aik thi salah
Episode # 14
نکا ح میں پند رہ دن رہ گئے تھے اور حو ر ین کو تو کو ئی سر ا نظر نہیں آ ر ہا تھا عا بد ا نکل کے کہنے پر اس نے تما پچھلے ملا ز مو ں کی جو بھی کا غذ ملے تھے ان سب کی تصا و یر ان کو بھیج دی تھی جو کہ اس نے ا سجد کی مدد سے حاصل کی تھی کیو نکہ گھر میں وہ ہی تھا جسے بغیر کسی تگ و دو کے دادو کی ا لما ری کی چا بیا ں مل گئی تھی جو کہ اس نے حما د کسی کا غذ کا کہہ کر لی تھی اور دا دو لو گ جب اس کے نکا ح کی تیا ری کے لیے با زا ر گئے تھے تو پیچھے سے ا سجد ہی نے تلا شی و غیر ہ لے کر ا سے سب کی تصا و یر دی تھی جو اس نے عا بد ا نکل کو بھیجی تھی جس کی طرف سے ا بھی کو جو ا ب نہیں آ یا تھا اور د و سر ی طر ف ا ر با ز کا کیس شر و ع ہو چکا تھا جس پر بھی کو ئی خاص کا میا بی کی ا مید نظر نہیں آ ر ہی تھی کیو نکہ مر یض کی فیملی نے خو د آ ر گن ٹر ا نسپلا نٹ و الے کا غذ سا ئن کیے تھے جب تک اس با ت کا ثبو ت نہیں مل جا تا کہ ان کے سا تھ غلط بیا نی کر کے وہ سا ئن لیے تھا تب تک کامیا ب ہو نا مشکل تھا۔
”انکل آ پ نے جو ڈ یٹا ما نگا تھا وہ میں نے د ے دیا تھا ا ب ا یک ہفتہ ہو گیا آ پ نے کو ئی جو اب نہیں دیا کو ئی سو ر ا خ ملا یا نہیں“عا بد ا نکل کی طر ف سے کو ئی ر یسپا نس نہ ملنے پر اس نے خو د ہی ان کو کا ل کر کے پوچھ لیا دا دو لو گ آ ج بھی با زا ر گئے تھے اور حو ر ین نے ملا ز مو ں کی طر ف سے بھی ا پنی تسلی کر کے ان کو کال ملا ئی تھی کیونکہ جو ں شا دی کے دن قر یب آ تے جا ر ہے تھے دادو کی اس پر نگر ا نی بڑ ھتی جا ر ہی تھی وہ اسی لیے ہر قد م پھو نک پھو نک کر رکھ رہی تھی۔
”اگر مجھے کچھ ملتا تو میں آپ کو خو د ہی کا ل کر لیتا بیٹا“ وہ ما یو سی سے بو لے تھے۔
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے ا نکل کو ئی تو سر ا غ ہو ہی گا“ وہ کمر ے کی کھڑ کی پا س آ کر کھڑی ہو گئی اور پر د ہ ہٹا کر با ہر د یکھا کہ کہیں کو ئی آ س پا س تو نہیں۔
”میں نے ان تما م ملا ز مو ں کا پتہ کیا ان میں سے جو بھی ملے تھے ان کو تو کچھ نہیں پتہ ایک کو بس اتنا پتہ تھا کہ اس نے اسے ر ات کے ا ند ھیر ے میں گھر سے با ہر جا تے د یکھا تھا اور اس کے سا تھ کو ئی اور بھی تھا اب پتہ نہیں وہ کو ن تھا اسے تو بلکہ یہ بھی نہیں پتہ وہ آ د می تھا یا عو رت تھی“ وہ ا یک گہر ی سا نس لے کر بو لتے چلے گئے اور ان کی با تیں اب حو ر ین کو بھی ما یو سی کے ا ند ھیر و ں میں د ھکیل ر ہی تھی۔
