aik thi salah
Episode # 17
سا جد ہ کو اس کے و کیل نے بتا یا تھا کہ عا بد انکی چھا ن بین کر تا پھر رہا ہے تو انہو ں نے کا ل کر کے مد یحہ کو و ا ضع ا ندا ز میں و ا ر ننگ دی تھی اور جا نتی تھی اب وہ کچھ نہیں کر ے گی پر مسلہ تب ہو ا جب اس و ا قعے کے دو ما ہ بعد ا یک حا د ثے میں مد یحہ کے شو ہر اور بیٹی جا ن سے چلے گئے مد یحہ کی د نیا ا جڑ گئی جو ا ن بیٹی اور شوہر کی مو ت نے اسے چار پا ئی سے لگا د یا تھا اور ابر ا ہیم کا د ل ان کے لیے پھر سے نر م ہو ر ہا تھا اگر حما د نہ کھڑا ہو تا تو کب کا وہ سب بھلا چکے ہو تے۔ اس و ا قعہ کے چند روز بعد ہی سا جدہ کے بھا ئی نے اپنے بیٹے ا مجد کے لیے نا یا ب کا ہا تھ ما نگا تھا اور اب سا جد ہ کو لگ رہا تھا ا نہو ں ہا ں کر د ینی چا ہیے اس سے پہلے ا بر ا ہیم بد لتا کیو نکہ وہ جا نتی تھی اب اگر عا بد یا مد یحہ آ ئے تو ابر ا ہیم انکا ر نہیں کر پا ئے گا اس لیے انہوں نے جلد با زی بنا ا مجد کی چھا ن بین کر و ا ئے رشتہ کے لیے حا می بھر دی و یسے عا بد کچھ بھی کہتا انہیں ا پنے بھا ئی بھتیجے پر ا ند ھا اعتما د تھا وہ کبھی غلط ہوہی نہیں سکتے تھے اور چھ ما ہ کے اندر اندر نا یا ب کی ا مجد سے اور حما د کی بینش سے شا دی کر دی تا کہ اگر بعد میں کو ئی مسلہ ہو تا بھی تو و ا پسی کا ر ستہ بند ہوتا۔
شا دی کے چند دن بعد ہی ا مجد نے اپنے ر نگ د کھا نے شر و ع کر د یے پہلے وہ اسے ما ئیکے سے پیسے لا نے پر مجبو ر کر تا اور پھر آ ہستہ آ ہستہ ا س پر ہا تھ بھی ا ٹھا نا شر و ع کر دیا دو نو ں با پ بیٹا جو ا کھیلتے تھے اور ا پنا پہلے ہی سب کچھ جو ے میں ا ڑا چکے تھے ا یک یہ گھر بچا تھا جس میں رہ ر ہے تھے اسکا آ د ھا حصہ کر ا ئے پر تھا جس گھر کا گز ر بسر ہو تا تھا پہلے پہل تو تھو ڑی بہت ر قم کا مطا لبہ ہو تا تھا پھر آ ہستہ آ ہستہ رقم بڑ ھتی گئی جو کہ سا جدہ کے لیے بھی مشکل ہو رہی تھی د ینا وہ ا بر ا ہیم نہیں بتا سکتی تھی وہ پہلے ہی ا س ر شتہ کے خلا ف تھی اور ایک دن امجد کوجب پیسے نہی ملے تو وہ نا یا ب کے زیو را ت ما نگنے لگا اور ا نکا ر کر نے پر ا سے بر ی طر ح مارناپیٹناا شر و ع کر د یا اور اسی د ن نے وہ سچ بھی ا گل د یا کہ اس را ت وہ ہی قصو ر وا ر تھا اور نا یا ب کو ادھ مر ی چھو ڑ کر اور سا ر ے پیسے اور ز یو ر لے کر بھا گ گیا اور تھو ڑے عر صے بعد طلا ق کے کا غذات بھیجوا دیے اوراس طر ح سا جد ہ نہ چا ہتے ہوئے بھی نا یا ب کی مجر م بن گئی نا یا ب ا سکے بعد شا دی نا م سے ہی خوف کھا نے لگی تھی۔
