گئے جا تے جا تے عا بد نے ا یک نظر نا یا ب پر ڈا لی تھی جو اب بھی ڈری ہو ئی کھڑی تھی۔

”ا یسے کیسے جا نے د یا آ پ نے ا نکو میں منہ تو ڑ د یتا ا سکا“ حما د ا بر ا ہیم سے ہا تھ چڑا تا بو لا تھا اور اس سے پہلے ان کے پیچھے جا تا پر سا جد ہ نے اسے رو ک د یا تھا۔

”بس حما د ابر ا ہیم نے جو فیصلہ کیا بلکل صیح ہے“ وہ ا سکے کند ھے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی اور ا بر اہیم چپ چا پ کر سی پر ڈ ھے گیا تھا آ سا ن نہیں تھا آ نکھو ں میں مد یحہ کا چہر ہ گھو م ر ہا تھا جو کے اس کی با ت پر مز ید اذ یت کی گہر ا ئیو ں میں جا گر ی تھی ان د و نو ں نے نہ جا نے ز ند گی کے کتنے ہی مو ڑ اور د کھ ا یک د و سر ے کو سنبھالتے گز ا رے تھے ا یک دو سر ا کو حو صلہ د یتے ا یک د و سر ا کا و ا حد سہا ر ا بن کر۔

آ گے آ گے عا بد اور جا و ید تھا اور پیچھے مد یحہ گھر سے نکلتے و قت مد یحہ نے مڑ کر ا س گھر کی طر ف د یکھا تھا جو آ ج ان کو پہلی با ر ا پنا نہیں لگا تھا دو سر ی منز ل کی طر ف د یکھا تو و ہا ں سیڑ ھیو ں کی ا و ٹ میں کھڑ ی صا لحہ پر گئی جو کہ شا ید شو ر کی آ و ا ز سن کر آ ئی تھی پر ڈر تی کی نیچے آ نے کی ہمت نہیں ہو ئی تھی اسے اس طر ح د یکھ کر مد یحہ کے در د میں مز ید ا ضا فہ ہوا تھا د ل چا ہ ر ہا تھا آگے بڑ ھ کر ا سے سینے میں چپھا لیتی اور ا سے ان سب سے دو ر لے جا تی پرا یسا ممکن کہا ں تھا۔

مجھے معا ف کر نا میر ی بچی میں تمہا ر ی حفا ظت نہیں کر پا ئی تمہا ر ے لیے د عا کر و ں گی“ وہ آ نسو صا ف کرتی د ل میں اسے د عا ئیں د یتی و ہا ں سے نکل گئی د یکھا عا بد نے بھی تھا ا و ریہ آ خر ی با ر تھا جب ا نہو ں نے اسے  یکھا تھا۔

......................

عا بد سے ملنے کے بعد ر فیق سا جد ہ بیگم کے پا س گیا تھا اور ا سے سب کچھ بتا د یا اور وہ تصا و یر بھی د کھا دی جس کے بد لے میں اچھی خا صی ر قم و صو ل کی تھی ان تصا و یر میں کو ئی چہر ہ و ا ضع نہ تھا تو یہ تو پتہ نہیں چلا تھا وہ کو ن تھا پر یہ تو ا نہیں یہ پکا ہو گیا تھا کہ عا بد بے قصور تھایہ با ت عا بد کو پتہ کر ا نے میں کو ئی ز یا د ہ و قت نہیں لگا تھا اس کا اس شہر میں ا چھا خا صا نا م تھا ا س ملا زم پر پر یشر ڈا لنا سچ نکلوا نا کو ئی مشکل نہ تھا اور عا بد کا ا ر ا دہ اب ا مجد کو ا ٹھو ا کر اس سے بھی سچ نکلو ا نے کا تھااور پھر ان دو نو ں کو ابر ا ہیم کے سا منے لا نے کا ا رادہ ر کھتا تھاپر اس سے پہلے ہی مد یحہ نے اس کے آ گے ہا تھ جو ڑدیا تھا ا نہیں آ ج ہی سا جد ہ کا فو ن آیا تھااور و ا ضع د ھمکی د ی تھی کہ وہ عا بد کو ر و ک لے نہیں تو صا لحہ آ ج بھی انکے ہا تھوں میں ہے اور یہا ں وہ ہا ر گیا تھا ا سے آج ا ند ا زہ ہو ا تھا کہ اس نے ا پنی ما ں کی با ت نہ ما ن صا لحہ کو نہ ا پنا کر کتنی بڑ ی غلطی کی تھی اور یہ پچھتا وا سا ری ز ند گی رہنے وا لا تھا۔
.................

جا ری ہے

aik thi salah episode # 16 - Sad Urdu Novel


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.