aik thi salah
Episode # 15
سا جدہ ا ور ا بر ا ہیم نے تین دن بعد اپنے بیٹے کا نا م فو ا د ر کھا تھا ا بھی تک سب کچھ ٹھیک چل ر ہا تھا سا جدہ کو صا لح سے کو ئی نسبت نہ رہی تھی تو کو ئی نفر ت بھی نہ تھی بس ا س کو کھا نے کی میز پر سب کے سا تھ کھا نے کی اجا زت نہ تھی وہ بھی اس و جہ سے کیو نکہ ا بر ا ہیم کو پسند نہ تھا نہیں اسکو تو اس چیز سے بھی کو ئی مسئلہ نہ تھا ا ن کے تینو ں بچے ا یک حما د نا یا ب اور فو ا د ا یک ا چھی ز ند گی گز ا ر ر ہے تھے ابر ا ہیم بھی اب اس پر اند ھا اعتمادکر تا ہر طر ف ا ن کا ر ا ج تھا کو ئی ر و کنے ٹو کنے و الا نہیں تھا ایک کسک تھی تو وہ صر ف یہ کہ ابر اہیم کبھی عنا کو نہیں بھو لا تھا آ ج بھی ہر جمعہ کو ا س کی قبر پر ضر ور جا تا تھا اور جب اس کے خیا لو ں میں ڈ و بتا تو نہ جا نے کتنے ہی گھنٹے گز ا ر د یتا تھا مگر وہ سب جیسی بھی ا س کی سلطنت تھی وہ پھر بھی خو ش تھی اور پھر ان کو وہ پتہ چلا جس نے سب کچھ بد ل د یا۔
یہ تقر یبا فو ا د کی پید ا ئش کے چھ ما ہ بعد کی با ت تھی جب ا بر ا ہیم نے گھر کی سا ری چا بیا ں اس کے حو ا لے تھی ا ور ا سے ا لما ر ی میں کچھ ا ہم کا غذ ا ت ر کھنے کا کہا تھا تب ا ن کی نظر عنا کی و صیت پر گئی تھی اس د ن انہیں پتہ چلا تھا جس سب کو ا پنا سمجھ کر را ج کر رہی تھی وہ کبھی ا سکا تھا ہی نہیں وہ سب عنا دل کا تھا جو کہ اس کی و صیت کے مطا بق اس کے بعد صا لحہ کا تھا ا ختیا ر ا ت کا حق ا بر ا ہیم کو سو نپا گیا تھا اور صا لحہ کے ا ٹھا ر ہ سال کا ہو نے کے بعد سب کچھ اس کے نا م ہو جا نا تھا اور اسکی شا د ی کے بعد اس کے شو ہر وہ ا ور اس کے بچے کہا ں تھے اس نے تو ا بر ا ہیم کو ہر چیز کا ما لک سمجھ کر ا سکا ہا تھ تھا ما تھا یہ تو ا نہیں کبھی پتہ نہیں تھا ا نہو ں نے سا ر ی ز ند گی د و سر و ں کی طر ف د یکھ د یکھ کر گز ا ری تھی حسر تو ں کے سا تھ اور ا ب ان کے بچے سا ر ی زندگی ا یک ابنا ز مل کے محتا ج ہو کر ر ہتے یہ ا نہیں کبھی بھی منظو ر نہیں تھا ا بر ا ہیم کی وہ لا پر و ا ہی جو وہ صر ف اپنے بچو ں کے لیے بر د ا شت کر رہی تھی ا یک د م پھو ٹ کر با ہر آ ئی تھی نفر ت کی شکل میں اور ان سب کا نشا نہ بنی تھی معصو م صا لحہ اسی د ن اس سے میز پر فو ا د کے لیے ر کھا ہو ا د و د ھ نیچے گر گیا اور سا جد ہ نے پہلی بار اس پرہا تھ ا ٹھا یا تھا اور صا لحہ نے پہلی با ر د ر د کا سا منا۔
اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھاہر چیز کا غصہ اس پر ا تر نے لگا تھا وہ تو بے چا ر ی جا نتی بھی نہیں تھی اس کے سا تھ کیا ہو رہا تھا اور کیو ں ہو رہا تھا ساجد ہ مد یحہ کے سا منے ا یک ہمد رد ما ں کی طر ح پیش آ تی اور پیٹھ پیچھے وہ سب پھر سے شر و ع ہو جا تا ا پنی ز ند گی کی ا لجھنو ں میں پھنسی مد یحہ کے پا س ا تنا و قت نہیں تھا کہ سمجھ پا تی کہ وہ ہر رقت ڈ ر ی سہمی ر ہتی تھی اور وہ چند جملے جو وہ پہلے بو ل لیتی تھی اب