”انکل آ پ کہیں اور پتہ کر یں کہیں ہسپتا لو ں میں کہیں بھی ا یسا کیسے ہو سکتا ہے ز ند ہ ا نسا ن کا کہیں نہ کہیں کوئی تو سو ر ا خ تو ہو ہی گا نہ“ با ہر کسی کو بھی نہ پا کر وہ پر د ے مکمل طو ر پر ہٹا چکی تھی سا منے سو ر ج ڈ ھلنے والا تھا ابھی تک دا دو لو گ و اپس نہیں آ ئے تھے۔
”آ پکو کیا لگتا ہے میں کو شش نہیں کی ہو گی اب کی ہے اور آ ج سے چند سا ل پہلے بھی پر پتہ نہیں اسے زمین کھا گئی یا آ سما ن کو ئی نشا ن نہیں ا سکا مجھے لگا تھا شا ید اس گھر کے پر ا نے ملا ز مو ں کو کچھ پتہ ہو اس لیے آپ سے انکی معلو ما ت لی تھی پر جتنے بھی لو گ ملے ان میں بس ا یک نے ہی یہ بتا یا با قی تو یہ بھی نہیں جانتے“وہ بو ل ر ہے اور حو ر ین کو لگ رہا تھا جیسے وہ اس سے آ خر ی آ سر ا بھی چھین ر ہے تھے ”آ ئی ا یم سور ی بیٹاپر مجھے نہیں لگتا ہم کچھ کر پا ئے گے“ اس کی طر ف سے کو ئی جو اب نا پا کر وہ بھا ر ی د ل سے بولے تھے وہ اس کے آ سر ے یہا ں تک آ ئی اور آ گے سے وہ بھی اس کو کچھ نہیں دے پا ئے تھے حو ر ین رونے و ا لی ہو گئی تھی۔
Read More: Episode 1 Link......................
”کس سے با ت کر ر ہے تھے بابا وہ کا ل ر کھ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے تب ز ین کی آ و از ان کے کا نو ں سے ٹکر ا ئی تھی۔
”حو ر ین سے“ انہو ں نے اس با ر چھپا نے کی کو شش نہیں کی تھی نہیں تو ان کے سا تھ اس گھر میں کیا کچھ ہو چکا تھا اور وہ جو حو رین کا سا تھ د ے ر ہے تھے وہ اس کے بار ہا پو چھنے پر بھی انہو ں نے اسے کچھ نہیں بتا یا تھا۔
”با با میں نے آ پکو منع کیا تھا آ پ سے اس ز یا دہ قر یب مت ہو آپ جا نتے ہیں ان سب کا ا نجا م کیا ہو گا“ وہ ان کے سا منے بیڈ پر بیٹھتا ہو بو لا تھا وہ آ فس سے سید ھا ا ن کے پا س آ تا تھا اور اب بھی وہ و ہی سے آ ر ہا تھا ہا تھ میں بیگ تھا جو وہ بیڈ پر ہی ر کھ چکا تھا ان کے کمر ے میں د ا خل ہوتے و قت اس نے کے آخری ا لفا ظ سنے تھے۔
”جا نتا ہو ں پر اب نہیں ہو گا ا یسا“ وہ ما یو سی سے بو لے تھے۔
”با با آ پ ا یسا ہر با ر کہتے ہیں اور پھر د و دن بعد پھر سے با ت کر نے لگ جا تے ہیں“ وہ ہلکا سا مسکر ا یا تھا۔
”تمہیں پتہ ہے مجھے میر ے ا یک دو ست نے بتا یا ہے کہ اس ما ہ کی پند رہ کو حو ر ین کا نکا ح ہے“ انہو ں نے آ نکھیں کھو ل کر اس کی طر ف د یکھتے ہوئے بتا یا تھاز ین کی مسکر ا ہٹ ا یک پل میں سمٹ گئی تھی اور پھر بو لا تھا۔
”تو کیا ہوا با با آ ج نہیں تو کل یہ ہو نا ہی تھا آ پ کو معلو م ہی تھا“ وہ اس کے تا ثر ا ت د یکھ چکے تھے جا نتے تھے اسے بھی فر ق پڑ ا تھا پر وہ اس کے لیے کبھی ظا ہر نہیں کر ے گا۔