شو ہر ا ور بیٹی کو کھو نے کے بعد مد یحہ کی خو د کی حا لت بھی کچھ ٹھیک نہ ا و پر نیچے ہو نے حا د ثا ت اسے اند ر سے ختم کر ر ہے تھے اس لیے جب انہیں نا یا ب کی شا دی کا پتہ چلا تو سا تھ ہی ا نہوں نے عا بد کی بھی تھوڑے عر صے بعد شا دی کر دی انہیں ڈر تھا ا گر انہیں کچھ ہو گیا تو عا بد ا کیلا رہ جا ئے گا اور عا بد بھی ما ں کی حا لت د یکھ کر چپ چا پ ما ن گیا ر مشا ا یک ا چھی لڑ کی تھی لیکن ز ین کی پید ا ئش کے سا تھ ہی وہ اس د نیا سے ر خصت ہو گئی اس کے بعد مد یحہ نے کو شش ہی کر لی کہ وہ د و سر ی شا دی کر لیتا تب تک نا یا ب کی طلاق بھی ہو چکی تھی وہ اس کے لیے ا یک با ر پھر ا س در پر جا نے کے لیے تیا ر تھی پر عا بد سا جدہ کی شکل میں سو تیلی ما ں کا جو ر وپ د یکھا تھا وہ کا فی بھیا نک تھا اور وہ ا پنے بیٹے کے لیے ا یسا کچھ نہیں چا ہتا تھا اس لیے ا پنی سا ری ز ند گی اس نے ز ین کے نا م کر دی۔
.......................
فو ا د ا ٹھا رہ سا ل کا ہو ا تو اس نے آ ر می میں ا پلا ئی کر د یا سب کی مر ضی کے خلا ف وہ ا بھی باپ بھا ئی کے ساتھ کا رو با ر میں یا پڑ ھا ئی میں کو ئی د لچسپی نہیں ر کھتا تھااسے آ ر می میں جا نے کا شو ق تھا اور اس کے آ ر می میں جا نے کے د و سا ل بعد ہی سا جدہ نے ا س کی رو میسہ سے شا دی کر دی اور شا دی کے سا ل بعد ہی انابیہ پید ا ہو ئی جو کے حو ر ین سے تین سا ل چھو ٹی تھی اور ا نا بیہ کے بعد د و بیٹے بھی ہو ئے ا سد اور سعد۔
انا بیہ کی پیدا ئش کے بعد فو ا د ا پنی بیو ی ا ور بیٹی کو ا پنے سا تھ ہی لے گیا تو اس گھر میں جو بھی کچھ ہو ا تھا یا ہوتا تھا ا س کے با رے میں ا سے کو ئی خا ص پتہ نہیں ہو تا تھا اور نہ ہی کو ئی خا ص د لچسپی تھی حما د ا پنی مر ضی کا مالک ضر ور تھا لیکن اپنے رشتو ں کا ا حسا س کر نے وا لا ا نسا ن تھا جبکہ فو ا د اس کی نسبت خو د غر ض تھا سا جدہ کے با ر ہا کہنے پر بھی وہ سر و یس پو ری ہو نے سے پہلے گھر اپنے بیو ی بچو ں کو یہا ں چھو ڑنے پر نہیں ما نا تھا اور اب جب ان کی سر و یس ختم ہو ئی تب ہی وہ لو گ و ہا ں آ ئے تھے۔
......................