وہ بھی نہیں بو لتی تھی اور ز یا دہ تر ا سی سٹو ر ر و م میں چھپی ر ہتی تھی جہا ں کبھی وہ ہر چیز سے ڈر کر چھپا کر تی تھی کبھی کسی ملا ز م کو تر س آ جا تا تو ا سے کچھ کھلا پلا د یتا نہیں تو سا ر ا د ن ا یسے ہی گز ر جا تا وقت گز ر تا گیا اور د یکھتے ہی د یکھتے وہ ا ٹھا ر ہ سا ل کی ہو گئی اورپھر سا جد ہ بیگم کے د ما غ میں آ یا کہ وہ کب تک اس کے اسی طر ح د با کر رکھے گی کیو ں نہ سب کچھ حا صل کیا جا ئے اور ا نہو ں نے مد یحہ اور ا بر ا ہیم کے سا منے صا لہ کا ر شتہ ما نگا اپنے بیٹے حما د کے لیے یہ ہی ایک طر یقہ تھا جس سے کسی کو پتہ لگے بغیر سب کچھ ہتھیا جا سکتا تھا وہ با تو ں ہی با تو ں میں پتہ لگا چکی تھی کہ مد یحہ کو اس و صیت کا نہیں پتہ تھا ا س کے با ر ے میں صر ف ا بر اہیم کو پتہ تھا یا و کیل کو مد یحہ تب تو کچھ نہیں بو لی تھی لیکن اسے بھی اب کہیں نہ کہیں سا جد ہ پر شک ہو نے لگا تھا کیو ں صا لحہ اب پہلے و ا لی صا لحہ نہیں ر ہی تھی کا فی کمز ور ہو گئی تھی تو ا نہو ں نے ا سکے لیے عا بد کا سو چا تھا کم ا ز کم وہ اسکی آ نکھو ں کے سا منے تو ر ہتی۔
”امی آ پکو معلو م بھی ہے آ پ کیا کہہ رہی ہیں“ اسی د ن و ا پس آ کر ا نہو ں نے عا بد سے با ت کی تھی ا گر وہ مان جا تا تو جا و ید کو منا ننا کو ئی مشکل کا م نہ تھا لیکن وہ تو ان کی با ت پو ری ہو نے سے پہلے ہی بھڑ ک ا ٹھا تھا۔
”ہا ں میں جا نتی ہو ں میں کیا کہہ ر ہی آ خر اس میں حر ج ہی کیا ہے تمہا ری ما مو ں ز ا د ہے بچپن سے ہمارے سا منے پلی بڑی ہے“ وہ اس سے ا س قسم کے ر ی ا یکشن کی ا مید تو ہر گز نہیں رکھ رہی تھی۔
”ہا ں جا نتا ہو ں میں اور آ پ بھی کہ وہ پا گل ہے ا می مجھے ز ند گی گز ا ر نے کے لیے ا یک ہم سفر چا ہیے ہے جو کہ مجھے سمجھے میر ا سا تھ د ے نہ کہ کو ئی پا گل جس کو ہر جگہ مجھے سنبھا لنا پڑے“ وہ جو ان خو ن تھا بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آ یا بو لتا جا رہا تھا نہیں جا نتا تھا ان اپنے کہے ا ن ا لفا ظ کے لیے وہ سا ر ی ز ند گی پچھتانے و الا تھا اور مد یحہ کا د ل د ہل گیا تھا صا لحہ کے لیے اتنے سخت ا لفا ظ سن کر۔
”ا یسے نہیں کہو بیٹا وہ پا گل تو نہیں ہے بس ا ورں سے تھو ڑی سی ا لگ ہے تمہا ری بھی ا یک بہن ہے تم دوسر و ں کو ایسے کیسے کہہ سکتے ہو‘‘ وہ د کھی لہجے میں بو لی تھی۔
”یہ سب میں نہیں جا نتا ا می مجھے نا یا ب پسند ہے میں سو چ ر ہا تھا میر ی ڈ گر ی مکمل ہو جا ئے پھر ا پنے پاؤں پر کھڑا ہو جا ؤ ں تو آ پ کو کہو ں گا ما مو ں سے ا سکا ہا تھ ما نگنے کا پر آپ تو اس پا گل کو لا نے کا سو چ رہی ہیں“ وہ کہتا غصے میں و ہا ں سے چلا گیا اور پھر مد یحہ نے کتنی ہی کو شش کی تھی ا سے منا نے کی پر وہ نہیں مانا تھاآخر تھک کر وہ ہا ر ما ن گئی اسے تو شا دی کر نی تھی تو نا یا ب سے اور کسی سے نہیں نا یا ب اور صا لحہ ہم عمر تھی اور حما د ا ور عا بد میں چند ماہ کا فر ق تھا۔
...............