”تمہیں معلو م ہے مجھے لگا تھا سا جد ہ بیگم تب کا میا ب ہو گئی تھی کیو نکہ تب میں ا پنی ما ں کی و جہ سے کمز ور پڑ گیا تھا اسی لیے وہ نا یا ب اور صا لحہ دو نو ں کی ز ند گیو ں سے کھیلنے میں کامیا ب ہو گئی تھی پر اب نہیں ہو پا ئے گی میں ا نہیں حو ر ین کی ز ند گی سے نہیں کھیلنے دو ں گا پر تمہیں پتہ میں غلط تھا میں کمز ور تھا تب بھی اور اب بھی“ وہ تھکے تھکے سے لہجے میں بو لے تھے۔
”با با“ وہ آ گے بڑ ھا تھا اور ان کے ہاتھ پر ہاتھ ر کھاتھا ”ان سب میں آ پ کی کو ئی غلطی نہیں آ پ نے کوشش کی تھی تب بھی اور اب بھی“ وہ ان کو ہا تھ کو تھا متا ہو ا بو لا تھا۔
”ا یسا تمہیں لگتا ہے ز ین اگر میں اس و قت خو د غر ض نہ بنتا اور ا پنی ما ں کی با ت ما ن لیتا تو شا ید ا یک ز ند گی تو بچ جا تی شا ید وہ سب نہ ہو تا پھر پتہ اس معصو م کے سا تھ سا جد ہ نے کیا کیا ہو گا جو آ ج تک ا س کا کو ئی نام نشا ن نہیں مل پا یا“ ان کا لہجہ بھر ا گیا تھا ”میں نے اس شہر کا کو نہ کو نہ چھا ن ما ر ا پر کو ئی پتہ نہیں چل پا یا“ زین کچھ نہیں بو ل پا یا تھا ان کی آ نکھو ں میں پچھتا وا تھا آ نسو بھی تھے۔
”تم جا ؤ آ ر ا م کر و تھکے ہوئے آ ئے ہو“ اس کو پر یشا ن د یکھ کر وہ اپنے آ پ پر قا بو پا تے ہو ئے بو لے تھے ”میں بھی کچھ د یر آ را م کر و ں گا“ وہ لیٹتے ہو ئے بو لے تھے اور ز ین کچھ کہے بنا و ہا ں سے آ گیا اس کے الفاظ و یسے بھی ان کے ز خمو ں کو ا ور کر ید تے۔
اپنے کمر ے میں آ کر اس کا د ل بو جھل سا ہو گیا تھا ا یک تو با پ کا یہ حا ل د یکھ کر اور د و سر ا حو ر ین کا نکا ح کا سن کر وہ لا کھ کہہ لیتا ا سے فر ق نہیں پڑ تا وہ صر ف حو رین کو پسند کر تا ا س سے کو ئی د یو ا نہ و ا ر محبت تھو ڑی کر تا ہے پر آ ج اپنے با پ کے منہ سے نکا ح کا سن کر اس کی جو حا لت ہو ئی تھی اس نے بمشکل خو د کو قا بو کیا تھا۔
...................
حو ر ین آ ج کچہری آ ئی تھی بڑ ی مشکل سے نکا ح میں تھو ڑے د ن رہ گئے تھے اور دا دو چا ہتی تھی وہ جب تک تقر یب نہیں ہو جا تی تب تک نہ جا ئے پر وہ ا نہیں بڑ ی مشکل سے منا کر نکلی تھی گھر میں و یسے بھی چہل پہل بڑ ھتی جا ر ہی تھی انا بیہ کے با پ اور بھا ئی بھی آ چکے تھے اس کے نکا ح میں شر کت کے لیے اور یہ سب د یکھ کراس کا د م اور گھٹنا شر و ع ہو گیا تھا گھر میں جہا ں آ جکل صر ف ا یک ہی ٹا پک تھا اس کے نکاح کا اور ان سب سے فل حا ل کے لیے جا ن چھڑ ا نے کا حو ر ین کو صر ف یہ ہی حل نظر آ یا تھا۔
