aik thi salah episode # 18 - Sad Urdu Novel

 

aik thi salah

Episode # 18


تین سا ل گز ر گئے حو ر ین آ ٹھ سا ل کی ہو گئی اس کی اور صا لحہ کی د و ستی کا فی گہر ی ہو گئی تھی اور حو ر ین بھی چیز و ں کو سمجھنے لگی تھی اب پہلے و ا لی حر کتیں نہیں کر تی لیکن وہ اب بھی جلد ی سے کسی سے دو ستی نہیں کر تی اب تو اسجد نے بھی کو شش کی تھی اور انا بیہ نے بھی جو کہ کبھی کبھا ر چھٹیا ں گز ا رنے ا د ھر آ تی تھی وہ د و نوں سے ہی با ت ہی نہیں کر تی تھی سکینہ بی کے جانے کے بعد اب صا لحہ کے پاس بھی صر ف وہ ہی تھی حا لا نکہ حو ر ین کے نا ر مل ہو نے کے بعد سا جدہ نے کتنی ہی با ر کو شش کی تھی اسے صا لحہ سے د ور ر کھنے کی پر وہ نہیں ہو ئی تھی تنگ آ کر سا جد ہ نے اسے اس کے حا ل پر چھو ڑ د یا پھر ایک دن بینش کی د و ا ئیو ں کا ا ثر ہو نا بھی ختم ہو گیا۔

بینش کی طبیعت بگڑ تی گئی اور اب اگر ٹر ا نسپلا نٹ کے لیے ہار ٹ ملے تو ہی بچ سکتی تھی نہیں تو نہیں بینش کو ہسپتا ل گئے ا یک ہفتہ ہو گیا تھا اور حو ر ین روز د ا دی سے ا پنی ما ں کا پو چھتی تو وہ ا سے بہلا دیتی کہ ان کی تھو ڑی طبیعت خر اب ہے کچھ د نو ں میں و ا پس آ جا ئے گی حو ر ین چھو ٹی تھی پر ا تنی بھی نہیں کہ سمجھ نہیں پا تی وہ اب صا لحہ کے سا تھ بھی کھیلنا چھو ڑ گئی تھی۔

”تم آ ج پھر کیو ں رو رہی ہو“ حو ر ین آ ج ہمت کر کے اس کے پا س کھیلنے کے لیے آ ئی تھی پر ما ں کی یا د آنے پر سیڑ ھیو ں پر بیٹھ کر رو نے لگی تھی تب صا لحہ نے اس سے پو چھا تھا۔

”میر ی امی“ حو ر ین سسکیا ں لیتے ہو ئے بو لی تھی ”وہ ہسپتا ل میں ہیں دا دو کہتی ہیں وہ و ا پس آ جا ئیں گی پر مجھے پتہ ہے وہ جھو ٹ بو ل ر ہی ہے وہ کبھی بھی و ا پس نیں آ ئے گی“ وہ د و با ر ہ با ز ؤ ں میں سر رکھ کر رونے لگی تھی۔

”تمہیں کیسے پتہ یہ سب“ صا لحہ کے لیے یہ سا ری با تیں نئی تھی اسے کچھ خا ص سمجھ نہیں آیا تھا سو ا ئے ما ں کے۔
”میں نے ٹی و ی پر د یکھا ہے جو میر ی ا می کی طر ح جا تے ہیں وہ و ا پس نہیں آ تے“وہ اب با زؤ ں سے سر ا ٹھا کر اس    
کی طر ف د یکھ ر ہی تھی۔
”اور وہ و اپس نہ آ ئے تو کیا ہو تا ہے“ وہ حیر ا نی سے بو لی تھی۔