منا نا تو حما د کو بھی آ سا ن نہ تھا وہ ا پنی د نیا کا با د شا ہ تھا جس سے آ ج تک ا س کی مر ضی کے خلا ف کو ئی کچھ نہیں کر و ا پا یا تھاوہ ہا سٹل میں ر ہتا تھا گھر کم ہی آ تا تھا اسے ا بر ا ہیم کو ئی خا ص پسند نہیں تھا اس و قت اس لیے جتنا ا ن سے دو ر رہا جا تا اتنا ہی صیح تھا اور صا لحہ سے تو ا سے و یسے ہی چڑ تھی۔
”کیا کہا آ پ نے“ اس کا ر ی ا یشن بھی عا بد سے کچھ کم نہ تھا جب سا جد ہ نے اسے بلا کر یہ خبر دی تھی۔
”ا یک با ر پھر سے کہیے گا“ وہ کھڑا ہو تا ہوا بو لا تھا چہر ہ بتا ر ہا تھا اسے یہ با ت کتنی نا گو ا ر گز ری تھی۔
”ایک با ر پو چھو یا سو با ر کچھ نہیں بد لنے و ا لا میں نے صا لحہ کا ہا تھ ما نگا ہے تمہا رے لیے اور چیخنے چلا نے کی ضر و رت نہیں ہے“ وہ بھی ا سی کی ما ں تھی اسی کے لہجے میں با ت کی تھی۔
”آ پکو لگتا ہے کہ میں آ پ مجھے اس پا گل سے شا د ی کر نے پر آ ما د ہ کر لے گی تو بھو ل ہے آ پکی“ وہ اب
بھی غصے میں تھا تو سا جد ہ نے ا پنا غصہ قا بو کیا تھا جا نتی ا یسے تو وہ کبھی نہیں ما نے گا۔
”ا یک با ر میر ی با ت سنو ٹھنڈ ے د ما غ سے“ وہ اس کا ہا تھ پکڑ کر ا سے د و با ر ہ کر سی پر بٹھاتے ہوئے نر م لہجے میں بو لی تھی۔
”صر ف میر ی یہ ا یک با ت ما ن لو ز ند گی میں پہلی با ر تمہا ر ی ما ں تم سے کچھ ما نگ ر ہی ہے“ وہ اس کا ہا تھ پکڑ کر منت کر تے ہو ئے بو لی تھی۔
”ا می جو آ پ ما نگ ر ہی ہیں وہ بھی تو میر ی سا ری ز ند گی ہے میں کیسے اس پا گل کے سا تھ گز ا را کر وں گا“ما ں کو د یکھ کر اب وہ بھی نر م پڑ چکا تھا۔
”میں کب تمہیں ا سکے سا تھ ز ند گی گز ا رنے کا کہہ رہی ہوں بس ا یک با ر نکا ح کر لو پھر میں جا نو ں اور وہ میں و عد ہ کر تی ہو ں اس کے بعد تم جس لڑ کی سے شا دی کر نے کا کہو گے میں خو د تمہا ر ی اس سے شا دی کرواؤ ں گی یہ تمہا ر ے ر ا ستے میں کبھی نہیں آ ئے گی تمہا ر ی ما ں کا و عد ہ ہے تم سے ہو ں“ وہ اس کے چہرے پر ہا تھ ر کھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”پر ا می آ پ یہ سب کیو ں کر ر ہی ہیں ا گر ا بر ا ہیم آ پ کو مجبو ر کر رہا ہے تو آ پ مجھے بتا ئے اور اگر آپ نہیں انکا سا منا کر نا چا ہتی تو آ پ نے کہا تھا میر ے ا بو میر ے اور نا یا ب کے لیے کا فی د و لت چھو ڑ کر گئے ہیں تو ہم وہ لے کے چلے جا تے ہیں“ وہ ا بر ا ہیم کو اس کی پیٹھ پیچھے نا م سے بلا تا تھا۔
”ا یسا کچھ نہیں ہے حما د اور وہ با پ ہے تمہا ر ا ایسے نہیں کہتے“ وہ اسے سمجھا تے ہو ئے بو لی تھی۔
”تو پھر آپ ا یسا کیو ں کر رہی ہیں“ وہ ا لجھا تھا۔
