Guman e Zanjeer
Episode # 2
یار! شروع میں یہ یونیورسٹی جتنی بڑی لگتی تھی، اب اتنی ہی چھوٹی معلوم ہوتی ہے،" اس نے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر قدم رکھتے ہی اپنے دوست سے کہا۔
یونیورسٹی اپنی وسعت میں اچھی خاصی نظر آ رہی تھی۔
"رضا! جب سے ہمارا ساتواں سمیسٹر شروع ہوا ہے، ہم جب بھی یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں، تمہاری یہی ٹیپ ریکارڈنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اب تو سمیسٹر ختم ہونے کو آیا، لیکن پتہ نہیں تمہیں یہ راگ الاپ کر کیا سکون ملتا ہے؟" ادریس کے چہرے پر صاف بیزاری تھی۔
"سمیسٹر کہاں ختم ہوا یار! یہ سمر بریکس بھگتیں گے، تب جا کر جان چھوٹے گی۔ کیسے استاد تھے، سیدھا فیل ہی کر دیا۔ تم مانو یا نہ مانو، یہ صرف فیسیں بٹورنے کا دھندا ہے، ورنہ پاس کرنا کوئی مشکل نہیں تھا،" رضا کا پرانا زخم ایک بار پھر ہرا ہو گیا تھا۔
"ارے یار، آہستہ بول! کسی نے سن لیا تو۔۔۔" اس نے چور نظروں سے ارد گرد کے طلبہ کو دیکھا۔
"کوئی سنتا ہے تو سنے، میری بلا سے! ادریس جواد، تم تو پیدا ہی بیزار ہوئے تھے۔ میں تو اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب کی بار جو جونیئرز آئیں گے، وہ شروع میں اپنی کلاسیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے خوار ہوں گے اور سمجھیں گے کہ کسی بہت بڑی یونیورسٹی میں آ گئے ہیں، لیکن ایک ہی سمیسٹر میں ان کا یہ بھوت بھی اتر جائے گا۔ ہاہ ہاہ!" وہ اپنا غم بھول کر ، اپنی پہلی بات کی وضاحت کرتا ، جونیئرز کی متوقع درگت کے مزے لے رہا تھا کہ یکدم ٹھٹھک گیا۔
"تم جونیئرز کی فکر چھوڑو اور چلو، کلاس کے لیے دیر ہو رہی ہے،" ادریس نے اسے ٹوکنا چاہا، لیکن رضا کو کسی لڑکی پر نظریں جمائے دیکھ کر اس کے اپنے قدم بھی وہیں رک گئے۔
----------------
"والدہ! آپ کو کیا ضرورت تھی نور زہرہ سے میرا رشتہ طے کرنے کی؟ وہ مجھ سے دس سال چھوٹی ہے۔" وہ سخت پریشان نظر آ رہا تھا۔
"سراج! تو وہ بھی تو تم سے نو سال چھوٹی تھی،" انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا۔
"والدہ! پہلے بھی آپ نے ہی رشتہ طے کیا تھا لیکن میں چپ رہا۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے اور اب آپ نے پھر۔۔۔ اف! آپ نے یہ کیا کیا؟ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی، والدہ؟"
اس وقت وہ سفید شلوار قمیض میں بہت پروقار لگ رہا تھا۔ اس نے بے بسی سے اپنا سر پکڑ لیا۔
"بیٹا! وہ جو بھی سوچے، میں کچھ نہیں جانتی۔ میرے معصوم بیٹے کا دل ٹوٹا ہے اور عزت صرف عورت کی نہیں، مرد کی بھی ہوتی ہے!" غصے کے مارے انہوں نے ہاتھ میں پکڑا گلاس نیچے دے مارا۔
"ریلیکس، والدہ۔۔۔ آپ اس عزت کی خاطر ایک کم عمر لڑکی کی زندگی تباہ کر رہی ہیں۔ ہر دفعہ ایک کی غلطی کا خمیازہ دوسرا کیوں بھگتے؟ یہی تو روایت چلی آ رہی ہے؛ باپ کرے تو بیٹی کی صورت میں، بھائی کرے تو بہن کی صورت میں اور شوہر کرے تو بیوی کی صورت میں۔۔۔ آخر عورت ذات ہی کیوں بھگتے؟ میرا دل نہیں ٹوٹا، والدہ! آپ پلیز کچھ کر کے یہ رشتہ ختم کر دیں۔۔۔ اچھا، میں اب کام کے لیے نکلتا ہوں۔" وہ ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر باہر نکل گیا۔
وہ ایک چھوٹی سی ملازمت کرتا تھا۔
"تم میری صابر اولاد ہو۔ ایک ماں سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس کے بیٹے کا دل ٹوٹا ہے یا نہیں۔ تم لاکھ چھپاؤ، لیکن مجھے سب نظر آتا ہے۔ شادی تو تمہاری نور زہرہ سے ہی ہوگی۔۔۔ میں مصباح سے بات کرتی ہوں۔" وہ یہ کہتی ہوئی اپنا موبائل ڈھونڈنے لگیں تاکہ مصباح سے بات کر سکیں۔
-----------