”کیا کیا آ پ نے اس کے سا تھ بو لتی کیو ں نہیں“ اب کی باروہ ان کو پکڑ جھنجھو ڑتے ہو ئے پو ر ی قو ت سے چلا ئی تھی۔
اور اس گھر کی در دیو ار نے پو ر ے پند رہ یا سو لہ سا ل بعد یہ نا م یو ں سر عا م سنا تھا نہیں تو عر صہ ہو گیا تھا اس
نا م کو ان در دیوا رو ں میں د فن ہوئے۔
حما د آ گے بڑ ھنے لگا تھا حو ر ین کو ر وکنے کے لیے مگر ا سجد انکو رو ک دیا اب تو وہ خو د بھی جا ننا چا ہتا تھا آ خر ا یسا کیا تھا جو حو ر ین یو ں کر رہی تھی۔
”حو ر ین یہ کیا طر یقہ ہے ا پنی دادو سے با ت کر نے کا سا ر ی تمیز بھو ل گئی ہو تم تو“ ابر اہیم بو لا تھا جبکہ وہ تیز ہو تی سا نسو ں کے سا تھ ان کی طر ف پلٹی تھی آ نکھیں سر خ تھی آ نسؤ ں کور و کنے کی کو شش میں۔
”آ پ کو معلو م ا نہو ں نے کیا کیا آ پکی بیٹی کے سا تھ“ اب کی با ر اس نے ا بر ا ہیم کی آ نکھو ں میں د یکھ کر بولا تھا”ما ر ڈا لا اسے اور پتہ ہے کیسے ما را“ وہ چلا ئی تھی آ نکھو ں سے آ نسو جھلک پڑ ے تھے اور ا بر ا ہیم کے سینے میں درد ا ٹھا تھا وہ جو کہتا تھا ا سے کو ئی فر ق نہیں پڑ تا چا ہے صا لحہ جیے یا مر ے اور آ ج جب اس کی مو ت کی خبر و ا قعی ہی ملی تھی تو شا ید یہ ز ند گی میں د و سر ی با ر صا لحہ کے لیے ا و لا د کا درد محسو س ہو ا تھا پہلی بار تب جب ڈا کڑ نے اسے ختم کر نے کا کہا تھا اور د و سر ی با ر آ ج۔
”اس کے جسم کا ا یک ا یک ا عضا نکلوا کر بیچا ا نہو ں نے اس ا ر با ز کے سا تھ مل کر“ وہ ا بر ا ہیم کے بر ا بر جا کر کھڑ ی ہو ئی تھی اور ا بر ا ہیم د ل پر ہا تھ ر کھتا صو فے پر گر گیا تھا سا جدہ حو رین کو ر و کنا چا ہتی تھی آ گے بڑھ کر پر ان کے قد م تو جیسے ز مین سے چپک گئے تھے حو ر ین کی آ نکھو ں میں اپنے لیے نفر ت د یکھ کر جیسے وہ پہلے ہی ا پنی ہار ما ن چکی تھی اور شا ید اس گنا ہ کا بو جھ ا تنے سا لو ں سے سہتے سہتے وہ تھک چکی تھی۔
....................
ایک ایک با ت کی چھا ن بین شر و ع کی گئی اور ا یک کے ا یک بعد سا رے سچ سا منے آ نے لگے تھے کیسے سا جد ہ نے صا لحہ کی سا ر ی جا ئیداد کو ا پنے بچو ں کے نا م کر ا یا تھا اور ا ن سب میں عا بد و ا لا معا ملہ بھی کھلنا شر و ع ہو گیا تھا اور آ ج سب پھر ا سی لا ؤ نج میں بیٹھے تھے جہا ں عا بد کا تما شا لگا تھا با ر ہا جہا ں ا سے مجر م ٹھہر ا یا گیا تھا اور جہا ں حو ر ین نے سا جد ہ کا پو ل کھو لا تھا آ ج وہ تصا و یر د یکھی گئی تھی جن کو ا س و قت وہ
د یکھا نے کے لیے انکی منتیں کر رہا تھا اس و قت د یکھ لیتے تو کم ا ز کم نا یا ب کی ز ند گی تو نہ بر با د ہو تی۔
”میں شر مند ہ ہو ں جو میں نے تمہا ر ے سا تھ کیا ا پنی بہن کے سا تھ کیا“ ا بر ا ہیم لر ز تی آ و ا ز میں بو لا تھا اس با ر گھر کے سب ا فر ا د بیٹھے تھے سو ائے سا جدہ کے جن سے سب کی با ت چیت بند تھی نا یا ب بھی اور عا بد کے سا تھ ز ین بھی تھا وہ جا ن چکا تھا کہ عا بد پہلے بھی و ہا ں جا چکا تھا تو وہ اس با ر ا نہیں ا کیلا نہیں آ نے د ے سکتا۔