”بس ا پنی ما ں پر بھر و سا رکھو وہ تمہا رے لیے کبھی بھی بر ا نہیں چا ہے گی“وہ ہا ں میں سر ہلا گیا و یسے بھی وہ یہ سب کیو ں کر ر ہی تھی اس سے اس کو کو ئی خا ص مطلب تھا بھی نہیں اس نے تو یہ ا تنا بھی صر ف ا س لیے پو چھا تھا کہ وہ ا سے ا سکی ز ند گی میں د ا خل کر نا چا ہتی تھی پر انہو ں نے پہلی با ر اس سے کچھ ما نگا تھا تو وہ ما ن
گیا اور ا سی ہفتے ا سکا اور صا لحہ کا نکا ح کر د یا صا لحہ کو مد یحہ جیسے بتا تی گئی وہ کر تی گئی نہ ا سے سو ا ل کر نے آتے تھے نہ ا س نے کیے تھے اور ر خصتی کے لیے حما د کے فا ر غ ہو نے اور پا ؤ ں پر کھڑے ہو نے تک کا وقت ر کھا گیا تھا۔
...................
و قت گز ر تا گیا آ ہستہ آ ہستہ کر کے سا جد ہ نے صا لحہ کی سا ر ی جا ئیدا د اور کا رو با ر سب کچھ اپنے تینو ں بچوں کے نام کر وا لیا جس کے لیے انہوں نے و کیل کو بھی ا چھی خا صی ر قم د ی تھی ابر ا ہیم کو کچھ کا پتہ تھا جو کہ سا جد ہ نے کہا نی سنا سنا کر اور سچ کو تو ڑ مو ڑ کر بتا یا تھا ہا ں ا لبتہ مد یحہ اس سا ر ے معا ملے سے بے خبر تھی حماد اور عا بد دو نو ں کی تعلیم مکمل ہو گئی تھی اور حما د نے ا بر ا ہیم و الا کا رو با ر سنبھا ل لیا تھا اب ان کا تعلق بھی کسی حد تک بہتر ہو چکا تھا اور عا بد نے بھی بز نس کی د نیا میں ا چھا خا صا نا م کما یا تھا وہ کسی حد تک اب ان کے بر ا بر کھڑا تھا جو سب ا س نے نا یا ب کے لیے کیا تھا تا کہ کو ئی ا عتر ا ض نہ ا ٹھ سکے اور اب اس نے ا پنی ما ں کو نا یا ب کا ہا تھ ما نگنے کا کہا تھا اور مد یحہ نے ا یک طر ف تو عا بد کے لیے نا یا ب کا ہا تھ ما نگا تھا دو سر ی طرف صا لحہ کی ر خصتی کا مطا لبہ کیا تھا سا جد ہ ا بر ا ہیم کے سا منے کچھ نہیں بو لی تھی لیکن اسے ان کی دو نوں باتیں ہی منظو ر نہ تھی عا بد میں و یسے تو کو ئی خر ا بی نہ تھی لیکن ا گر یہ ر شتہ ہو جا تا تو اس گھر میں انکا آ نا جا نا بڑ ھ جا تا اور کچھ ہی و قت لگتا ان کا پر د ہ فا ش ہو نے میں انکا صا لحہ کے سا تھ جو سلو ک تھا اور عنا کی ر صیت سب کچھ۔
اور د و سری طر ف ا نہو ں نے حما د سے و عد ہ کیا تھا کہ جہا ں وہ چا ہے گا وہ اس کی و ہا ں شا دی کر و ائے گی اور وہ اب یو نیو ر سٹی فیلو کو پسند کر تا تھا ا ور ا پنی ما ں کو بتا بھی چکا تھا اور یہ شا د ی مد یحہ کے ہو تے تو ممکن نہ تھی تو کو ئی ا یسا حل نکا لنا ضر و ری تھا جس سے سا نپ بھی مر جا تا اور لا ٹھی بھی نہ ٹو ٹتی اور شا ید قسمت بھی ان کے سا تھ تھی ان کو وہ مو قع مل بھی گیا۔