”بد ھو وہ پھر تمہا ر ی طر ح ہو جا تا ہے اسے کو ئی نہیں پیا ر کر تا“وہ اب بھی رو رہی تھی پر سسکیا ں بھر نا چھو ڑ چکی تھی ”میں بھی نہ پتہ نہیں تمہیں کیو ں بتا رہی ہوں تمہیں تو شا ید یہ بھی نہیں پتہ ما ں کیا ہو تی ہے“ وہ کہتی وہا ں سے ا ٹھ کر چلی گئی تھی حو ر ین نے جو بھی کہا تھا وہ پیچھے کھڑ ی سا جد ہ کو ہلا کر ر کھ گیا تھا اسے حورین اور صا لحہ ا یک ہی سکے کے دو پہلو لگے تھے جیسے حور ین حا ل تھی اور صا لحہ مستقبل وہ ہی با پ کی نفر ت سب کچھ۔

اس کی با تیں سمجھ آ تی یا نہ بھی آ تی پر صا لحہ یہ تو جا نتی تھی ما ں کیا تھی اسے یا د آ ئی تھی ا پنی ما ں اس سے پیا ر کر تی چیز یں لا کے د یتی اور آ خر ی د فعہ جب اسے ہا تھ سے ا پنی طر ف بلا تی اسے سب یا د تھا ڈا کڑ ز نے کہا تھا وہ لا شعو ری طو ر پر کچھ نہیں سیکھ سکتی تھی پر جو اس کو یا د ہو جا تا تھا وہ مشکل سے بھو لتی تھی اور اس کے جا نے کے بعد کتنے د نو ں تک وہ سا رے گھر میں ما ں کو ڈ ھو نڈ تی ر ہی جب تک مد یحہ نے اسے کسی طر ح یہ نہیں سمجھا یا تھا کہ وہ اب کبھی و ا پس نہیں آ ئے گی۔

اس شا م سا جد ہ کچن میں کھڑ ی تھی ا ور د ما غ میں حو ر ین کی با تیں گو نج ر ہی تھی تب صا لحہ ان کے پا س آ ئی تھی۔

”تم یہا ں کیا کر رہی ہو“ وہ ا سے ا پنے پا س بت بنا کھڑا د یکھ کر بو لی تھی۔

”وہ میں وہ“ اب سا جد ہ بے شک ا سے ما ر نا پیٹنا چھو ڑ د یا تھا کا فی عر صے سے پر وہ اب بھی ان سے ا سی طر ح ڈ ر تی تھی۔

”کیا میں میں لگا ر کھی ہے جا ؤ یہا ں سے“ وہ اسے با ہر عا ا شا ر ہ کر تے ہو ئے بو لی تھی۔

”وہ میں کہنے آ ئی تھی حو رین کی ا می کو جو بھی چا ہیے ہے وہ آپ مجھ سے لے لیں“ وہ ہمت کر تی بو لی تھی

آگے اسے کچھ سمجھ نہیں آ یا تو ا تنا کہہ کر چپ ہو گئی۔

”د ماغ خر اب ہو گیا تمہا ر ا کچھ پتہ تو ہے نہیں ا یسا کیسے ہو سکتا“سا جد ہ کہتے کہتے سو چ میں پڑ گئی ا یسا ہو تو سکتا تھا نا ممکن تو نہیں تھا پھر انہو ں نے اس کے لیے ایسا ڈ ا کڑ چا ہیے تھا جو ان کے اس کا م کو رازدا ری سے کر تا اور پھر ا نہیں ا ر با ز ملا جو کے نیا نیا سر جن تھا پر اس کا بیٹا بیما ر تھا جس کا علا ج با ہر ملک میں ہو رہا تھا اور ا سے ز یا دہ پیسو ں کی ضر و رت تھی جو کہ اس طر ح ہی مل سکتے تھے قسمت بھی سا جد ہ کے سا تھ تھی صا لحہ کے تما م ا نڈ یکٹر ز بینش سے بلکل میچ کر گئے تھے بلڈ ٹا ئپ ہر چیز اوربنا کسی ر کا و ٹ کے ہر کا م ہو تا چلا گیا