”اب کیا ہو سکتا ہے ما مو ں اب تو جو ہو نا تھا وہ ہو گیا مجھے ا فسو س تو ا س با ت کا ہے کہ آ پ میرا نہیں تو ا پنی بہن کا ہی خیا ل کر لیتے“ عا بد بو لا تھا۔
”میر ا یقین کرو عا بد اگر مجھے کو ئی تھو ڑا سا بھی سر ا مل جا تا تو میں کبھی بھی تم پر کو ئی حر ف نہیں آ نے د یتا“ وہ اس کے ہا تھ پر ا پنا ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لا تھا۔
”آ پکو نہیں پتہ کیا آ پکی بیو ی کو سب پتہ تھا اور ا نہو ں نے جا ن بو جھ کر میر ے با با کے سا تھ یہ سب ہونے د یا“ عا بد کی بجا ئے ز ین بو لا تھااور یہ با ت نا یا ب کو جیسے کا نٹو ں پر کھڑی کر گئی تھی وہ و ہا ں سے ساجدہکے پا س آ ئی تھی۔
”ا می کیا آ پ جا نتی تھی کہ میرا مجر م کبھی بھی عا بد نہیں تھا“ وہ سا جد ہ کے کمر ے میں آ تے ہی بو لی تھی وہ جو بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اس کی آ و ا ز پر آ نکھیں کھو ل کر ا سکی طر ف د یکھا تھا پر اسکی آ نکھو ں میں آ نسو دیکھ کچھ بو ل نہیں پا ئی تھی اور خا مو شی سے سر جھکا گئی تھی۔
”تو پھر آ پ یہ بھی جا نتی ہو نگی کہ ا مجد تھا اس ر ا ت اور آ پ نے...آ پ نے جا ن بو جھ کر مجھے اس کے ساتھ با ند ھا“
”ایسا نہیں ہے میر ی بچی میں تمہیں کیسے جا نتے بو جھتے اس جہنم میں د ھکیل سکتی تھی“ وہ تڑ پ ا ٹھی تھی اپنی اکلو تی بیٹی کے منہ سے ا یسے ا لفا ظ سن کر ان کے لیے وہ ہمیشہ حما د اور فو ا د سے بڑ ھ کر رہی تھی۔
”یہ سچ ہے کہ میں جا نتی تھی عا بد مجر م نہیں تھا پر یہ تو کبھی نہیں پتہ تھا کہ ا مجد تھا“ وہ اس کے ہا تھ تھا منے کی کوشش کر تے ہو ئے بو لی تھی جنہیں وہ پیچھے کر گئی تھی۔
”ٹھیک ہے ما ن لیا ما ن لیا کے آ پ کو امجد کا نہیں پتہ تھا آ پکو پر آ پکو یہ تو پتہ تھا نہ عا بد جھو ٹا نہیں تھا ا گر تھوڑی بہت تحقیق کر لیتی تو پتہ چل ہی جا تا آ پکو“ د ل کے شکو ے شکا یت ز بان پر آ ہی گئے تھے۔
”مگر آ پکو تو بس ان لو گو ں سے پیچھا چھڑا نا تھا ہا ں نا ں نہیں تو اس د ن جب عا بد آ یا تھا ا پنی بے گنا ہی ثابت کر نے تب ہی اسکی با ت سن لیتی“ وہ سو ال کر رہی تھی اور سا جد ہ کے پاس کو ئی ا لفا ظ نہیں تھے جن سے وہ ا پنے آ پکا د فا ع کر سکتی اس لیے چپ چا پ سنتی گئی۔
”آ پکو معلو م ہے وہ مسیحا تھا میرا اور آ پکی و جہ سے وہ مجر م بن گیا کیا یہ سب کر نے سے پہلے آ پ نے سو چا کہ وہ پچھتایا ہو گل اس ر ات اس نے مجھے اس د ر ند ے سے کیو ں بچا یا تھا نہ بچا تا تو اسے اور اسکی ما ں کو وہ ذ لا لت نہ سہنی پڑ تی“وہ بو ل ر ہی تھی نہ جا نے کب کا غبا ر تھا جو آ ج سا ر ا نکل ر ہا تھا نا یا ب آ ج بھی وہ نظر یں نہیں بھو لی جو عا بد نے اس ر ات جا نے سے پہلے اس پر ڈ ا لی تھی کیا کچھ نہ تھا ان میں شکو ہ ا ذ یت دکھ۔
.......................