فو ا د کی با ر ہویں سا لگر ہ تھی اور کا فی مہما ن ا کٹھے ہو ئے تھے جن میں سا جد ہ کا ا کلو تا بھا ئی اور ان کا بیٹا امجد بھی تھا وہ کچھ پہلے آ ئے تھے اس سے معا فی ما نگنے اور سا جد ہ نے انہیں معا ف بھی کر د یا وہ یہ بھو ل گئی تھی یہ وہ ہی بھا ئی تھا جس نے اس کے بیو ہ ہو نے اور ما ں کے جنا زے ا ٹھنے کے بعد ا سے اور نا یاب کو د ھکے ما ر کر گھر سے نکا لا تھاپرعو رت ا پنے خو ن کے ر شتو ں کے لیے آ ند ھی ہو تی ہے آ ج جب بھا ئی کو پتہ چلا کہ
بہن ا تنے ا میر خا ندا ن میں ر ا ج کر ر ہی ہے تو دو چا ر ٹسو ے بہا کر منا لیا اور وہ ما ن بھی گئی تھی تقر یبا فو اد کیک کا ٹنے کے آ د ھا گھنٹہ پہلے نا یا ب ا پنی ما ں کے کہنے پر گھر کے اندرگئی تھی فنکشن کا ا نتظا م گھر سے باہربنے پا ر ک میں تھا نا یا ب کے پیچھے پیچھے ا مجد بھی ا ند ر گیا جو کہ کب سے اس پر نظر یں گا ڑ کر بیٹھا تھا
تھو ڑا پیچھا کھڑا عا بد بھی اس کے ا را دے بھا نپ چکا تھا اور وہ بھی اس کے پیچھے بھا گا تھا پر فا صلہ ہو نے کی و جہ سے وہ پہلے جا چکا تھا۔
نا یا ب کمر ے میں گئی تو پیچھے سے بجلی چلی گئی نا یا ب ڈر کر و ہیں کھڑ ی ہو گئی وہ تھو ڑی ڈر پو ک طبیعت کی مالک تھی چھو ٹی چھو ٹی با ت پر گھبر ا جا یا کر تی تھی ا مجد کا ر ستہ صا ف ہو گیاوہ کمر ے میں آ تے ہی نا یا ب پر چھنپٹا تھا پر اس سے پہلے کہ وہ ا پنے ا ر ا دے میں کا میا ب ہو تا پیچھے سے عا بد نے اسے کھنچا اور د و نو ں اندھیرے میں ہی لڑ نا شر و ع ہو گئے تھے
اور نا یا ب ڈر کر ا یک کو نے میں چھپ گئی اسے نہیں معلو م تھا وہاں کیا چل ر ہا تھا لا ئیٹ جا نے پر سا جد ہ کو نا یا ب کا خیا ل آ یا وہ حما د کو لے کر اند ر کی طر ف د و ڑی تھی
شو ر کی آ و از سن کر ا مجد عا بد کو د ھکا د یتا و ہا ں سے بھا گ نکلا تھا سا جدہ نے بھی ا یک سا یہ جا تا د یکھا تھا پر اند ھیر ا اور ا ند ر سے آ تی نا یا ب کی چیخ پر وہ اس کی طر ف بھا گی تھی اند ر پہنچی تو لا ئٹ آ چکی تھی نا یا ب ز مین پر بیٹھی تھی اور عا بد نے اس کا با زو تھا ما ہو اتھا لا ئٹ آنے پر نا یا ب نے اسے و ہا ں د یکھ کر مز ید چیخ ما ر ی تھی اس نے ا مجد کو تو د یکھا نہیں تھا اور لڑا ئی کی و جہ سے عا بد کی شر ٹ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہو ئی تھی اس کو ڈر تا دیکھ کر وہ اس کی طر ف آ یا تھا اور اس کا با زو پکڑا تھا۔
سا جد ہ اور حما د کے اند ر آ نے پر نا یا ب بھا گ کر سا جد ہ کے سینے سے لگی تھی اور حما د غصے سے آ گے بڑ ھ کر اسے پیٹنے لگا تھا نا یا ب کی حا لت اور عا بد کے پھٹے کپڑ ے ا سے مجر م بنا چکے تھے۔
....................