Guman e Zanjeer episode # 3 - Urdu Novel

 

Guman e Zanjeer

Episode # 3

ہسپتال ،ایک ایسی جگہ جہاں کوئی بھی اپنی مرضی سے قدم نہیں رکھنا چاہتا، لیکن زندگی کی ڈور بچانے کی تڑپ انسان کو یہاں کھینچ ہی لاتی ہے۔ ایسے ہی میں، وہ ہسپتال کے ایک کمرے میں ڈاکٹر کی میز کے سامنے بیٹھی تھی۔ "ڈاکٹر! آپ سچ کہہ رہے ہیں نا؟ کیا… کیا اس سے میرے بابا بالکل ٹھیک ہو جائیں گے؟" اس نے میز کی دوسری طرف بیٹھے ڈاکٹر کی طرف جھکتے ہوئے بے قرار آواز میں پوچھا۔ درمیانی عمر کے ڈاکٹر نے سنجیدگی سے اپنا چشمہ اتارا اور میز پر رکھتے ہوئے گہرا سانس لیا، "بیٹا! حقیقت یہ ہے کہ آپ کے والد کسی انتہائی گہرے صدمے کی گرفت میں ہیں۔ ان کا ذہن اس سچائی کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ ایسے نازک موڑ پر اگر یہ قدم اٹھایا جائے، تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ اس کیفیت سے باہر آ جائیں۔" "پھر تو میں یہ قدم ہر حال میں اٹھاؤں گی!" پونی ٹیل میں بندھے بالوں والی لڑکی نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے پورے عزم سے کہا۔ ڈاکٹر نے اس کی ہمت کی داد دیتے ہوئے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔ "کون سا قدم؟" اچانک پیچھے سے آواز اُبھری ۔ دروازے پر کھڑے شخص کو دیکھ کر لڑکی کے وجود کا خون جیسے جم گیا، اور وہ وہیں ساکت رہ گئی. --------------
یہ تم اس لڑکی کو کیوں گھور رہے ہو؟" ادریس نے اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارا تو وہ تلملا اٹھا۔ "یار مار کیوں رہا ہے؟ میری تو بس یونہی نظر پڑ گئی تھی۔" اس نے سر سہلاتے ہوئے صفائی دی۔ "تمہیں پتا ہے، یہ لڑکی ٹاپر ہے! لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں یہ اب تک سمر کیمپس لے رہی ہے؟" اس نے رازدارانہ لہجے میں معلومات شیئر کیں۔ "وہ سمر کیمپس لے یا آسمان سے چھلانگیں لگائے… تمہیں اس سے کیا؟" ادریس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے آگے بڑھنا شروع کر دیا کیونکہ ان کا ڈیپارٹمنٹ کافی دور تھا اور وہاں پہنچنے میں ابھی وقت لگنا تھا۔ ادریس کی بات پر وہ بے اختیار ہنس پڑا، اور اسی لمحے پاس سے گزرنے والی دو لڑکیاں اس ہینڈسم
سے لڑکے کو دیکھ کر دبی دبی مسکراہٹ اچھالتی ہوئی آگے نکل گئیں۔
یار! بس ایک تجسس تھا… دیکھو، لڑکیاں مجھے دیکھ کر کیسے مسکراہٹیں بکھیرتی چلی جاتی ہیں،" رضا نے فخر سے گردن اکڑاتے ہوئے ہوا میں شوخی اڑائی۔ "مسکراہٹ بکھیرنے کا مطلب یہی ہے کہ ان میں حیا نہیں ہے، لیکن تم ذرا یہ بتاؤ کہ تمہیں اس لڑکی کے بارے میں کیسے پتا چلا؟" ادریس نے اسے ٹوکنے کے بعد گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "میں کیوں بتاؤں؟ وہ چھلانگیں لگائے یا سمر کیمپس لے… مجھے کیا اور تمہیں کیا؟" رضا نے کندھے اچکا کر شرارت سے مسکراتے ہوئے ادریس کی ہی بات اس پر لوٹا دی۔ "نہ بتاؤ! میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا،" ادریس نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے مکمل بے نیازی دکھائی۔ دونوں کچھ منٹ تک خاموشی سے آگے بڑھتے رہے، لیکن رضا سے زیادہ دیر صبر نہ ہو سکا۔ "یار! اصل میں، میں وہاں سے گزر رہا تھا تو بس اتفاقاً میرے کان میں آواز پڑ گئی تھی،" رضا نے ادریس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے خود ہی خاموشی توڑ دی۔ اچھا، یہ بات ہے! لیکن اچھے لڑکے لڑکیوں کی باتیں نہیں سنتے،" ادریس نے کسی مولوی کی طرح اسے نصیحت کی۔ اسے کسی لڑکی کے سمر کیمپس میں کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن جو مزہ رضا کو تنگ کرنے میں آتا تھا، وہ کہیں اور کہاں تھا! "یار! مجھ سے کان بند نہیں ہوتے۔ اور پھر اس کی دوست کی آواز اتنی اونچی تھی... غلطی اس کی تھی، میرے کانوں کا کام تو سننا ہے، سو انہوں نے سن لیا،" رضا نے نصیحت کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لیتے ہوئے جواب دیا۔ "اچھا، اب اتنے سنجیدہ بھی نہ ہو، لیکن تم لڑکیوں کے پاس سے گزرے ہی کیوں؟" ادریس نے ایک نئی غلطی ڈھونڈ نکالی۔ "ہر بات میں میری ہی غلطی نکالنا!" اس نے خفگی سے نتھنے پھلائے، "وہ تو مجبوری میں وہاں سے گزرنا پڑا۔" "نتھنے نہ پھلاؤ! اگر کلاس کے لیے لیٹ ہوئے نا، تو سر قمر تمہارے یہی نتھنے نکال دیں گے،" ادریس کے اس فقرے پر وہ مزید چڑ گیا۔ -------------

جا ری ہے

Episode # 1 Link                                                        Previous Episode Link

Guman e Zanjeer episode # 3 - Urdu Novel



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.