”حو رین میر ی با ت سنو“ وہ کچن میں آ ئی تھی جب سا منے حو ر ین کو د یکھاجو ان کو د یکھ کر و ہا ں سے جا نے لگی تھی ”تمہیں کیا لگتا ہے حو ر ین میں نے صا لحہ کے سا تھ جو بھی کیا وہ پیسو ں کے لیے کیا“ ان کی ا گلی بات حورین کو ر کنے پر مجبو ر کر گئی اور وہ پلٹ کر ان کی طر ف د یکھنے لگی وہ عمر کے ا س حصے میں بھی ا چھی خاصی تھی کو ئی نہیں کہہ سکتا تھاکہ ان کے اتنے بڑ ے بڑ ے پو تا پو تی تھے لیکن اس د ن کے بعد سے وہ پہلے جیسی نہیں ر ہی تھی کمز ور لگ ر ہی تھی۔
”تمہا ر ے لیے کیا تھا حو ر ین صر ف اور صر ف تمہا رے لیے“ وہ بو لتی گئی۔
بینش ا یک سید ھی سی لڑ کی تھی جو حما د کے سا تھ ہی یو نیو ر سٹی میں پڑ ھتی تھی اور ا سکی اس سا د گی کی و جہ سے ہی حما د نے اسے ا پنی ہم سفر بنا ننے کا فیصلہ کیا تھا بینش کو شر و ع سے ہی دل کا مسلہ تھا اس و جہ سے جب ساجدہ اس کے گھر و ا لو ں کو حما د کے پہلے نکا ح کا بتا یا تو انہو ں نے بھی بینش کی حا لت کا پہلے ہی بتا د یا تھا ہاں ا لبتہ بینش کو اس با ر ے میں کچھ پتہ نہیں تھا لیکن حما د نے سب کچھ جا نتے بو جھتے اس کا ہا تھ تھا ما تھا اور دو نو ں خو ش بھی تھے شا دی کے دو سا ل بعد ا سجد ان کی ز ند گی میں آ یا تھا اور اس سے دو سا ل بعد حو رین۔
حو ر ین کی پید ا ئش کی د فعہ ان کی حا لت کا فی بگڑ گئی تھی پر کسی نہ کسی طر ح وہ و قت بھی گز ر ہی گیا حما د کو ا سجد جس طر ح عز یز تھا و یسے حو ر ین کبھی بھی نہیں تھی لیکن پھر اس کے سا تھ ر و یہ ٹھیک ہی تھا۔
حو ر ین تین سا ل کی تھی جب بینش کو ا یک با ر پھر سے ما ں بننے کی خو شخبری ملی تھی مگر ڈا کڑ نے اس کی حا لت کے پیش نظر سختی سے ا حتیا ط کر نے کا کہا تھا اور یہ چا ر ما ہ بعد کی با ت تھی جب کسی با ت پر ضد کر تی حورین ما ں سے نا ر ا ض ہو کر سیڑ ھیو ں سے نیچے کی طر ف بھا گی تھی اور گر نے لگی تھی ا س سے پیچھے آ تی بینش اس کو سنبھا ل پیچھے کر نے میں تو کا میا ب ہو گئی تھی پر خو د کا تو ا زن بر قرا ر نہیں ر کھ پا ئی اور و ہیں سے سید ھا نیچے آ گر ی تھی اس کی چیخو ں کی آ و ا ز سن کر سا رے صحن میں آ گئے تھے اور ننھی سی حو ر ین ڈ ر کر وہی کھڑ ی ہو گئی تھی جب بینش کو سنبھا لتے حما د نے غصے اور نفر ت سے اس کی طر ف د یکھا تھا۔
.....................