”کیا ہوا ا نکل آ پ کا فی پر یشا ن نظر آ ر ہے ہیں“ وہ ا نکل کے پا س چمبر میں آ ئی تو د یکھا کہ وہ سر پکڑ ے بیٹھے تھے وہ اس کے نکا ح کے با رے میں نہیں جا نتے تھے دا دو بتا نا چا ہتی تھی پر اس نے یہ کہہ د یا کہ وہ خو د بتا ئے گی وہ انہو ں پر یشا ن نہیں کر نا چا ہتی تھی کہ وہ ا س کیس پر پو ر ی طر ح د ھیا ن د ے اور ا س ا نسا ن کو بے نقا ب کر یں۔
”حو ر ین میں اس کیس کو جتنا آ سا ن سمجھ ر ہاتھا یہ ا تنا بھی آ سا ن نہیں ہے“ وہ سر ا ٹھا کر اس کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لے ”مجھے لگا تھا ا س جیسے ا نسا ن کے خلا ف ثبو ت اور گو ا ہ ڈ ھو نڈ نا آ سا ن ہی ہو گا میں نے اپناپو را ز ور لگا لیا اس کے ہسپتا ل سے کو ئی ثبو ت لینے کی پر کو ئی ا یک ا نسا ن بھی اس کے خلا ف ا یک الفاظ بھی بو لنے کے لیے تیا ر نہیں“ اور حو رین کے لیے اس ا یک ہفتے میں یہ د و سر ی نا کا می تھی نکا ح دن قریب تھے ا گر ا ر با ز کا پر دہ نہ فا ش ہوا تو وہ کیسے رو کے گی اس سب کو۔
”ا نکل آ پ ہمت نہ ہا ر ے کو ئی نہ کو ئی راہ نکل آ ئے گی اگر میں کسی طر خ آ پ کی مدد کر سکو ں تو بتا ئیے گا“ وہ ان کو حو صلہ د یتے ہوئے بو لی تھی اند ر کہیں وہ بھی محسو س کر رہی تھی کہ مشکل ہی تھا کہ کچھ ہو پا تا۔
”حو ر ین تمہا ر ے بھا ئی اور وا لد کے ہیں کچھ جا ننے و ا لے اس ہسپتا ل میں توا گر وہ کو ئی مدد کر سکے“ اشرف انکل کو ا چا نک یا د آ یا تھا ان کی فیملی جو بھی کبھی بیما ر ہو تا تو اس کا علا ج اس ہی ہسپتا ل میں کرو ا یا جا تا تھا تو عین ممکن تھاا ن کا کو ئی نہ کو ئی جا ننے و الا ضر ور ہو گا۔
”پتہ نہیں ا نکل مجھے تو“ وہ جو ا پنی سیٹ کی طر ف جا ر ہی تھی رک کر ا ن کی طر ف پلٹ کر بو لی ”ا گر کو ئی جاننے وا لا ہو ا بھی تو وہ ہما ر ی مدد نہیں کر ے گا آ پ تو کہہ رہے ہیں کہ کو ئی بھی اس کے خلا ف نہیں بو ل رہا“ وہ صا ف گو ئی ا پنے من کی با ت ا ن سے بو لی تھی وہ کو ئی جھو ٹی ا مید نہیں چا ہتی تھی اب تو کم ا ز کم۔
”آ پ با ت تو کر کے د یکھوکیا پتہ کو ئی ما ن ہی جا ئے ا گر کو ئی گو ا ہی نہ بھی اس کے خلا ف تو کو ئی ثبو ت ہی دے دے میں و عد ہ کر تا ہوں اس شخص کا نا م بھی نہیں آ نے دو ں گا وہ ا پنی با ت پر ز ور د یتے ہو ئے بو لے
تھے ا س و قت انہیں اور تو کو ئی امید نظر نہیں آ رہی تھی اب یہ ہی ا یک حل رہ گیا تھا۔
”ٹھیک ہے ا نکل میں کو شش کر و ں گی ا گر کچھ ہو سکا تو“ وہ اتنا ہی کہہ پا ئی تھی حو رین کو تو اب یہا ں سے بھی کو ئی خا ص ا مید نظر نہیں آ ر ہی تھی پر ا نکا د ل رکھنے کے لیے اس نے ا سجد سے با ت کر نے کا سو چا تھا۔
.....................