جن جن گھر کے ا فر ا د کو ا سکا پتہ تھا ا نہیں یہ ہی کہا گیا کہ وہ گھر سے بھا گ گئی تھی و یسے بھی ا س کی فکر کر نے و ا لا اس گھر میں تھا بھی کو ن جو ملا ز م ا سے جانتے تھے انہیں ا یک ا یک کر کے کا م ے نکا ل د یا گیا تھا عا بد کو سا جد ہ پر یقین نہیں تھا ا س نے خو د تلا ش کی تھی ا و ر کئی سا لو ں بعد بھی اسکا کو ئی نا م و نشا ن نہ مل سکا تھا اس کے تو کبھی و ہم گما ن میں بھی نہ تھا کہ سا جد ہ اس کے سا تھ ا یسا کچھ بھی کر سکتی تھی

سا جد ہ نے سا ر ا کھیل بہت ا حتیا ط سے کھیلا تھا آہستہ آ ہستہ اس سے جڑا سب کچھ اس گھر سے نکا ل دیا تھا پر وہ اسے حو ر ین کے د ل و د ما غ سے نہیں نکا ل پا ئی تھی وہ کتنے دن اس کے با ر ے میں ان سے پو چھتی رہی اور ان کے پیا ر ما ر ہر طر یقے سے سمجھا نے پر بھی وہ نہیں ما نی تھی بس ان سے ڈ ر کی و جہ سے چپ ہو گئی تھی پر آ ج جب وہ بو لی تھی تو اس کی آ و ا ز سا جد ہ کا سب کچھ جلا گئی تھی۔

................................

” میں ڈ ر گئی تھی حو رین“ وہ آ نکھو ں میں آ نسو لیے اسے د یکھ ر ہی تھی عمر کے اس حصے میں وہ یہ ذ لا لت نہیں سہ پا ر ہی تھی اوروں کے ر و یے تو وہ پھر بھی بر ا د شت کر لیتی پر ان کی وہ بیٹی جو ان سے کبھی نظر ا ٹھا کر با ت نہیں کر تی تھی وہ آ ج آ نکھو ں میں آ نکھیں ڈا لیں سو ا ل کر رہی تھی وہ پو تی جو ا نہیں ا پنا سب کچھ ما ن کر چلتی تھی آ ج ا س کی آ نکھو ں میں سا جد ہ کو ا پنے لیے نفرت نظر آ رہی تھی یہ سب بر د ا شت کر نا مشکل تھا۔

”تم بتا ؤ میں نے کیا غلط کیا حو ر ین میں نے جو بھی کیا تمہا ر ے لیے کیا تھا“ وہ آ گے بڑ ھ کر اس کا ہا تھ تھامتے ہو ئے بو لی تھی۔

دکھ تو حو ر ین کو بھی ہو تھا وہ نہیں جا نتی تھی اسنے جو با تیں ا پنی معصو میت میں کہی تھی وہ کسی معصو م کی ز ند گی لے گئی تھی۔

”غلط کیا آ پ نے دا دو بہت غلط کیا آ پ نے“ وہ ان کے ہا تھ سے ا پنا ہا تھ نکا لتے ہو ئے بو لی تھی آ وا ز بھرا گئی تھی۔

”اگر میں نہ کر تی وہ سب تو تمہا ری ما ں وہ آ ج اور تم بھی اس کی طر ح کی ز ند گی گز ا ر ر ہی ہو تی“ وہ بس کسی طر ح اس کے منہ سے سننا چا ہتی تھی کہ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا سا جد ہ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

”تو وہ میر ا نصیب ہو تا دا دو آ پ نے تو جا نے ا نجا نے میں مجھے اور میر ی ما ں کو بھی مجر م بنا دیا“ وہ اس با ر با ر د بی د بی چلا ئی تھی ”اور آپ کہہ ر ہی کہ میں بھی صا لحہ جیسی ز ند گی گز ا ر تی پر اس کی ز ند گی بھی اس طر ح بناننے میں آ پ کا ہا تھ تھا آ پ چا ہتی تو وہ نا ر مل ز ند گی گز ا ر سکتی تھی آ پ کے سا تھ میر ے با پ کے سا تھ

حو ر ین کہتی و ہا ں سے چلی گئی جبکہ پیچھے سا جدہ کو ا حسا س ہو گیا تھا اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا کم ا ز کم ان کے لیے تو کبھی بھی نہیں وہ و ہیں ز مین پر بیٹھ گئی تھی۔

.......................

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.