گر نے سے نہ صر ف بینش نے ا پنے بچے کو کھو یا تھا بلکہ اس کے د ل کی حا لت مز ید خر ا ب ہو گئی اس د ن حمادخو ب غصے میں گھر آ یا تھا اور عین ممکن تھا کہ وہ حو ر ین کو جان سے ما ر د یتا ا گر دا دو د رمیان میں نہ آ تی تو اس دن ڈ ر ی سہمی حو رین کو سا جد ہ نے ہی سینے سے لگا یا تھا ا سے اس پر تر س آ یا تھا بہت ز یا دہ ان کے خو د کے بچے بنا با پ کے پلے تھے تو اس کا در د سمجھ سکتی جب وہ شر و ع شر و ع میں اس گھر میں آ ئی تب ا نہیں صالحہ پر بھی تر س آ تا تھا جو ا بر ا ہیم کا ر ویہ تھا اس کے سا تھ اس و جہ سے بعد ان کا لا لچ ہر چیز کو بہا کر لے گیا
تھا۔
حو ر ین د و سا ل کی تھی تب سکینہ جو کہ ا یک بیو ہ تھی وہا ں کا م کے لیے آ ئی تھی اور بینش کی حا لت کو د یکھتے حماد نے اسے کا م پر ر کھا تھا اور جس کے لیے اسے سر و نٹ کو ا ر ٹر کی بجا ئے گھر ا ند ر ہی ر کھا گیا تھا وہ سٹو ر جہاں صا لحہ ر ہتی تھی ا سے کو تھو ڑی بہتر حا لت میں کر کے انہیں و ہا ں رہنے کا کہا گیا تھا جب انہو ں نے پہلی با ر صا لحہ کو د یکھا تھا اور اس د ن سے ہی اسے ا پنی بیٹی کی طر ح سمجھا تھانہ ہی وہ صا لحہ کی پہچا ن سے واقف تھی اور نہ ہی انہو ں نے جا ننے کی کوشش کی تھی اور صا لحہ کو بھی ا تنے عر صے میں پہلی بار کو ئی ہمد ر د ملا تھا اور آ ہستہ آ ہستہ اس کی شنا خت ان کی بیٹی کی ہی ہو گئی تھی سکینہ نے اسے د و با ر ہ زندگی جینا سیکھا نا شر و ع کیاچھو ٹی چھو ٹی چیز یں سکھا ئی اور ا تنے عر صے میں وہ بھی ا نسا نو ں کی طر ح رہنے لگی تھی اور اب ز یا دہ نہیں تو تھو ڑا تھو ڑا خو د بو لنے لگی تھی چیز و ں کو سمجھنے لگی تھی وہ ز ند گی جو ا س کی ما ں کی خو ا ہش تھی کہ وہ جیتی وہ اب جینے لگی تھی شا ید وہ سب جو ا سے ما ں محبت اور پیا ر سے نہ سکھا سکی تھی وہ زما نے کی ٹھو کر یں کھا نے کے بعد آ نے لگا تھاڈ ا کڑ ز نے کہا تھا شا ید عمر بڑ ھنے کے سا تھ اس د ما غ کا جو حصہ کمز ور تھا وہ بھی گرو ہو جاتا اب وہ ہوا بھی تھا اگر اسے صیح طر ح میڈ یکل اٹینشن ملتی تو شا ید وہ بھی کسی حد تک نا ر مل ز ند گی گزار لیتی۔
بینش کے ہسپتا ل سے آ نے کے بعد حما د ا سے علا ج کے لیے کئی جگہ لے کر گیا تھا اور ا سجد کو ا پنے سا تھ ہی ر کھا تھا پر حو ر ین د ا دی کے پا س تھی بینش کے کہنے پر بھی وہ ا سے سا تھ لے جا نے کے لیے ر ضا مند نہ ہوا تھا اور سا جد ہ کو لگ ر ہا تھا جیسے تا ر یخ ا پنے آ پ کو د ہر ا ر ہی تھی کل صا لحہ تھی تو آ ج حو رین حو ر ین پا نچ سال کی ہو ئی تو با پ کے ر و یے کو سمجھنے لگی تھی اور اس چیز کا اس پر یہ ا ثر ہو ا تھا وہ چھو ٹی چھو ٹی با تو ں پر چیخنے چلانے لگتی تھی ضر ور ت سے ز یا دہ غصہ کر نے لگی تھی اورجب بے بس محسو س کر تی تو ر ونے لگ جا تی تھی آ ہستہ آ ہستہ ا پنے کمر ے میں ہی بند ہو کر ر ہنے لگی تھی نہ ہی ا ور بچو ں سے گلتی ملتی تھی اور نہ کسی سے با ت
کرتی تھی اب تو سا جد ہ سے بھی نہیں۔
......................