”یہ فا ئلز ملی سکی مجھے اور تو کچھ نہیں ملا“ وہ شا م کا کھا نا کھا کر اپنے کمر ے میں آ ئی کچھ یو نیو ر سٹی کا کا م تھا وہ کر نے تب ا سجد آ یا تھا ہا تھ میں فا ئلو ں کا ا یک ڈ ھیر لیے اشر ف انکل کے کہنے پر اس نے ا سجد سے مدد مانگی تھی جو کہ اس کی عجیب و غر یب ڈ یما نڈز پر حیر ا ن تھا پر بنا کچھ ما ن گیا اور ا پنے کسی د و ست سے کہہ کر تقر یبا ا یک ڈ یڑ ھ ہفتے میں جو کچھ مل پا یا تھا وہ تھا فا ئلو ں کا ڈ ھیر۔
”آ پکو یہ مل گئی وہ ہی کا فی ہیں“ وہ خو شی اور حیر ا نی کے ملے جلے تا ثر ات سے بو لی تھی ا سے تو ا تنے کی ا مید بھی نہیں تھی۔
”ہا ں مل تو گیا پر اب یہ کیا ہے وہ مجھے نہیں پتہ“ وہ میز کے سا تھ ٹیک لگا کر کھڑ ا ہو تا ہو ا بو لا تھا۔
”کو ئی بات نہیں وہ میں ا ور ا شر ف ا نکل خو د کر لیں گے آ پ بے فکر ر ہیں“ وہ فا ئلو ں ا یک تر تیب سے رکھتی ہو ئی بو لی تھی۔۔
”حو ر ین تمہیں پتہ ہے نہ نکا ح کی تقر یب میں صر ف تین د ن رہ گئے ہیں“ وہ پر یشا نی سے بو لا تھا ”اور تمہیں اس کی کو ئی پر و ا ہ نہیں اور پتہ نہیں کو ن کو ن سے جھنجھٹ میں پڑ ی ہو“ وہ اسکاد ھیا ن اسکے نکاح کی طر ف لا تا ہو بو لا تھا وہ چا ہتا تھا پہلے وہ اس مصیبت سے نکل جا تی پھر جو د ل کر تا کر لیتی۔
”جا نتی ہو ں آ پکو معلو م ہے یہ سب جو آ پ لے کر آ ئے ہیں وہ کس سے متعلق ہے“ وہ نفی میں سر ہلا گیا وہ تو کچھ بھی نہیں جا نتا تھا صر ف ا س لیے کر رہا تھا کیو نکہ اس نے حو ر ین سے و عد ہ کیا تھا وہ جو بھی کر ے گی وہ ا سکا سا تھ د ے گا۔
”یہ ا سی آ د می کے متعلق ہے اس پر میں نے آ پکو بتا یا تھا اشر ف ا نکل کیس لڑ ر ہے ہیں“ وہ فا ئلو ں ا یک طرف کر تے ہو ئے بو لی تھی۔
”حو رین تمہیں پتہ ہے کہ کو ر ٹ کچہر یو ں کے چکر و ں میں ز ند گیا ں گز ر جا تی ہیں اور ہما ر ے پا س ا تنا وقت نہیں ہے“ وہ د یوا ر چھو ڑ کر سید ھا کھڑا ہو تا ہو بو لا تھا۔
”آ پ کو پتہ ہے پہلے میں نے بھی ا مید چھو ڑ د ی تھی مگر اب لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ان فا ئلز میں ا یسا مل ہی جا ئے گا جس کو ثبو ت کے طور پر ہم گھر و ا لو ں کو د یکھا کر رو ک سکے گے ان کو ان کے ا س فیصلے سے پیچھے ہٹا سکے گے بغیر کسی ثبو ت کے تو آ پکو پتہ ہی ہے وہ کبھی بھی نہیں ما نے گے“ وہ اس کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی تھی جبکہ اس کے جو ا ب میں وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکا تھا جا نتا تھا وہ صیح کہہ ر ہی تھی۔
...................