یہ گر میو ں کی با ت تھی جب بینش کو ڈا کڑ مکمل طو ر پر جو ا ب د ے چکے تھے ان کا کہنا جتنی دو ا ئیو ں سے گزاراہو سکتا تھا کر لے اور آ خر ی حل ہا ر ٹ ٹر ا نسپلا نٹ تھا اور وہ ملنا کو ئی آ سا ن کا م نہ تھا اور تھک ہا ر کر وہ بینش کو گھر و ا پس لے آ یا تھا اور آ ج ما ں کی و جہ سے وہ ا تنے عر صے بعد حو ر ین ا پنے کمر ے سے با ہر نکلی تھی بینش نے ا سے ڈ ھیر سا ر ی ٹا فیا ں دی تھی جو کہ اس سے ا سجد چھین کر ا سے چٹر ا تا ہو ا بھا گ گیا وہ اس پر چلا نہیں سکتی تھی کیو نکہ وہ بھا گ کر حما د کے پا س چلا گیا تھا تو و ہیں سیڑ ھیو ں پر بیٹھ کر رو نے لگی جو کے اسی سٹو ر ر وم کے پا س تھی جہا ں صا لحہ رہتی تھی اور ا سے ا لما ر ی اس طر ح ر وتے د یکھ کر حیر ا ن ہو تی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی اور حو رین کی یہ صا لحہ سے پہلی ملا قا ت تھی اور ا تنے عر صے میں پہلی با ر وہ کسی ا جنبی سے با ت کر ر ہی تھی سا جد ہ جو کہ ا سجد کے منہ سے اس کا کار نا مہ سن کر اس کے لیے آ ئی پہلے تو صا لحہ کو ڈانٹ کر اس سے دو ر رہنے کا کہنے و الی تھی لیکن حو ر ین کو اس سے با ت کر تے د یکھ کر وہ و ا پس پلٹ گئی
اور بعد میں ا نہیں سکینہ کو خو د صا لحہ کو حو ر ین کے پا س جا نے اور اس سے با ت کر نے کا کہا تھاوہ ملا ز م تھی کیا کہہ سکتی تھی۔
پہلے پہل تو حو ر ین اس کو کمر ے میں د یکھ کر خو ب چلا تی ا س پر ا پنے کھلو نے پھینک کر ما ر تی تھی وہ پھر بھی چپ چا پ و ہیں کھڑ ی ر ہتی آ ہستہ آ ہستہ ا سے اس پر تر س آ نے لگا تھا اب وہ اس سے تھو ڑی تھو ڑی باتیں کر نے لگی تھی حو رین جیسے چا ہتی وہ و یسے ہی کر تی تھی اس کی حا لت بہتر تو ہو ئی تھی پر ا تنی بھی نہیں کہ وہ ا پنے سے کو ئی فیصلہ لے پا تی حو ر ین اسے کھڑ ے ہو نے کا کہتی تو وہ کتنی ہی د یر کھڑ ی رہتی تھی ا ور بیٹھنے کا کہتی تو بیٹھی ر ہتی ز یا دہ تر وہ حو ر ین کی با تیں ہی سنتی تھی خو د تو وہ بہت د یر سو چنے سمجھنے کے بعد کو ئی جو ا ب دے پا تی تھی وہ بھی چند جملو ں میں اب حو رین کے ر ویے میں تبد یلی آ ر ہی تھی شا ید ا یک ا بنا ر مل دو سری
کے لیے دوا کا کا م کر ر ہی تھی سا جد ہ کے لیے یہ ہی کا فی تھا ا نہیں پسند تو نہیں تھا حو ر ین کا صا لحہ کے ا تنے قریب آ نا پر اگر حو ر ین کے نا ر مل ہو نے کے لیے یہ ہی قیمت تھی تو ا نہیں منظو ر تھی۔
........................
ز ین کو آ ٹھ سا ل کا ہو ے چند دن ہو ئے تھے جب مد یحہ کی حا لت ا چا نک ز یا دہ خر اب ہو گئی تھی ڈ ا کڑ کے مطا بق وہ ا پنا آ خر ی و قت کا ٹ ر ہی تھی اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ا پنے آ خر ی د نو ں میں وہ ا بر ا ہیم کا ا کثر ذ کر کر نے لگی تھی ہر و قت د ر و ا زے کی طر ف د یکھتی رہتی جیسے ابھی وہ و ہا ں سے آ جا ئے گا ا ن کی یہ حا لت د یکھ کر عا بد سے ر ہا نہیں گیا تھا اور وہ ہا تھ جو ڑ کر ا بر ا ہیم کے پا س آ یا تھا اور اس کی سا ری حا لت بتا ئی تو ا بر اہیم سے بھی ر ہا نہیں گیا تھا و یسے بھی یہ ز ند گی میں پہلی بار تھا جو وہ ا تنی د ن ان سے دور ر ہا تھا تو ا سی وقت وہ عابد کے سا تھ آ گئے تھے سا جد ہ بھی اس با ر کچھ نہیں بو لی تھی جا نتی تھی ا گر اب بو لی تو صر ف ا بر ا ہیم کی نظروں میں مز ید گر ے گی اور انہو ں حما د کو بھی منع کر د یا تھا بلکہ خو د بھی آ ئی تھی ا بر ا ہیم کے سا تھ جب وہ پہنچے تو مد یحہ کی حا لت د یکھ کر ا بر ا ہیم جیسے پھر سے بکھر گیا تھا اسے اپنے کیے ر و یے پر شر مند گی تھی لیکن ساجدہ کو د یکھ کر مد یحہ کے سا رے ز خم ہر ے ہو گئے تھے اور ان آ خر ی سا نسو ں میں اس نے و عد ہ کیا تھا کہ وہ حو ر ین کا ر شتہ ز ین سے کر ے گا اور وہ اب عا بد کو ا کیلا نہیں چھو ڑے گا اب یہ ا نہو ں نے سا جدہ کو ہرانے کے لیے کیا تھا یا پھر عا بد کے ا کیلے ر ہنے کے ڈر سے عا بد کبھی نہیں سمجھ پا یا تھا۔
ان کی و فا ت کے بعد عا بد کو پھر سے اس گھر میں آ نے کی ا جا ز ت مل گئی تھی اور ایک دو بز نس کے معاملا ت کی و جہ سے بھی اگر عا بد کو ما ں کے و عد ے کاپا س نہ ہو تا تو وہ کبھی بھی اس گھر کی د ہلیز پر قد م بھی نہ رکھتا اور سا جدہ نے حو ر ین کو سختی سے ز ین سے دور ر ہنے کا کہا تھا جو کہ اسجد کے ہم عمر تھا لیکن ز ین کو وہ شر و ع سے ہی پسند تھی اس کی آ نکھو ں میں اپنے لیے نا پسند ید گی کے با و جو د بھی
.....................