حو ر ین نے وہ فا ئلیں رات کی اسی طر ح ر کھی ہو ئی تھی وہ چا ہتی تھی وہ ا شر ف ا نکل مل کر چھا ن بین کرے وہ صبح تیا ر ہو کر کچہر یا ں جا نے کا ا ر ا دہ کر رہی تھی کیو نکہ یو نیو ر سٹی سے تو اس نے کا فی د نو ں کا آف لے ر کھا تھا وہ چا ہتی تھی پو ری طر ح کیس پر تو جہ کر ے ا یک با ر یہ کیس حل ہو جا تا تواس نکا ح سے جا ن چھو ٹ جا تی اوروہ پھر سے صا لحہ کی کھوج جا ر ی کر پا تی وہ تیا ر ہو کر نکلی ہی تھی اس کی ما ں نے اسے ا طلا ع دی تھی کہ دا دی نے سختی سے منع کیا ہے اب وہ نکا ح کے بعد ہی گھر سے نکلے گی اس کا کہیں بھی آ نا جا نا بند تھا وہ غصے میں و ا پس ا پنے کمر ے میں آ ئی اور بعد میں خو د بھی دا دی کی منتیں و غیر ہ کی پر وہ کسی طر ح نہیں مانی تھی اسجد بھی گھر نہیں تھا با با نے ا سے بھی کہیں بھیجا ہو ا تھا ا گر وہ ہوتا تب اس کی مدد سے ہی کچھ نہ کچھ کر لیتی وہ۔
دو پہر کیبا رہ بج گئے اور ا سے لگ ر ہا تھا ا ب تو کو ئی آ سر ا نہیں تھا ا س نے ا سجد کو بار ہا کا لز کی پر اس کا نمبر بند جا ر ہا تھا وہ تھک ہا ر کر بیٹھ گئی تب اشر ف ا نکل کی کا ل آ ئی تھی وہ ا س کے نہ آ نے کی و جہ پو چھ ر ہے تھے
جنہیں وہ طبیعت خر ا بی کا بتا کر ٹا ل گئی وہ انہیں چا ہ کر بھی ا پنے نکا ح کا نہیں بتا پا ئی فو ن ر کھ کر وہ بے بسی سے ا د ھر ا د ھر د یکھنے لگی تب اس کی نظر سا منے پڑ ی فا ئلو ں پر گئی جن کے با ر ے میں ا بھی ا س نے ا شرف انکل کو نہیں بتا یا تھا وہ ا ٹھی اور سب کی سب کو بیڈ پر لا کر پڑ ھنے لگی ا گر کوئی تھو ڑا سا بھی پختہ ثبو ت مل جا تا تو وہ یہ سب یہیں ختم کر سکتی تھی ان میں سے پند ر ہ فا ئلیں ا یسے لو گو ں کی تھی جو کے ار با ز کے لا لچ کے نظر ہوئے تھے اور ا یک کر کے ہر فا ئل کو غو ر سے پڑ رہی تھی تب اس کی نظر ا یک فا ئل پر ٹھہر گئی اس پر وہ ہی نام لکھا تھا جسے ڈ ھو نڈ نے کے لیے وہ پا گلو ں کی طر ح دن ر ات کو شش کر ر ہی تھی اور اس فا ئل کو کھو لنے سے پہلے اس نے کتنی ہی د عا ئیں کی تھی کہ کا ش وہ نہ ہو جو وہ سو ش ر ہی تھی پر فا ئل کھو لنے پر سا منے اس ہی کی تصو یر لگی تھی وہ چہر ہ جو وہ کبھی بھی بھو ل نہیں پا ئی تھی صا لحہ ا بر ا ہیم کا۔
”اسے ر ا ت کے و قت گھر سے نکلتے د یکھا گیا تھا اس کے سا تھ کو ئی ا ور بھی تھا“ کا نو ں میں عا بد ا نکل کی آواز گو نجی تھی۔
”ا پنی حد میں ر ہو لڑ کی اور ر ہی با ت ضمیر کی اور ملا مت کی جا کے ا پنی دا دی سے پو چھے جیسے وہ سکو ن سے سوتی میں بھی و یسے ہی سو تا ہوں“ار با ز کی با ت یا د آ ئی تھی اسکا چہر ہ جو کے اس کی دا دی کے ذکر پر حقا رت سے بھر ا تھا اور کچھ لمحے لگے تھے حو ر ین کو گتھی سلجھا نے میں اور جس نتیجے پر وہ پہنچی تھی اس کا تو اسے کبھی وہم و گما ن بھی نہ تھے وہ فا ئل کو وہ ر کھتی ننگے پا ؤ ں با ہر کی طر ف بھا گی تھی چہر ے ا یسے تھا جیسے ا بھی رہ دے گی اور دا دو کا پتہ کر تی کچن کی طر ف آ ئی جہا ں وہ کھا نے میں نمک مر چ د یکھ ر ہی تھی اور کو ئی بھی نہیں تھا وہ خو د پر رکھتی ان کے پا س آ ئی۔
”ا چھا ہو ا تم خو د ہی آ گئی نہیں تو میں آ نے و ا لی تھی تمہیں خو د کھا نے پر بلا نے“ وہ اس کو د یکھ کر مسکر ا تے ہوئے بو لی تھی اور اس و قت حو رین کو ان کی یہ مسکر ا ہٹ ز ہر لگ رہی تھی۔
”دادو صا لحہ کہا ں ہیں“ وہ سختی سے بو لی تھی آ نکھو ں سے لگ ر ہا تھا کسی و قت بھی ر ود ے گی۔
”اوہ تو لگتا ہے جو اس د ن تمہا ر ے سا تھ ہوا وہ کا فی نہیں تھا تمہیں کیا لگتا حو ر ین تم مجھے عز یز ہو تو میں تمہاری ہر بد تمیز ی کو بر د ا شت کر و ں گی اب د یکھو میں کیا کر تی ہو تمہا ر ے سا تھ“ حو رین کی بات پر انکی مسکر ا ہٹ سمت گئی تھی اور روہ بھی ز ہر خند لہجے میں کہتی کچن سے نکل کر لا ؤ نج کی طر ف بڑ ھی تھی جہا ں سب جمع تھے اور حو ر ین بھی ان کے پیچھے پیجھے چل پڑ ی تھی را ستے میں وہ سا منے سے آ تی انا بیہ سے ٹکر ا ئی تھی پر اس کو نظر ا ندا ز کیے وہ بھی لا ؤ نج میں د ا خل ہو ئی پیچھے وہ بھی اسے آ و ا ز یں د یتی ا ند ر آ ئی تھی و ہا ں سار ے جمع تھے ا سجد بھی جو نہ جا نے کب آ یا تھا یا پھر کا غذو ں میں کھبی حو ر ین کو و قت گز ر نے کا ا حسا س نہیں ہو ا تھا دادو نے اند ر آ تے ہی وا ویلا ڈ ا لنا شر و ع کر د یا تھا اور اس کے آ نے پر اس کی طر ف د یکھ کر کہا تھا اب پو چھو جو پو چھنا ہے حو ر ین نے ان کے چہر ے کی طر ف د یکھا جن کی آ نکھو ں میں ا یک چیلنج تھا کہ ہمت تو ا ب بو لو جو کہ حو ر ین کے ضبط کو پو ر ی طر ح تو ڑ چکا تھا وہ نہیں چا ہتی تھی کہ سب کے سا منے ان کا تما شا بنتا پر اب شا ید اس کی ضر و رت نہیں تھی۔
ا نہیں لگا تھا وہ اس د ن کی طر ح ڈر کر چپ ہو جا ئے گی ا گر وہ ا س کی آ نکھو ں میں غو ر سے د یکھتی تو ا یسی حماقت کبھی بھی نہ کر تی وہ کسی کے کچھ بو لنے سے پہلے ہی سا جد ہ کے سا منے آ کھڑ ی ہو ئی تھی اور ا س کی آنکھو ں میں آ نکھیں ڈ ا لتی بو لی۔
”میں نے پو چھا دا دو صا لحہ کہا ں ہے“ اس کی اس بہا دری پر دا دو د نگ رہ گئی تھی۔
”کیا کیا آ پ نے اس کے سا تھ بو لتی کیو ں نہیں“ اب کی باروہ ان کو پکڑ جھنجھو ڑتے ہو ئے پو ر ی قو ت سے چلا ئی تھی۔
اور اس گھر کی در دیو ار نے پو ر ے پند رہ یا سو لہ سا ل بعد یہ نا م یو ں سر عا م سنا تھا نہیں تو عر صہ ہو گیا تھا اس نا م کو ان دیوا رو ں میں د فن ہوئے۔
...........................